کام کے مقامات پر خواتین کو ہراسگی سے بچانے کے لیے مؤثر اور سخت قوانین ناگزیر ہیں، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبائی محتسب برائے انسدادِ ہراسگی کے نئے ڈائریکٹوریٹ کا افتتاح کیا افتتاحی تقریب میں سیکرٹری ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ سائرہ عطا نے ڈائریکٹوریٹ کی کارکردگی اور خواتین کے تحفظ سے متعلق جاری اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی

اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کام کے مقامات پر خواتین کو ہراسگی سے بچانے کے لیے مؤثر اور سخت قوانین ناگزیر ہیں انہوں نے ہدایت کی کہ ہراسگی کے خلاف رائج الوقت قوانین کا ازسرِ نو جائزہ لے کر انہیں مزید سخت بنایا جائے تاکہ خواتین ایک محفوظ اور باعزت ماحول میں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرسکیں انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی ہراسگی کیس میں اگر فریقین کے درمیان راضی نامہ ہو جائے تب بھی سرکار کی مدعیت میں مقدمہ کی پیروی جاری رکھی جائے تاکہ ہراسگی میں ملوث عناصر کو قانون کے مطابق قرارِ واقعی سزا دی جا سکے اور ایسے بھیڑیے وہ دوسروں کے لیے نشانِ عبرت بن سکیں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خواتین کے خلاف ہراسگی ایک سنگین معاشرتی مسئلہ ہے جس کے خاتمے کے لیے صرف قوانین نہیں بلکہ سماجی شعور اور اجتماعی عزم کی بھی ضرورت ہے انہوں نے ہدایت کی کہ ایسے کیسز رپورٹ کرنے والی خواتین کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جائے اور مکمل رہنمائی و قانونی معاونت فراہم کی جائے تاکہ دیگر متاثرہ خواتین بھی بلاخوف و خطر آگے بڑھ کر اپنی شکایات درج کر سکیں میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ انسدادِ ہراسگی کمیٹیوں کو فعال بنایا جائے اور صوبائی محتسب برائے انسدادِ ہراسگی کے ادارے کو مزید مؤثر انداز میں کام کرنے کے قابل بنایا جائے انہوں نے کہا کہ خواتین ہمارے معاشرے کی باعزت اور قابلِ احترام حصہ ہیں ان کے تحفظ اور عزتِ نفس کی ضمانت ریاست کی ذمہ داری ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اس موقع پر صوبائی وزراء میر شعیب نوشیروانی، بخت محمد کاکڑ، پارلیمانی سیکرٹریز میر برکت رند اور حاجی ولی محمد نورزئی بھی موجود تھے قبل ازیں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبائی محتسب انسداد ہراسگی کے نئے ڈائریکٹوریٹ کا افتتاح بھی کیا۔

جواب دیں

Back to top button