میونسپل کارپوریشن گوجرانوالہ میں غیر قانونی کمرشل تعمیرات میں ملوث ایڈمنسٹریٹرز، چیف افسران،اہلکاروں کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی کی سفارش

میونسپل کارپوریشن گوجرانوالہ میں غیر قانونی کمرشل تعمیرات میں ملوث ہونے پر ایڈمنسٹریٹرز، چیف افسران کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔میونسپل کارپوریشن گوجرانوالہ میں 19 غیر قانونی کمرشل تعمیرات میں مکمل قوانین کی خلاف ورزیاں ثابت ہو گئی ہیں۔جن میں ایک جی ڈی اے اور 18 ایم سی کے کنٹرولڈ ایریا میں تعمیر کروائی گئی ہیں۔2020 سے اب تک کے ایڈمنسٹریٹرز اور چیف افسران کو بھی ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔جنھوں نے لینڈ یوز رولز کے مطابق ڈی پی ڈی سی سے منظوری حاصل کئے بغیر کمرشلائزیشن کی۔سڑکوں اور تعمیرات کو ازخود کمرشل ڈکلیئر کر کے اختیارات سے تجاوز کیا گیا۔محکمہ بلدیات پنجاب کی طرف سے انکوائری ڈائریکٹر آرکیٹیکٹ میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور ڈاکٹر رائے امتیاز حسن نے مکمل کی ہے جو ملوث افسران اور اہلکاروں کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی کے لئے 27 فروری کو واپس بھجوائی گئی تاہم ڈائریکٹر جنرل سی اینڈ آئی کو طرف سے ابھی تک شوکاز نوٹس جاری نہیں کئے ہے۔کمپلینٹ اینڈ انکوائریز ڈائریکٹوریٹ کی طرف سے انکوائری کو دبایا جا رہا ہے۔میونسپل کارپوریشن گوجرانوالہ کے جو پانچ بلڈنگ انسپکٹرز اور انفورسمنٹ انسپکٹرز غیر قانونی کمرشل تعمیرات میں ملوث پائے گئے ہیں۔ان میں رانا عبدالحسیب، سبحان رشید،ارسلان یوسف،عثمان شفیق اور ساجد امین شامل ہیں۔انکوائری رپورٹ کے مطابق اگر پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی ہوتی ہے تو 2020 سے اب تک میونسپل کارپوریشن گوجرانوالہ میں تعینات تمام ایڈمنسٹریٹرز اور چیف آفیسرز شکنجے میں آئیں گے۔

جواب دیں

Back to top button