تھک جل میں کلاوڈ برسٹ کے نتیجے میں آنے والے شدید طوفانی سیلاب کے باعث نو قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں،چیف سیکرٹری گلگت بلتستان ابرار مرزا کی میڈیا بریفنگ

.چیف سیکریٹری گلگت بلتستان ابرار مرزا نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ چلاس بابوسر کے پہاڑی علاقے تھک جل میں کلاوڈ برسٹ کے نتیجے میں آنے والے شدید طوفانی سیلاب کے باعث 10 جون سے اب تک نو قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں جن میں سے ایک موت ضلع استور سے رپورٹ ہوئی ہے جبکہ متعدد افراد تاحال لاپتہ ہیں جن کی تلاش کیلئے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔چیف سیکریٹری کے مطابق شدید بارشوں کے بعد بابوسر ٹاپ جانے والی شاہراہ پر تقریباً آٹھ کلومیٹر کا علاقہ سیلابی ریلوں کی زد میں آ کر مکمل طور پر متاثر ہو گیا ہے جس سے دو درجن کے قریب چھوٹی بڑی گاڑیاں بہہ گئی ہیں۔ اس حادثے میں مقامی آبادی کے ساتھ ساتھ سینکڑوں سیاح بھی پھنس گئے تھے جنہیں مقامی افراد، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ، پاک فوج، ایف ڈبلیو او اور مقامی رضاکاروں کی بروقت کوششوں سے محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔

چیف سیکریٹری نے بتایا کہ شدید بارشوں اور کلاوڈ برسٹ کے باعث صرف دیامر ہی نہیں بلکہ گلگت بلتستان کے دیگر اضلاع بشمول سکردو، استور، غذر اور ہنزہ میں بھی صورتحال تشویشناک ہے۔ ان علاقوں میں بارہ کلو میڑسرک، 200 مکانات مکمل منہدم ہو گئے ہیں جبکہ 196 جزوی طور پر متاثر ہوئے ہیں جبکہ 26 رابطہ پل، زرعی کھیت، پانی کی نہریں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ابرار مرزا نے مزید بتایا کہ سکردو میں شدید لینڈ سلائیڈنگ کی اطلاعات موصول ہوئی تھی تاہم خوش قسمتی سے وہاں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔ دیوسائی کے دشوار گزار علاقے میں پھنسے ہوئے سیاحوں کو بھی بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسلا دھار بارشوں نے پورے گلگت بلتستان کے ساتھ ساتھ ملک کے دیگر حصوں میں بھی تباہی مچائی ہے۔ چیف سیکریٹری نے کہا کہ ان مشکل حالات میں صوبائی حکومت متاثرہ علاقوں میں فوری بحالی اقدامات اٹھا رہی ہے، جس میں پاک فوج، ایف ڈبلیو او، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور مقامی رضاکاروں کی خدمات قابل تحسین ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن کے ساتھ ساتھ خوراک کی فراہمی، رہائش، ادویات اور علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنے کے لی خصوصی اقدامات کردیے گئے ہیں۔ابرار مرزا کا کہنا تھا کہ پاک فوج حسب روایت ہر مشکل وقت میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے صف اول کا کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں روڈ انفراسٹرکچر کی بحالی، پھنسے افراد کی فوری نقل مکانی، لاپتہ افراد کی تلاش اور زخمیوں کو ہسپتال پہنچانے جیسے امور پر ہنگامی بنیادوں پر کام جاری ہے۔چیف سیکریٹری نے مقامی لوگوں، سیاحوں سے اپیل کی ہے کہ وہ متاثرہ علاقوں کا غیر ضروری رخ نہ کریں تاکہ ریسکیو ٹیموں کو اپنا کام انجام دینے میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ایمرجنسی یا ہنگامی صورتحال کی صورت میں فوری طور پر قریبی ضلعی انتظامیہ، پولیس یا ریسکیو مرکز سے رابطہ کیا جائے تاکہ بروقت مدد فراہم کی جا سکے۔ابرار مرزا نے کہا کہ اس مشکل گھڑی میں صوبائی حکومت متاثرہ افراد کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور ہر ممکن وسائل کو بروئے کار لا کر بحالی کا کام تیز کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں اور کلاوڈ برسٹ کے واقعات گزشتہ چند سالوں میں بڑھتے جا رہے ہیں جس کی بڑی وجہ ماہرین ماحولیاتی تبدیلی کو قرار دیتے ہیں۔ ارلی وارنیگ اور غلاف ٹو منصوبے کی غیر فعالیت کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں چیف سیکرٹری کا کہنا تھا ان کا از سر نو جائزہ لیا جائے گا۔ حکومت بدلتے موسمیاتی حالات کے پیش نظر ان علاقوں میں قدرتی آفات سے بچاؤ کیلئے مربوط اقدامات اٹھایے گی۔چیف سیکریٹری نے کہا کہ حکومت اور امدادی ادارے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کہ متاثرہ علاقوں میں بحالی اور امدادی سرگرمیوں کو جلد از جلد مکمل کیا جائے۔گلگت میں جاری بجلی کی شدید لوڈشیڈنگ کے حوالے سے چیف سیکرٹری گلگت بلتستان نے کہا ہے کہ حکومت اس سنگین مسئلے کو حل کرنے کے لیے متعدد منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہیزل پاور منصوبہ مکمل طور پر منظور شدہ ہے اور اس کے لیے فنڈز بھی سی ڈی ڈبلیو پی سے جاری ہو چکے ہیں، تاہم منصوبے پر تعینات کنٹریکٹر کی طرف سے کام کی تاخیر ہونے کی وجہ سے بجلی کی فراہمی میں بہتری نہیں آرہی ہے۔ چیف سیکرٹری نے واضح کیا کہ متعلقہ کنٹریکٹر کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور اگر کام میں مزید تاخیر ہوئی تو متبادل اقدامات کیے جائیں گے تاکہ عوام کو درپیش مشکلات کو کم سے کم کیا جا سکے۔انہوں نے مزید بتایا کہ عطاآباد اور شغر تھنگ پاور پراجیکٹس پر بھی تیزی سے پیش رفت کی جا رہی ہے۔ ان منصوبوں کی تکمیل سے گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں کو اضافی میگاواٹ بجلی فراہم ہوگی۔

جواب دیں

Back to top button