وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت کوئٹہ کی ترقی و صفائی سے متعلق اہم اجلاس

کوئٹہ: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کی خوبصورتی، صفائی اور ترقی سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں کمشنر کوئٹہ حمزہ شفقات اور پی پی پی اتھارٹی کے سی ای او ڈاکٹر فیصل خان نے تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ کوئٹہ میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت پہلا ماونٹین ویو آئی ٹی پارک مکمل کر لیا گیا ہے، جس میں تین سافٹ ویئر ہاؤسز کے قیام سے 100 نوجوانوں کو روزگار فراہم ہوا۔ منصوبہ بغیر کسی سرکاری اخراجات کے مکمل ہوا جس سے ڈیڑھ ارب روپے کی بچت ممکن ہوئی۔اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ شہر میں روزانہ کی بنیاد پر کچرا اٹھانے کی صلاحیت 300 ٹن سے بڑھا کر 1000 ٹن کر دی گئی ہے، جب کہ صوبے کے 3200 بند اسکولوں کو ایک سال کے اندر دوبارہ فعال کر دیا گیا ہے۔ بیکڑ کے سرکاری اسپتال میں قیام پاکستان کے بعد پہلی بار زچہ و بچہ کیس رجسٹر ہوا، جس پر نومولود کا نام صوبائی وزیر صحت کی کارکردگی کے اعتراف میں "بخت محمد” رکھا گیا۔وزیر اعلیٰ نے میونسپل قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے لیے مجسٹریٹس کی تعیناتی کی منظوری دی اور کہا کہ سروس ڈلیوری کو مزید مؤثر اور شفاف بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاون اداروں کو سختی سے ہدایت کی کہ کسی اہلکار یا فرد کو کمیشن کی مد میں ایک روپیہ بھی نہ دیا جائے، بصورت دیگر شکایات براہ راست وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ کو دی جائیں۔ وزیر اعلیٰ نے دو ماہ بعد کارکردگی کے جائزہ اجلاس منعقد کرنے کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ آئندہ بجٹ مکمل طور پر شفاف ہوگا اور وسائل کے ضیاع کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔

جواب دیں

Back to top button