خیبرپختونخوا حکومت نے واسا کمپنیز کا سلسلہ ڈویژنل ہیڈکوارٹرز سے بڑھا کر ضلعی سطح پر لانا شروع کر دیا ھے۔ابتدائی طور پر سال 2014 میں پشاور کے ڈویژنل ھیڈ کوارٹر میں واٹر اینڈ سینیٹیشن اتھارٹی کمپنی کا قیام عمل لایا جس کا نظام چلانے کے لئے اربن ایریا/ ٹاؤنز کے مستقل عملہ صحت و صفائی اور واٹر سپلائی کی خدمات کمپنی کے حوالہ کی گئیں اور متعلقہ TMAs کو ان شعبوں کے بجٹری رقوم واسا کمپنی کو ادا کرنے کا پابند بنایا گیا۔اسی طرح سال 2016, 2017 میں صوبہ کے دیگر ڈویژنل ھیڈ کوارٹرز شہروں مردان، کوہاٹ، مینگورہ ، بنوں، ہزارہ اور ڈیرہ اسماعیل خان کے شہروں میں بھی واسا کمپنیاں معرض وجود میں لائی گئیں۔

جن کے عملہ صفائی و واٹر سپلائی کو بھی حسب روایت واسا کمپنیز کے حوالہ کر کے متعلقہ شہروں کی اربن کونسلوں کو صحت و صفائی سے متعلق جملہ بجٹ واسا کمپنیز کے حوالہ کرنے کے احکام صادر کر دئے گئے۔متلقہ TMAs واسا کو شاہانہ ادائیگیاں کرتے کرتے دیوالیہ ھو گئیں اور صوبائی حکومت نے متعلقہ TMAs کے شئیرز سے کٹوتی کر کے براہ راست ادائیگیاں واسا کمپنیوں کو کرنی شروع کر دیں جبکہ ساتوں ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کی واسا کمپنیاں مستقل عملہ کے ساتھ ساتھ کمپنی کیڈر کے ملازمین کی بھرتیاں بھی کرنی شروع کر دی جو کہ ضرورت کے تحت نہیں بلکہ اپنے سیاسی چہیتوں کو کھپانے کے لئے رکھے گئے۔ جس کی وجہ سے واسا کمپنیوں کا تجربہ بری طرح ناکام ھو گیا اور کمپنیاں متعلقہ شہری علاقوں کی عوام کو پینے کے پانی کی بنیادی سہولت کی فراہمی اور صحت و صفائی جیسی بنیادی ضرورت کی فراہمی میں بھی بری طرح ناکام ہو گئیں۔ جس کی وجہ سے شہری علاقوں کی TMAs مالی طور پر دیوالیہ ھو گئیں اور کمپنیاں عوامی حلقوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کی بجائے ابتر صورتحال سے دوچار ھو گئیں۔ کمپنیز عوام کو بنیادی سہولیات کی فراھمی میں تو بری طرح ناکام ہو ہی گئیں مگر ساتھ ساتھ سٹاف کی تنخواہوں ، الاؤنسز کی بروقت ادائیگیوں میں بھی ناکامی سے دوچار ھیں فی الوقت واسا کمپنیز اپنے مستقل ملازمین بشمول کمپنی کیڈر ملازمین کو تنخواہوں، الاؤنسز ، چارکول الاؤنس ، اورٹائم الاونس ، سالانہ انکریننٹ کی ادائیگیوں سے بھی محروم ہیں۔ مزید براں واسا کمپنیاں صوبائی حکومت سے براہ راست وصولیوں کے باوجود بھی عوام کو بہتر سہولیات کی فراھمی اور ملازمین کو انکے جائز اور آئینی حقوق کی ادائیگیوں میں بھی بری طرح ناکام ھو گئیں ھیں۔ مزید برآں صوبائی حکومت ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کے شہروں میں واسا کمپنیز کے ناکام تجربات کے باوجود اب صلعی سطح پر واسا کمپنیز کا قیام عمل میں لانے جا رہی ھے جس کے لئے وزیر بلدیات و دیہی ترقی خیبرپختونخوا کے ابائی شہر ہری پور میں واسا کمپنی کے قیام کا بنیادی کام شروع کر دیا ھے جس میں چئیرمین اور چیف ایگزیکٹیو افیسر کا تقرر زیر غور ھے۔ عوامی حلقوں اور بلدیاتی اداروں سے وابستہ تنظیموں نے نئی واسا کمپنی کے قیام کو مسترد کرتے ھوئے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور تحریک انصاف کی صوبائی حکومت سے فی الفور واسا کمپنیز کو ختم کرکے بلدیاتی ملازمین کو متعلقہ TMAs کے حوالہ کر نے کا مطالبہ کیا ھے۔






