مزدوروں کے حقوق کے علمبردار کرامت علی کا تعزیتی ریفرنس کل ہیومن رائٹس کمیشن لاہور میں منعقد ہوگا۔
مزدوروں کے حقوق کے علمبردار کرامت علی کا تعزیتی ریفرنس کل ہیومن رائٹس کمیشن لاہور کے دراب پٹیل آڈوٹوریم 107ٹیپو بلاک ، نیو گارڈن ٹاؤن میں سپہر 5:30 بجے منعقد ہوگا۔
لیبر رائٹس ایکٹیوسٹ کرامت علی 20 جون کو انتقال کر گئے تھے ، وہ کراچی کے ایک نجی ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ان کی نماز جنارہ کراچی کے علاقے انچولی میں شہدائے کربلا امام بارگاہ میں ادا کی گئی تھی، جس کے بعد انہیں وادی حسین قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔
یاد رہے کہ کرامت علی پائلر کے بانی ارکان میں سے ایک تھے اور اس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔
پائلر کی ویب سائٹ کے مطابق کرامت علی مختلف مقامی اور علاقائی نیٹ ورکس جیسے پاکستان پیس کولیشن، پاکستان انڈیا پیپلز فورم فار پیس اینڈ ڈیموکریسی اور ساؤتھ ایشیا لیبر فورم کے بانی رکن بھی تھے۔
کرامت علی کو 2013 میں امن اور انصاف کے لیے دیدی نرملا دیش پانڈے ساؤتھ ایشین ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا۔
سابق صدر عارف علوی نے کرامت علی کو اپنا بہت پیارا دوست قرار دیتے ہوئے کہا یہ کتنا بڑا نقصان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مزدور تحریک استحصالی سرمایہ دارانہ نظام کے سامنے کھو چکی ہے، میری خواہش ہے کہ دنیا کے جدوجہد کرنے والے، محنتی مزدوروں کے حقوق کو یقینی بنانے کے لیے ان جیسے اور لوگ ہوتے۔
عارف علوی نے پائلر کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کو ایک بہترین لیبر ایکٹوسٹ، مصنف، ہمیشہ مسکرانے والے اور شائستہ انسان قرار دیا جنہوں نے بین الاقوامی کانفرنسز میں پاکستان کی نمائندگی ایک ایسے باشعور شخص کے طور پر کی جس پر فخر کیا جا سکتا ہے، وہ علم کا خزانہ اور درد کا مجسمہ تھے۔
پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمن نے کہا کہ وہ پرانے دوست کرامت علی کے انتقال کا سن کر غمزدہ ہیں۔وہ پاکستان میں بے گھر اور کمزور لوگوں کے انتھک وکیل تھے، اور علاقائی امن کے لیے ایک مضبوط آواز تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ کرامت علی کے مزدوروں کے حقوق اور سماجی انصاف کے عزم نے ہماری کمیونٹی پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں، اس نقصان کو گہرائی سے محسوس کیا جائے گا۔
نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل ناصر منصور نے کہا مزدور تحریک اپنے سب سے قابل احترام رہنما سے محروم ہو گئی ہے۔
مصنف ندیم فاروق پراچہ نے کہا کہ پائلر لیڈر نے کئی دہائیوں تک محنت کش طبقات کے حقوق کے لیے جدوجہد کی۔ وہ ہمیشہ علم کے وسیع ذخائر کو فراہم کرنے کے لیے تیار تھے جو انہوں نے اپنے دل اور دماغ میں محفوظ کیا تھا، ہم انہین بہت یاد کریں گے۔






