تھوڑی دیر قبل تبادلے کا نوٹیفکیشن جاری ہوا ہے۔ اس شہر کی خدمت میرے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں تھی۔ کوئٹہ ایک خوبصورت، زندہ دل اور تاریخی شہر ہے — اس کی خدمت میں چیلنجز ضرور تھے، مگر جذبہ اور خلوص کبھی کم نہ ہوا۔میں اس موقع پر اپنے دور کی چند جھلکیاں عوام کے ساتھ بطور امانت شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ یہ کسی تعریف یا کریڈٹ کے لیے نہیں، بلکہ یہ بتانے کے لیے ہے کہ اگر نیت اور ٹیم درست ہو تو موجودہ وسائل میں بھی بہت کچھ ممکن ہے۔
گزشتہ دو برسوں میں، کوئٹہ ڈویژن نے تقریباً 20 ارب روپے کی بچت یا آمدن ممکن بنائی ۔ اور یہ کسی اضافی فنڈ کے بغیر، صرف موجودہ وسائل کو بہتر انداز میں استعمال کر کے کیا۔
چند نمایاں اقدامات کی سمری یہ ہے۔
🔹 ٹیکنالوجی پارک:
بلوچستان کا پہلا ٹیک پارک ایک بند عمارت کو استعمال کر کے پرائیویٹ پارٹنرشپ سے قائم کیا گیا۔
1.6 ارب روپے کی بچت، 500 نوکریاں، 20 اسٹارٹ اپ متحرک کئے
🔹 چمن بارڈر مارکیٹ:
برسوں سے رکی ہوئی مارکیٹ کو 6 ماہ میں مکمل کیا۔
3 ارب روپے کی بچت اور 5 ہزار سے زائد روزگار پیدا ہوں گے۔
🔹 انٹیگریٹڈ پارکنگ سسٹم:
2 پارکنگ پلازہ اور 2 زیرِ زمین پارکنگ پر کام جاری ہے۔
سالانہ آمدن 3 کروڑ 50 لاکھ، نجی شعبے سے 2 ارب روپے کی سرمایہ کاری کروائی گئی۔
🔹 صفا کوئٹہ (ویسٹ مینجمنٹ):
بغیر کسی سرکاری فنڈ کے، صفائی کے نظام میں 300 فیصد بہتری لائی گئی۔
نجی شعبے سے 2 ارب روپے کی سرمایہ کاری حاصل کی گئی۔
🔹 عوامی اثاثوں کی بازیابی:
کیفے بلدیہ کی 1 ارب روپے مالیت کی زمین واگزار، اب 10 لاکھ روپے ماہانہ آمدن پر دی گئی۔
پٹرول پمپ جو کے 1 ارب روپے مالیت کی زمین تھی ۔ کو واگزار کروایا ۔
5 ارب روپے مالیت کی زمین محکمہ جنگلات، قیو۔ڈ۔اے، اے۔این۔ایف اور میونسپلٹی کے لیے واپس حاصل کی
🔹 قانون شکن عناصر کے خلاف کارروائیاں:
منشیات، اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف آپریشنز سے حکومت کو 2 ارب روپے کا فائدہ کروایا
100 غیر قانونی کرش پلانٹس بند کئے
300 غیر قانونی پٹرول پمپس سیل کئے ۔ جس سے ماحول میں بہت بہتری ائی۔
🔹 تعلیم و صحت میں بہتری:
300 بند اسکولوں کو فعال کیا
کویٹہ ڈویژن کے تمام اسپتال مکمل فعال کئے
مزدور کے بچوں کے لئے فل سکالرشپ جس پر 500 بچوں کو اسلام آباد کے نجی اسکولوں میں داخل کروایا
30 ہزار وظائف فراہم کیے گئے
2 آئی ٹی لیب قائم کیں
کرکٹ، فٹبال اور باکسنگ کے ٹورنامنٹ منعقد کیے
🔹 انفرااسٹرکچر کے 6 بڑے منصوبے مکمل کیے:
سبزل روڈ
سریاب روڈ
آبپاشی کی عمارت
انسکومب روڈ
شاہوانی و بادینی لنک روڈز
سینٹرل بائی پاس
یہ بتانے کا ۔قصد شہرت حاصل کرنا نہیں۔ مقصد صرف یہ تھا کہ محدود وسائل میں بھی بہتری ممکن ہے۔ اگر ٹیم متحد ہو، ادارے متحرک ہوں اور نیت صاف ہو۔
میں دل کی گہرائیوں سے اپنے سینئرز، ساتھیوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں، کمیونٹی رہنماؤں اور شہریوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے ہر مشکل وقت میں ساتھ دیا۔ کوئٹہ نے جو عزت، محبت اور اعتماد دیا، وہ میرے دل میں ہمیشہ محفوظ رہے گا۔
شاید میں وہ قرض کبھی چکا نہ سکوں۔






