پنجاب اسمبلی نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2022 میں ترامیم کی منظوری دی ہے جو اب کسی حد تک 2013 کے ساتھ ساتھ چل رہا ہے جبکہ پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 قائمہ کمیٹی کے سپرد ہے جو غورو خوض کے بعد واپس اسمبلی کو بجھوائے گی۔ یہ بل ابھی اسمبلی سے منظور نہیں ہوا۔جس کے تحت پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کروائے جائیں گے۔پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 کے تحت بلدیاتی اداروں کا تنظیمی ڈھانچہ کیا ہوگا،کتنے قسم کے ادارے ہونگے،کیسے بلدیاتی انتخابات میں حصہ لیا جائے گا۔کتنی سیٹیں ہونگے۔بلدیاتی نمائندوں، خواہش مند امیدواروں اور عوام کی رہنمائی کے لئے بلدیات ٹائمز نے خصوصی رپورٹ مرتب کی ہے۔جس کے مطابق نئے قانون کے تحت ضلع میں لوکل گورنمنٹ کے 4 لیول ہوگئے۔
1. میونسپل کارپوریشن شہری علاقوں میں جہاں آبادی 2 لاکھ سے زائد ہوگی وہاں قائم کی جائے گی۔ اس میں 1 مئیر اور 2 ڈپٹی مئیر ہونگے ۔ اسکی حدود میں آنے والی تمام یونین کونسلز کے چئیرمن میونسپل کارپوریشن کے ممبر ہوگئے اور مخصوص نشستوں پر منتخب ممبر میں 14٪ فیصد خواتین، 3٪ غیر مسلم، 5٪ مزدور، 2٪ ٹیکنوکریٹ اور 1٪ یوتھ اور معزور افراد ہونگے۔
2. ٹاؤن کارپوریشن: بڑے شہر لاہور، ملتان، فیصل آباد میں ٹاؤن کارپوریشن قائم کی جائے گی۔ ایک شہر میں ایک سے زائد ٹاؤن کارپوریشن ہوگی۔ جبکہ ٹاؤن کارپوریشن کا سربراہ مئیر اور 2 ڈپٹی مئیرز ہونگے اور اسکی حدود میں آنے والی تمام یونین کونسلز کے چئیرمن اسکے ممبرز ہوگئے اور مخصوص نشستوں پر منتخب ممبر شامل ہونگے
3. میونسپل کمیٹی ان شہری علاقوں میں قائم کی جائے گی جہاں آبادی 2 لاکھ سے کم ہو لیکن 25 ہزار سے زیادہ ہوگی ۔ میونسپل کمیٹی کا سربراہ چئیرمین اور وائس چیئرمین ہوگا۔ جب کہ میونسپل کمیٹی کی حدود میں آنے والی یونین کونسل کے چئیرمین میونسپل کمیٹی کے ممبران ہونگے اور اسکے علاؤہ 5 سے 13 ممبران مخصوص نشستوں پر منتخب ہونگے۔ جنکی تعداد کا تعین یونین کونسل کے نمبرز کے حساب سے ہوگی۔
4. تحصیل کونسل دیہی علاقوں میں قائم کی جائے گی۔ تحصیل کونسل کا سربراہ چئیرمین اور 2 وائس چیئرمین ہونگے۔جبکہ اسکی حدود میں آنے والی تمام یونین کونسلز کے چئیرمین تحصیل کونسلر کے ممبرز ہونگے۔ اور 5 سے 13 ممبران مخصوص نشستوں پر منتخب ہوکر تحصیل کونسل کا حصہ بنیں گے۔
5. یونین کونسل: پورے ضلع کو یونین کونسلز میں تقسیم کیا جائے گا۔ ایک یونین کونسل یا میونسپل کارپوریشن، میونسپل کمیٹی یا تحصیل کونسل کا حصہ بنے گی۔اور بڑے شہروں میں یونین کونسل ٹاؤن کارپوریشن کا حصہ ہوگی۔ یونین کونسل:
