وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا گھوٹکی کندھ کوٹ زیرتعمیر پل کا دورہ،3 ماہ کے اندر پائلنگ مکمل کرنے کی ہدایت

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا گھوٹکی-کندھ کوٹ زیر تعمیر پل (کندھ کوٹ سائیڈ) کا دورہ، ورک اینڈ سروسز ڈپارٹمنٹ کو پائلنگ کا کام تین ماہ کے اندر مکمل کرنے کی ہدایت جبکہ منصوبے کی آئندہ سال تک تکمیل کےلیے پولیس اور رینجرز ضروری سیکیورٹی فراہم کریں گے۔

ورکس اینڈ سروسز ڈپارٹمنٹ گھوٹکی اور کندھ کوٹ کے درمیان براہ راست سڑک رابطہ فراہم کرنے کےلیے دریائے سندھ پر پل تعمیر کر رہا ہے۔ یہ نیا پل سفری سہولیات میں نمایاں بہتری لائے گا اور فاصلہ تقریباً 120 کلومیٹر کم کر دے گا۔

گھوٹکی-کندھ کوٹ پل کی اسٹریٹجک اہمیت

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گھوٹکی کو ایک ابھرتا ہوا صنعتی مرکز قرار دیتے ہوئے کہا کہ کندھ کوٹ مجوزہ پاک-چین اقتصادی راہداری کے راستے پر واقع ہے۔ دونوں علاقے ملک کے بڑے تیل و گیس کے ذخائر، توانائی کے منصوبوں اور کھاد کے کارخانوں کا مرکز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیا پل موجودہ 151 کلومیٹر کے فاصلے کو کم کرکے تقریباً 30 کلومیٹرتک لے آئے گا جس سے معاشی سرگرمیوں اور علاقائی تجارت کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے منصوبے کی فوری تکمیل کی ضرورت پر زور دیا۔منصوبے کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے سیکیورٹی فورسز کو تعینات کر دیا گیا ہے۔ پاکستان رینجرز کے 40 اہلکار سائٹ پر تعینات ہیں جن کے ساتھ دو چوکیاں اور تین گشتی گاڑیاں بھی متعین کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ سندھ پولیس کے 50 اہلکار منصوبے کے راستے میں چار چوکیوں پر تعینات ہیں جو ایک پولیس گاڑی اور ایک بکتر بند پرسنل کیریئر ( اے پی سی ) سے لیس ہیں۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے تین بیرکس کی تعمیر مکمل کرنے کا حکم دیا جن میں سے ایک جو کلومیٹر 20+800 پر واقع ہے اور تقریباً مکمل ہو چکی ہے جبکہ جزوی طور پر زیر استعمال ہے۔ انہوں نے 21 پولیس چوکیوں کی تعمیر کی ہدایت بھی دی جن میں سے چھ مکمل ہو کر ضلعی پولیس کے حوالے کی جا چکی ہیں۔ تاہم دریائے سندھ کی کارڑو پتن شاخ کی وجہ سے چوکی نمبر سات اور آٹھ تعمیر نہیں کی جا سکیں۔ وزیر اعلیٰ نے پولیس ڈپارٹمنٹ کو ہدایت دی کہ ان چوکیوں کے متبادل مقامات کا تعین کیا جائے۔

دورے کے دوران وزیر اعلیٰ سندھ کو آگاہ کیا گیا کہ اگرچہ دریا کے کنارے کی زمین سرکاری ملکیت میں شامل ہے لیکن مقامی افراد نے اسے زرعی مقاصد کے لیے قبضے میں لے رکھا ہے اور تعمیراتی راہداری خالی کرنے سے انکار کر رہے ہیں جس کی وجہ سے پل کی تعمیر میں تاخیر ہو رہی ہے۔ اس پر وزیر اعلیٰ نے محکمہ ریونیو اور پولیس کو ہدایت دی کہ زمین واگزار کرائی جائے اور تعمیراتی کام فوری طور پر بحال کیا جائے۔

گھوٹکی-کندھ کوٹ پل کے تعمیراتی کام کی پیش رفت

وزیر اعلیٰ سندھ کو آگاہ کیا گیا کہ سیکشن 1 میں 10.44 کلومیٹر گھوٹکی اپروچ روڈ کا 63 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ ایمبینکمنٹ 95 فیصد ، سب گریڈ 94 فیصد، سب بیس 93 فیصد اور ایگریگیٹ بیس 68 فیصد مکمل ہوچکا ہے۔ مزید برآں جری واہ، گھوٹا فیڈر کینال اور تبی مائنر پر تین پل مکمل ہو چکے ہیں اور تمام 38 پائپ کلورٹس بھی مکمل کر لیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ، تین پولیس چوکیوں کی تعمیر جاری ہے۔

دریائے سندھ پر 12.2 کلومیٹر طویل پل

سیکشن 2 میں اب تک 14 فیصد پیش رفت ہوئی ہے۔ پائلز 377، شافٹ 330 اور 89 ٹرانسومز کاسٹ کیے جا چکے ہیں۔ پائلنگ کا کام سیلاب کے بعد 27 اکتوبر 2024 کو دوبارہ شروع کیا گیا۔ اب تک چھ پولیس چوکیوں کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے جبکہ مزید دو چوکیوں کے مقامات کے لیے ضلعی منظوری کا انتظار ہے۔

سیکشن (3) 8.44 کلومیٹر کندھ کوٹ اپروچ روڈ

اس حصے کی تعمیر میں 70 فیصد پیش رفت ہوئی ہے۔ ایمبینکمنٹ 85 فیصد ، سب گریڈ 78 فیصد ، سب بیس 78 فیصد، ایگریگیٹ بیس 77 فیصد ، اسفالٹک بیس 76 فیصد مکمل کیے جاچکے ہیں۔ مزید برآں ہیبت شاخ اور بی ایس فیڈر کینال پر دو پل مکمل ہوچکے ہیں جبکہ پانچ پائپ کلورٹس بھی مکمل کر لیے گئے ہیں۔ مقامی افراد کی مزاحمت کے باعث کلومیٹر 29+600 سے آگے تعمیراتی کام رک گیا تھا جو حکومتی مداخلت کے بعد 19 فروری 2025 کو دوبارہ شروع ہوا۔ تاہم نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی زیر التوا منظوریوں کے باعث سڑک کی تعمیرات میں بیوروکریٹک تاخیر کا سامنا ہے۔

تھل لنک روڈ (4.548 کلومیٹر)

پر 81 فیصد پیش رفت ہو چکی ہے جبکہ ایمبینکمنٹ 98 فیصد ، سب گریڈ 94 فیصد، سب بیس 94 فیصد، ایگریگیٹ بیس 92 فیصد ، اسفالٹک بیس 90 فیصد مکمل کیے جاچکے ہیں، مزید برآں ایک ٹو سیل باکس کلورٹ اور 12 پائپ کلورٹس مکمل کیے جا چکے ہیں جبکہ پارکو کے لیے دو پائپ لائن پروٹیکشن اسٹرکچرز بھی تیار کر لیے گئے ہیں۔ تاہم زمین کے مالکان معاوضے کے مسائل حل ہونے تک زمین خالی کرنے سے انکار کر رہے ہیں جس کی وجہ سے تعمیراتی کام میں تاخیر ہو رہی ہے۔ان مشکلات کے باوجود منصوبے کی تعمیر مستحکم رفتار سے جاری ہے۔ تکمیل کے بعد یہ پل نہ صرف سفری سہولیات میں نمایاں بہتری لائے گا بلکہ خطے میں معاشی ترقی اور تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ دے گا۔

جواب دیں

Back to top button