وزیراعلیٰ سندھ کی زیرصدارت کابینہ اجلاس، اہم فیصلوں،مالی اختیارات اور عدالتی اصلاحات کی بھی منظوری

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت کابینہ کے ایک اہم اجلاس میں صوبے کی سیلابی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے محکموں کی مربوط کاوشوں کو سراہا جبکہ کابینہ نے مالیاتی نظم و نسق، اصلاحی مراکز، عدالتی عمل، ثقافتی فروغ، زرعی معائنہ، ٹیکسیشن اصلاحات اور سڑکوں کی حفاظت کے حوالے سے بڑی اصلاحات کی منظوری دی۔اجلاس وزیر اعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں صوبائی وزراء، مشیران، معاونین خصوصی، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقی نجم شاہ اور دیگر اعلیٰ افسران شریک ہوئے۔وزیر اعلیٰ نے اجلاس کے آغاز میں سیلابی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سندھ گزشتہ چھ ہفتوں سے خطرے میں رہا۔ پہلی لہر کے دوران 24 اگست کو گڈو بیراج پر 5 لاکھ 34 ہزار کیوسک پانی آیا جس کے بعد سکھر پر 4 لاکھ 81 ہزار اور کوٹری پر 2 لاکھ 73 ہزار کیوسک پانی ریکارڈ ہوا۔ دوسری لہر 15 ستمبر کو 6 لاکھ 35 ہزار کیوسک پر پہنچی۔ پیش گوئی کے مطابق گیارہ لاکھ کیوسک تک پانی آنے کا امکان تھا لیکن بروقت اقدامات سے صورتحال قابو میں رہی۔528 منصوبہ بند ریلیف کیمپوں میں سے صرف 17 فعال کیے گئے جنہوں نے ایک لاکھ 92 ہزار 122 افراد کو پناہ دی۔ محکمہ صحت نے 145 میڈیکل کیمپوں میں ایک لاکھ 34 ہزار 240 مریضوں کا علاج کیا جبکہ محکمہ لائیو اسٹاک نے 16 لاکھ مویشیوں کو ویکسین فراہم کی۔ وزیر اعلیٰ نے وزیر آبپاشی جام خان شورو، سیکریٹری آبپاشی ظریف کھیڑو، وزراء، اراکین صوبائی اسمبلی اور ضلعی انتظامیہ کی میدان میں موجودگی اور اجتماعی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ماحولیاتی تبدیلی کے باعث آئندہ مون سون پہلے سے زیادہ شدید ہو سکتے ہیں اس لیے ’’ماحولیاتی حقائق‘‘ کے مطابق تیاری ناگزیر ہے۔کابینہ نے سندھ فنانشل رولز 2023 اور ڈیلیگیشن آف فنانشل پاورز رولز میں ترامیم کی منظوری دی۔ ان ترامیم کے تحت بقایاجات کے دعوؤں کی جانچ اب متعلقہ محکماتی کمیٹیاں کریں گی جس سے تاخیر کم ہوگی تاہم 10 سال سے زائد پرانے دعوؤں کی منظوری اب بھی محکمہ خزانہ ہی دے گا۔

اہم پیش رفت کے طور پر 34 ہزار 106 اسکولوں کو لاگت مراکز کے ذریعے مالی خودمختاری دی گئی ہے جس سے ہیڈ ماسٹر براہ راست آپریشنل فنڈز تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔مزید برآں مختیارکاروں کو بھی مالی اختیارات دیے جائیں گے۔ اس منصوبے کا آغاز مٹیاری اور سکھر میں زمینوں کی ڈیجیٹائزیشن کے پائلٹ پروگرام کے تحت ہوگا جہاں انہیں 2 لاکھ روپے تک کے اخراجات کی اجازت ہوگی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ اقدام اسی طرح ہے جیسے پہلے اسٹیشن ہاؤس افسران (ایس ایچ اوز) کو مالیاتی اختیارات دیے گئے تھے اور اس سے نچلی سطح پر خدمات کی فراہمی مزید مضبوط ہوگی۔

