وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہائی لیول فلڈ ایمرجنسی اجلاس، 3 اور 4 ستمبر کو گڈو بیراج پر اونچے درجے کے سیلابی ریلوں کے داخل ہونے، متوقع بارشوں کے پیش نظر تیاریوں کا جائزہ

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ہائی لیول فلڈ ایمرجنسی اجلاس کی صدارت کی جس میں 3 اور 4 ستمبر کو گڈو بیراج پر اونچے درجے کے سیلابی ریلوں کے داخل ہونے اور صوبے بھر میں متوقع بارشوں کے پیش نظر تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔یہ اجلاس وزیر اعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں صوبائی وزراء شرجیل میمن، مخدوم محبوب زمان، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، سیکریٹری وزیر اعلیٰ رحیم شیخ، سیکریٹری بحالیات اختر بگٹی اور ڈائریکٹر جنرل صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی سلمان شاہ شریک ہوئے۔ صوبائی وزیر آبپاشی جام خان شورو، وزیر ایکسائز مکیش چاولہ، وزیر آبپاشی محمد بخش مہر اور وزیر صنعت جام اکرم دھاریجو کو دریائے سندھ کے دائیں اور بائیں کنارے پر سیلابی صورتحال اور عوامی فلاح و بہبود کی نگرانی کی ذمہ داری دی گئی۔ ڈویژنل کمشنرز اور ڈپٹی انسپکٹر جنرلز نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔آبپاشی محکمے اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے وزیر اعلیٰ کو بریفنگ دی کہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب گڈو بیراج پر سات لاکھ سے آٹھ لاکھ کیوسک پانی کے داخل ہونے کا امکان ہے۔ وزیر اعلیٰ نے انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل ریسکیو اور ریلیف انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت دی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ شمالی اضلاع میں 72 اور جنوبی اضلاع میں 106 ریسکیو کشتیاں تعینات کی گئی ہیں جبکہ سیلاب کی صورت میں 52 ہزار سے زائد خاندان متاثر ہو سکتے ہیں۔وزیر اعلیٰ نے شمالی اضلاع میں 30 ہزار سے زائد ریسکیو 1122 اہلکاروں کی تعیناتی کی ہدایت دی اور متاثرہ علاقوں میں کشتیوں کی فراہمی کا حکم دیا۔ سکھر میں چھ، گھوٹکی، خیرپور، شکارپور، نوشہرو فیروز اور دادو میں چار جبکہ شہید بینظیر آباد میں تین کشتیاں فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی۔ مزید برآں ریسکیو ٹیموں کو کشتیوں سمیت سکھر سے دادو تک تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔وزیر اعلیٰ نے ریسکیو اور ریلیف آپریشنز کے لیے مکمل تیاری پر زور دیا اور انتظامیہ کو ہدایت دی کہ ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل یقینی بنایا جائے۔وزیر اعلیٰ کو بتایا گیا کہ پاک بحریہ نے ریلیف آپریشنز کی معاونت کے لیے 26 کشتیاں اسٹینڈ بائی پر رکھی ہیں۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے اسٹاک کا جائزہ لیتے ہوئے مراد علی شاہ کو آگاہ کیا گیا کہ ریلیف سامان وافر مقدار میں دستیاب ہے جن میں مچھر دانیاں، کمبل، فرسٹ ایڈ کٹس، کچن سیٹس، گدے، پلاسٹک میٹ، عارضی بیت الخلاء، لحاف، پانی کے کین، سلیپنگ میٹ، خیمے، ڈی واٹرنگ پمپس اور جنریٹر شامل ہیں۔وزیر اعلیٰ نے صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی کہ دریائی بندوں کے ساتھ پانچ سو سے زائد کیمپ قائم کرنے کی تیاری کی جائے تاکہ متاثرہ آبادی اور مال مویشیوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر کوئی بڑا سیلابی ریلہ آئے تو ایک بھی جان، خواہ انسان ہو یا جانور، ضائع نہیں ہونی چاہیے۔صورتحال کے تناظر میں وزیر اعلیٰ نے گڈو بیراج اور سکھر بیراج کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ تیاریوں کا خود جائزہ لیں اور دریائے سندھ کے تمام کمزور بندوں کا فضائی معائنہ کر سکیں۔وزیر اعلیٰ کو مزید بتایا گیا کہ اگر انتہائی اونچا سیلابی ریلا آیا تو 50 ہزار سے زائد خاندان بے گھر ہو سکتے ہیں۔ مراد علی شاہ نے ہدایت دی کہ مکمل تیاری یقینی بنائی جائے اور ضرورت پڑنے پر نجی شعبے سے بھاری مشینری کا بندوبست بھی کیا جائے۔

جواب دیں

Back to top button