ایک یونین کونسل کل 13 ممبران پر مشتمل ہوگی۔ جس میں 9 جنرل ممبرز ہوگے اور 4 مخصوص نشستوں پر منتخب ہوگے۔ مخصوص نشستوں پر 1 خاتون، 1 کسان یا مزدور، 1 نوجوان اور 1 غیر مسلم ہوگا۔
لوکل گورنمنٹ کے ڈائریکٹ الیکشن صرف جنرل ممبرز کی نشستوں پر ہونگے۔ یونین کونسلز کے چیئرمین اور وائس چیئرمین انہی ممبران سے منتخب ہونگے اور اسی طرح تحصیل کونسل، میونسپل کمیٹی اور میونسپل کارپوریشن کے سربراہ بھی انہی ممبران سے منتخب ہونگے۔
لوکل گورنمنٹ بل 2025 کے تحت پورے ضلع میں ایک سے زائد لوکل گورنمنٹ ہونگی جیسا کہ قصور کی 4 تحصیل میں 4 تحصیل کونسلز ہونگی، اسی طرح 4 سے زائد میونسپل کارپوریشن شہری علاقوں میں اور بڑے قصبوں میں جیسا کہ کھڈیاں اور کنگن پور کا علاقہ جہاں آبای 25000 سے زائد ہوگی وہاں میونسپل کمیٹیاں ہونگی۔ لیکن ضلع لیول پر کوئی لوکل گورنمنٹ نہیں ہوگئی۔
5 لیول۔
ضلع لیول پر ایک ڈسٹرکٹ اتھارٹی بنائی جائے گی۔اس اتھارٹی میں ضلع کے تمام ڈیپارٹمنٹ (جیسا کہ ہیلتھ, ایجوکیشن، پولیس وغیرہ) کے سربراہ ممبرز ہوگئے، ضلع میں تمام تحصیل کونسلز، میونسپل کارپوریشن اور میونسپل کمیٹی کے سربراہ اس اتھارٹی کے ممبر ہوگئے اور اس اتھارٹی کا سربراہ ڈپٹی کمشنر ہوگا۔ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 کا نظام موجود حکومت کی طرف سے اس طرح بنایا گیا کہ تمام معاملات ڈپٹی کمشنر کے زریعے سے پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ کے کنٹرول میں رہیں گے۔ جبکہ یہ نظام آئین کے آرٹیکل 140-اے کی سراسر خلاف ورزی ہے کیونکہ اس آرٹیکل کے تحت لوکل گورنمنٹ میں اختیارات عوام کے منتخب نمائندوں کو دئیے جانے کا کہا گیا ہے۔ جبکہ موجودہ حکومت نے تمام اختیارات عوام کے منتخب نمائندوں سے چھین کر ڈپٹی کمشنرز کے حوالے کر دیئے ہیں۔ اور ڈپٹی کمشنرز کی لگام وزیر اعلیٰ کے ہاتھوں میں ہوگی۔جس طرح پنجاب اب ڈپٹی کمشنرز کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔بلدیاتی انتخابات ہونے کے بعد بھی اسی طرح چلانے کا پروگرام ہے اور قانون وزیر اعلٰی پنجاب مریم نواز شریف کی خواہش کو مدنظر رکھ کر بنایا گیا ہے۔یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس بار لوکل گورنمنٹ کے الیکشن کے بعد ضلع کا ڈپٹی کمشنر لوکل گورنمنٹ کا سربراہ بنے گے۔میٹروپولیٹن کارپوریشن،ضلع کونسلز ختم کرنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ ضلع میں ایک مضبوط بلدیاتی نمائندہ،میئر یا چیئرمین نہ ہو تاکہ وزیر اعلٰی اور ڈپٹی کمشنرز کا تسلط برقرار رہے۔پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 کے مطابق تمام تر اختیارات صوبے کے چیف ایگزیکٹو کے پاس ہونگے۔





