ترجمان سندھ حکومت و میئر سکھر بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے کہا ہے کہ دریائے سندھ میں آئندہ دنوں میں تقریباً آٹھ لاکھ کیوسک کے ریلے کی توقع ہے، جبکہ نو لاکھ کیوسک سے زائد کے امکان کے پیش نظر سکھر ڈویژن میں ہنگامی انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں۔ سکھر بیراج کی گنجائش 9 لاکھ 60 ہزار کیوسک اور گڈو بیراج کی گنجائش 12 لاکھ کیوسک ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر سپر فلڈ کی صورتحال پیدا ہوئی تو سندھ میں 16 لاکھ افراد، 16051 دیہات، پانچ لاکھ مویشی متاثر ہوسکتی ہیں، جن کے لیے 948 ریلیف کیمپس قائم کیے جاچکے ہیں۔ تاہم ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ پانی وقفوں سے آئے گا، جس کے باعث صورتحال کو بہتر طور پر کنٹرول کیا جا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ پیشگی تیاری ہماری خوش قسمتی ہے، حکومت سندھ کی اولین ترجیح عوام کی جان و مال کا تحفظ ہے اور ہم ہر ممکنہ صورتحال کے لیے تیار ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے دیگر صوبوں کے متاثرین کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت اس کٹھن وقت میں ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے دریائے سندھ میں سیلابی صورتحال اور حفاظتی اقدامات کا جائزہ لینے کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہی۔ ترجمان سندھ حکومت نے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ڈویژن میں 155 ریلیف کیمپس، 24 میڈیکل اور 27 لائیو اسٹاک کیمپس فعال ہیں، جہاں جی پی ایس لوکیشنز، ڈاکٹرز، ادویات، خیمے، خوراک اور مویشیوں کے لیے علیحدہ سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ متاثرین کے انخلاء کے لیے ایویکیویشن پلان کے تحت کشتیاں، مقامات اور گاڑیاں مختص ہیں، جبکہ ڈی واٹرنگ پمپس اور دیگر مشینری کو الرٹ رکھا گیا ہے۔ صحت کے شعبے میں پی پی ایچ آئی، پی ڈی ایم اے اور ریسکیو 1122 کی موبائل یونٹس تعینات ہیں، ویکسین، اینٹی وینم اور ایمرجنسی اسٹاک بھی دستیاب ہے، جبکہ اسپتالوں اور یونٹس کے ذریعے فوری علاج اور ریفرل کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ مویشیوں کے تحفظ کے لیے ویٹرنری کیمپس اور ویکسی نیشن یونٹس قائم ہیں۔ ضلعی اور پی ڈی ایم اے اسٹاک میں ٹینٹس، مچھر دانیاں، سلیپنگ میٹس، ہائیجین کٹس، فرسٹ ایڈ، سولر لائٹس اور دیگر ضروری اشیاء موجود ہیں، جبکہ صوبائی سطح پر اضافی سپلائی کی ڈیمانڈ بھی بھیجی گئی ہے۔ ضلعی ایمرجنسی آپریشن سنٹر اور ڈویژنل کنٹرول رومز 24 گھنٹے فعال ہیں اور تمام آپریشنز میں انتظامیہ، پولیس، رینجرز، فوج و نیوی (جہاں ضرورت ہو)، ریسکیو 1122، پی ڈی ایم اے اور این جی اوز کے ساتھ قریبی رابطہ قائم ہے۔ میئر سکھر نے عوام سے اپیل کی کہ افواہوں پر کان نہ دھریں، حکومتی ہدایات پر عمل کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مقامی کنٹرول روم یا ضلعی ایمرجنسی آپریشن سنٹر سے فوری رابطہ کریں۔ اس موقع پر ای ڈی سی ٹو بشرا منصور، ڈی ایچ او ڈاکٹر علی گل شاھ کے علاوہ محمکہ آبپاشی، پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، لائیو اسٹاک ودیگر محکموں کے افسران بھی موجود تھے۔
Read Next
10 گھنٹے ago
اقوام متحدہ کے ادارے یو این ویمن پاکستان کے زیر اہتمام پاکستان کی پہلی قومی ویمنز ایمپاورمنٹ پرنسپلز ایوارڈز تقریب
2 دن ago
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نےچنیسر ٹاؤن میں سندھی مسلم فوڈ واک کا افتتاح کردیا۔
3 دن ago
سندھ کے 31 شہروں کا نقشہ بدلنے کی تیاری؛کراچی اور حیدرآباد سمیت بڑے ماسٹر پلانز پر کام جاری،17 مکمل،9 کا نوٹیفکیشن جاری
4 دن ago
سندھ کے تمام بلدیاتی اداروں کا خصوصی آڈٹ کروانے کا فیصلہ،وزیر بلدیات کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل
5 دن ago
*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا نگرپارکر ایمبولنس حادثے میں جاں بحق افراد کے لواحقین کےلئے معاوضے کا اعلان*
Related Articles
وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ کی وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کے اعزاز میں عشائیے میں شرکت
6 دن ago
مراد علی شاہ اورامجد حسین کی ملاقات،سندھ اور گلگت بلتستان کے درمیان ادارہ جاتی تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق
1 ہفتہ ago