عدالتی و اصلاحی معاملات

کابینہ نے سندھ جیل و اصلاحی خدمات کے تحت ٹھٹھہ میں 250 قیدیوں پر مشتمل نئی ڈسٹرکٹ جیل و اصلاحی سہولت کو فعال قرار دیا تاکہ جیلوں میں بھیڑ کم کی جا سکے۔انسداد دہشت گردی کی 13 عدالتوں کو منشیات سے متعلق مقدمات سننے کے لیے خصوصی عدالتوں کا درجہ دے دیا گیا جبکہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز ججوں اور جوڈیشل مجسٹریٹوں کو یہ اختیارات عارضی طور پر تفویض کیے گئے ہیں جب تک کہ مستقل عدالتیں قائم نہیں ہوتیں۔

سیاحت اور ثقافت کے دائرہ کار میں اضافہ

ثقافت، سیاحت، نوادرات اور آرکائیوز کے محکمے کو وسیع تر اختیارات دیے گئے ہیں جن میں سندھی ثقافت کا عالمی فروغ، سیاحتی خدمات کی ریگولیشن، پیشہ ورانہ تربیت، مخطوطات کی ڈیجیٹائزیشن، آثار قدیمہ کے تحفظ اور زبان کے فروغ کے اقدامات شامل ہیں۔ یہ محکمہ سندھی لینگویج اتھارٹی، سندھ ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن اور سندھ بورڈ آف فلم سینسرز کی نگرانی بھی کرے گا۔

زرعی اور ٹیکس اصلاحات

کابینہ نے 9 کروڑ 99 لاکھ 60 ہزار روپے مالیت کی 10 موبائل ٹیسٹنگ وینز کی خریداری کی منظوری دی۔ یہ منصوبہ ’’معائنہ کے لیے موبائل ٹیسٹنگ یونٹس‘‘ کے تحت ہوگا جس سے ترازو اور پیمائش کے اوزار کی کیلیبریشن اور موقع پر تصدیق میں بہتری آئے گی۔ روزانہ معائنوں کی تعداد 10 سے 12 کے بجائے 30 سے 35 تک بڑھ جائے گی اور ضلعی ٹیمیں ڈپٹی کمشنرز کی نگرانی میں کام کریں گی۔

ٹیکس کے دائرہ کار میں اضافہ

ٹیکس کے دائرہ کار کو بڑھانے کے لیے سندھ ریونیو بورڈ کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو، پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ اور سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے ساتھ یادداشتوں پر دستخط کرنے کی اجازت دی گئی تاکہ ڈیٹا شیئرنگ اور کمپنی رجسٹریشن کا انضمام ممکن ہو سکے۔ مزید برآں، نو ترمیمی نوٹیفکیشنز کی منظوری دی گئی تاکہ درجہ بندی کے کوڈز کو ریونیو پر اثر ڈالے بغیر ہم آہنگ بنایا جا سکے۔ٹرانسپورٹ سیفٹی ،کابینہ نے سندھ بھر میں 10 ہیوی وہیکل فٹنس مراکز قائم کرنے کی تجویز بھی منظور کر لی۔ ان میں پانچ مراکز کراچی میں اور ایک ایک مرکز ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں بنایا جائے گا۔ جدید یورپی ٹیسٹنگ آلات کے ذریعے یہ اقدام ٹرانسپورٹ کی حفاظت کو جدید خطوط پر استوار کرنے، حادثات میں کمی لانے اور تعمیل کو بہتر بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے محکمہ ٹرانسپورٹ کو ہدایت دی کہ وہ پیشہ ور اور دلچسپی رکھنے والی جماعتوں سے درخواستیں طلب کرے اور میرٹ پر ایک کو منتخب کرے۔ان اقدامات کے ذریعے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت ماحولیاتی لچک، مالی بااختیاری، عدالتی اصلاحات، ثقافتی فروغ، زرعی نگرانی، ٹیکس کے ڈیجیٹل نظام اور سڑکوں کی حفاظت کو یکجا کرتے ہوئے شفاف طرز حکمرانی، نچلی سطح پر خدمت کی فراہمی اور پائیدار ترقی کے لیے پرعزم ہے۔

جواب دیں

Back to top button