بہاولپور ڈویژن کے 4 شہروں میں 40 ارب سے زائد کی ترقیاتی سکیموں کی منظوری،کنٹونمنٹ ایریاز کا بھی جائزہ لیا جائے، وزیر بلدیات ذیشان رفیق

وزیراعلی مریم نواز شریف کی زیرنگرانی پنجاب سٹیز ڈویلپمنٹ پروگرام میں مسلسل پیشرفت جاری ہے۔ اس ضمن میں وزیر بلدیات ذیشان رفیق کی زیر صدارت سول سیکرٹریٹ میں ایک اجلاس کے دوران بہاولپور ڈویژن کے 4 شہروں میں 40 ارب سے زائد کی ترقیاتی سکیموں کی منظوری دی گئی۔ ان شہروں میں بہاولپور، رحیم یار خان، بہاولنگر اور حاصل پور شامل ہیں۔ اجلاس میں سیکرٹری لوکل گورنمنٹ پنجاب شکیل احمد میاں، سپیشل سیکرٹری آسیہ گل، ایڈیشنل سیکرٹری احمر کیفی بھی موجود تھے جبکہ کمشنر بہاولپور، متعلقہ ڈپٹی کمشنرز اور میونسپل افسروں نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔

وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے ڈپٹی کمشنرز پر زور دیا کہ شہروں کی ماسٹر پلاننگ پر خصوصی توجہ دی جائے۔ ڈپٹی کمشنرز ہی سٹیز ڈویلپمنٹ پروگرام کے منصوبے مکمل کرانے کے ذمہ دار ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس میگا پراجیکٹ کے تحت شہروں میں نہ صرف موجودہ انفراسٹرکچر کی بحالی ہوگی بلکہ اسے مزید توسیع دی جائے گی۔ ہر سکیم میں معیاری کام یقینی بنانے کے لئے پروگرام امپلی ٹیشن یونٹس (پی آئی یوز) تشکیل دیے جائیں گے۔ پنجاب میونسپل ڈویلپمنٹ فنڈ کمپنی (پی ایم ڈی ایف سی) تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کی ذمہ داری نبھائے گی۔ وزیر بلدیات نے کہا کہ پارکوں، سٹریٹ لائٹس اور برساتی پانی کے سٹوریج ٹینکس بنانے پر خاص توجہ دی جائے۔ انہوں نے بہاولپور کے کنٹونمنٹ ایریاز کا بھی جائزہ لینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اگر کینٹ میں کوئی کچی گلی یا ٹوٹی سڑک ہے تو اسے بھی زیرغور لائیں۔اجلاس کے دوران بہاولپور شہر میں ڈسپوزل سٹیشنوں کی استعدادکار اور تعداد بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔ صوبائی وزیر نے ڈپٹی کمشنر کو رحیم یار خان کے لئے پی سی ون کا دوبارہ جائزہ لینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ہر شہر میں تمام ڈسپوزل سٹیشنوں کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جائے گا۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ صرف بہاولپور میں سولرائزیشن کے باعث بجلی کے ماہانہ بل بجلی تقریبا دو کروڑ روپے کی بچت ہوگی۔ سالانہ 24 کروڑ روپے کی بچت سے کئی اور شہری سہولیات مہیا کی جا سکتی ہیں۔ سیکرٹری لوکل گورنمنٹ شکیل احمد میاں نے کمشنر بہاولپور کو ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ نالوں میں پانی چھوڑنے سے پہلے اس کا لیبارٹری ٹیسٹ یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ویسٹ واٹر اور پھر فلٹر شدہ پانی کا ٹیسٹ کرنے کیلئے مقامی سطح پر چھوٹی سی لیبارٹری بھی بنائی جائے تاکہ انسانی صحت کے تمام مقاصد پورے ہوسکیں۔

جواب دیں

Back to top button