چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی زیر صدارت کراچی تا ٹھٹہ روڈ (N-5) پر بڑھتی ہوئی تجاوزات کے خاتمے کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سڑک پر ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ ڈالنے والے ٹینکروں، ٹرکوں، اور پھل و سبزی فروشوں کی غیر قانونی سرگرمیوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں سیکریٹری امپلیمینٹیشن اینڈ کوآرڈینیشن (I&C)، ڈی آئی جی ٹریفک، ایم ڈی سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ (SSWMB)، میونسپل کمشنر کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (KMC)، ڈپٹی کمشنرز اور ایس ایس پیز ملیر، کورنگی اور ٹھٹہ نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران حکام کی جانب سے کراچی-ٹھٹہ روڈ پر موجود مختلف اقسام کی تجاوزات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جن میں ٹینکرز، بھاری گاڑیاں اور سڑک کنارے لگے ہوئے پھل و سبزی کے غیر قانونی ٹھیلے شامل تھے، جو ٹریفک کی روانی میں شدید رکاوٹ بن رہے ہیں۔چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ نے صورتحال پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اہم شاہراہ تجارتی اور بین الاضلاعی آمد و رفت کے لیے نہایت اہم ہے اور اسے ہر صورت تجاوزات سے پاک کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ ایک ہفتے کے اندر اندر تمام تجاوزات کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جائے، بصورت دیگر ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ چیف سیکریٹری نے ڈپٹی کمشنر ملیر کو ہدایت دی کہ وہ فوری طور پر مین ہائی وے پر کھڑے ٹینکروں کو ذوالفقار آباد آئل ٹینکر ٹرمینل منتقل کروائیں تاکہ سڑک کو کلیئر کیا جا سکے۔ انہوں نے ٹریفک پولیس اور بلدیاتی اداروں کو مشترکہ ایکشن پلان تیار کرنے اور مؤثر کارروائی کو یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی تاکہ نہ صرف سڑک کو فوری طور پر تجاوزات سے پاک کیا جا سکے بلکہ اس پر عملدرآمد کو مستقل بنیادوں پر برقرار رکھا جائے۔ انہوں نے متعلقہ محکموں اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت جاری کی کہ کراچی-ٹھٹہ روڈ پر موجود تمام تجاوزات کو تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے ایک ہفتے کے اندر مکمل طور پر ختم کیا جائے۔ چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ نے اس موقع پر کہا کہ حکومت سندھ عوام کی سہولت اور ٹریفک کی بہتر روانی کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور ایسے اقدامات کا تسلسل لازمی ہے تاکہ مستقبل میں دوبارہ تجاوزات نہ ہوں۔





