ڈپٹی کمشنر سید موسیٰ رضا اور چیف آفیسر شاہد عباس کاٹھیا کی نگرانی میں شالیمار مین بلیوارڈ اور داتا گنج بخش مارکیٹ کے اطراف پانچ غیر قانونی عمارتیں مسمار کیں۔ میٹروپولیٹن کارپوریشن کے پلاننگ ونگ نے جدید جی آئی ایس ٹیکنالوجی سے ان مقامات کی نشاندہی کی اور قانونی نوٹسز اور عوامی سماعتوں کے بعد مسماری کی کارروائی عمل میں لائی۔

مالکان نے لائسنس اور فائر سیفٹی کلیئرنس حاصل کرنے کی کوشش کی مگر وہ بلڈنگ کنٹرول آرڈیننس کی شرائط پوری نہ کرسکے۔ مسماری کا شیڈول ٹریفک کے کم بوجھ والے اوقات میں ترتیب دیا گیا، تاکہ کاروبار اور آمد و رفت متاثر نہ ہوں۔ نشانے پر دو چار منزلہ رہائشی بلاکس، ایک پارک کے راستے پر بنائی گئی کمرشل عمارت اور دو ملٹی یوز یونٹس شامل تھے۔ جنوری 2025 سے اب تک بارہ غیر قانونی ڈھانچے ہٹائے جاچکے ہیں، جس سے سڑکوں پر حادثات کی شرح 15 فیصد کم ہوئی ہے۔ شہریوں کو سہولت دینے کے لئے ایک ہاٹ لائن اور آن لائن پورٹل بھی قائم کیا گیا، جہاں ایک ماہ میں ایک ہزار سے زائد پرمٹ درخواستیں موصول ہوئیں۔ اس کے علاوہ، پلاننگ ونگ نے سو سے زیادہ ٹھیکیداروں اور انجینئروں کے لیے ورکشاپس کا اہتمام کیا تا کہ تعمیراتی اصول اور حفاظتی معیارات سے آگاہ رہیں۔ ڈپٹی کمشنر سید موسیٰ رضا نے کہا، “غیر قانونی تعمیرات قانون کی خلاف ورزی کے ساتھ لوگوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالتی ہیں اور شہر کے منصوبہ بندی کے عمل کو متاثر کرتی ہیں۔” چیف آفیسر کاٹھیا نے اعلان کیا کہ تمام زونز میں سرپرائز معائنہ جات جاری رہیں گے اور کسی بھی خلاف ورزی پر فوری کارروائی ہوگی۔ یہ آپریشن پچھلے ماہ مارکیٹ تجاوزات کی صفائی اور مال روڈ پر ٹریفک بہاؤ میں بہتری کے بعد شہر میں بہتر نظم و ضبط کے عزم کا حصہ ہے۔ مستقبل میں مزید تعمیری اقدامات، شفاف آن لائن سروسز اور باقاعدہ جائزوں کے ذریعے انتظامیہ لاہور کو ایک محفوظ اور منظم شہر بنانے کے اپنے مشن پر قائم رہے گی۔






