بلدیاتی ادارے فنڈز کی کمی کی وجہ اپنے ملازمین اور پنشنرز کو تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی کرنے سے محروم ہیں،لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن خیبرپختونخوا

پشاور (بلدیات ٹائمز) بلدیاتی ادارے اور خیبرپختونخوا کے بلدیاتی اداروں سے وابستہ ہزاروں ملازمین اور پنشنرز سخت مشکلات سے دوچار ھیں اور بلدیاتی اداروں کے ملازمین اور پنشنرز کے بچے فاکوں بھری مشکل زندگی گزار رہے ہیں۔ بلدیاتی اداروں کے ذرائع آمدن حکومتی عیاشیوں کی وجہ بتدریج ختم کئے جا رہے ہیں جب کہ بلدیاتی ادارے فنڈز کی کمی کی وجہ اپنے ملازمین اور پنشنرز کو تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی کرنے سے محروم ہیں ۔ملازمین اور پنشنرز کئ کئی ماہ کی تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی کے بغیر سخت مالی بحران کے شکار ہیں۔ گذشتہ ادوار اور موجودہ حکومت نے بلدیاتی اداروں کے کئی بڑے ذرائع امدن جن میں منتقلی جائیداد ٹیکس، لائیسنس فیس، لوڈ ان کوڈ ٹیکس وغیرہ ختم کر دئے ہیں جس سے بلدیاتی ادارے مالی لحاظ سے مفلوج ھو چکے ہیں ۔ حکومت کے نا عاقب اندیش مشیروں کے غلط اور ناانصافی پر مبنی فیصلہ سے بلدیاتی اداروں میں کام کرنے والے سینکڑوں دستکاری سکولز/انڈسٹریل سنٹرز کو بیک جنبش ختم کر دیا گیا جس سے لاکھوں بچیاں ھو فری دستکاری ، سلائی کڑھائی اور ایمبرائیڈری سیکھ کر اپنے گھروں کے لئے آمدن کا ذریعہ تھیں کو سکھلائی سے محروم کر دیا گیا جب کہ ان سکولز سے وابستہ ہزاروں ٹیچرز کو بے روزگار کر دیا گیا جس سے ہزاروں خاندانوں کے سروں پر بے روزگاری اور فاکوں کے سائے منڈلانے لگے ہیں۔ اسی طرح بلدیاتی اداروں میں نجکاری پر عمل پیرا ھو کر واٹر اینڈ سینیٹیشن اتھارٹی کمپنیز کا قیام عمل کا کر کمپنی کیڈر ملازمین کو عارضی بنیادوں پر بھرتی کرکے ملازمین کو سخت ذھنی اذیت سے دو چار کیا جا رہا ھے۔ بلدیاتی اداروں کے مستقل اکاونٹنگ سسٹم کی عدم فراھمی اور پرسنل لیجر اکاونٹ کی بندش کی وجہ سے بلدیاتی ملازمین اور پنشنرز تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی سے محروم چلے آ رہے ہیں۔لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن رجسٹرڈ خیبرپختونخوا کے سینئر عہدیداران سرپرست اعلیٰ ،وکت کیانی، صدر حاجی انور کمال خان مروت، چئیرمین محبوب اللہ جنرل سیکرٹری سلیمان خان ھوتی اور پاکستان ورکرز فیڈریشن کے مرکزی صدر شوکت علی انجم نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ بلدیاتی اداروں کے ملازمین میں ان کے حل طلب مسائل کی وجہ سے سخت بے چینی پائی جاتی ھے۔ لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن کے عہدیداران نے صوبائی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ھے کہ بلدیاتی اداروں سے نجکاری کے خاتمہ اور کمپنی کیڈر ملازمین کی فوری مستقلی ، بلدیاتی اداروں کے فنڈز کی مضبوطی ، TMAs کے لئے مستقل اکاؤنٹنگ سسٹم کے قیام و منظوری ، TMAs کے دستکاری سنٹرز کی فوری بحالی ، واسا ملازمین کے ڈیپوٹیشن الاونس کی بحالی، بلدیاتی اداروں کے ملازمین اور پنشنرز کو تنخواہوں اور پنشن کی بروقت ادائیگی بذریعہ اکاونٹ فور کرنے کا مطالبہ کیا ھے اگر فوری مسائل کو حل نہ کیا گیا تو بلدیاتی اداروں کے ملازمین لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن اور آل ایمپلائز کوارڈینیشن کونسل کے پلیٹ فارم سے 19 جون کو ضلعی سطح پر پریس کلب کے سامنے پر امن احتجاج ریکارڈ کرائیں گے اور اگر پھر بھی بلدیاتی اداروں اور دیگر اداروں کے ملازمین کے مطالبات منظور نہ ھوئے تو 23 جون 2025 کو ملازمین خیبرپختونخوا اسمبلی کے سامنے پر امن مظاہرہ کریں گے جس کی تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت اور محکمہ بلدیات و دیہی ترقی پر عائد ھو گی۔

جواب دیں

Back to top button