وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور سے لوکل گورنمنٹ ایسوسی ایشن کے وفد نے ملاقات کی۔ وفد کی قیادت لوکل گورنمنٹ ایسوسی ایشن کے صدر اور تحصیل میئر مردان حمایت اللہ مایار کر رہے تھے۔ ملاقات میں وفاق سے جڑے صوبے کے مالی مسائل سے متعلق معاملات پر گفتگو ہوئی ۔ ان مسائل میں این ایف سی میں ضم اضلاع کا شئیر، نیٹ ہائیڈل پرافٹ کی مد میں بقایاجات اور ٹوبیکو سیس شامل ہیں۔ منتخب بلدیاتی نمائندوں کا صوبے کے آئینی حقوق کے حصول کی جدو جہد میں صوبائی حکومت کا بھر پور ساتھ دینے کا اعلان کیا گیا ۔ 25 فروری کو صوبہ بھر کی تحصیل کونسلز کا اجلاس منعقد کرکے اس سلسلے میں قرارداد منظور کی جائے گی، قرارداد میں وفاقی حکومت سے صوبے کے آئینی شیئرز کی جلد ادائیگی کا مطالبہ کیا جائے گا، ملاقات میں فیصلہ ہوا۔وفاق کی طرف سے یہ شیئر نہ ملنے کی صورت میں صوبہ بھر کے منتخب بلدیاتی نمائندے وزیراعلٰی کی سربراہی میں بھر پور احتجاج کریں گے، ملاقات میں اتفاق کیا گیا۔ وفد نے یقین دہانی کروائی کہ ضرورت پڑنے پر سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے گا اور صوبے کا مقدمہ عدالتی فورم پر لڑیں گے، صوبے کے جائز اور آئینی حقوق کے حصول کی جدوجہد میں وزیراعلیٰ کا بھرپور ساتھ دیں گے۔یہ صوبے کے عوام کے حقوق کا معاملہ ہے، اس پر کوئی سیاست اور سمجھوتہ نہیں کریں گے، اس مقصد کے لئے سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر صوبائی حکومت کا بھر پور ساتھ دیں گے۔ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ سابقہ قبائلی علاقوں کو صوبے میں ضم ہوئے 6 سال ہوئے لیکن این ایف سی میں ان علاقوں کا شئیر نہیں مل رہا، اس مد میں صوبائی حکومت کو سالانہ ڈھائی سو ارب روپے سالانہ ملنے ہیں، پن بجلی کے خالص منافع کی مد میں وفاق کے ذمے صوبے کے 22 سو ارب روپے واجب الادا ہیں۔ ٹوبیکو سیس کی مد میں صوبائی حکومت کو سالانہ 225 ارب روپے ملنے ہیں۔ ملاقات میں بلدیاتی حکومتوں کو درپیش مسائل پر بھی بات چیت۔ وزیراعلیٰ کی بلدیاتی نمائندوں کو درپیش مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی۔وزیر اعلٰی علی امین گنڈاپور نے کہا کہ
بانی چئیرمین پی ٹی آئی کے وژن کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کو با اختیار بنائیں گے، اس مقصد کے لئے متعلقہ قوانین میں ضروری ترامیم کی جائیں گی۔ بلدیاتی نمائندے براہ راست عوام کے ووٹ سے منتخب ہوئے ہیں انہیں با اختیار بنایا جائے گا، بلدیاتی نمائندے وفاق سے صوبے کے حقوق لینے میں اپنا کردار ادا کریں۔






