لاہور پریس کلب میں آرٹ اینڈ کلچر کمیٹی کے زیر اہتمام پریس کلب کے لائف ممبر ڈاکٹر آفتاب رانجھا برہم کا شعری مجموعہ ”تپش“ کی تقریب رونمائی ہوئی ۔تقریب کی صدارت سینئر صحافی اظہر غوری نے کی۔ اس سے قبل ان کی شاعری کی کتاب”زرد پتے“ شائع ہو کر داد سمیٹ چکی ہے۔تقریب کی نظامت ایکٹ کمیٹی کے رکن سعید اختر نے کی۔ کتاب پر بات کرنے والوں میں ان کے کولیگز اور پریس کلب کے ساتھی شامل تھے۔

سینئر صحافی طارق فرید نے کتاب پر اور ان کے فن پر کھل کر بات کی۔ انہوں نے آفتاب برہم کو امید کا شاعر قرار دیا۔پی یو جے کے جنرل سیکرٹری قمرالزمان بھٹی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شاعری میں کچھ ایسا ہے جو دلوں کو جھنجھوڑتا ہے اور بعض شعر تو ایسے گھائل کرتے ہیں کہ قاری دل پکڑ کر رہ جاتا ہے۔ عابد کمالوی نے ان پر لکھا مضمون پڑھا اور انہیں غزل کا رانجھا قرار دیا۔اکرم چودھری نے بھی ان کے فن کو سراہا اور کہا کہ شاعروں کو موجودہ حالات پر لکھنا ہو گا۔ علامہ صدیق اظہر نے شاعری کی تاریخ بیان کرنے کے بعد ان کی نامور شاعروں کی زمینوں میں کہی گئی غزلوں کی تعریف کی اور مشورے بھی دیئے۔ اظہر غوری نے صدارتی خطبہ میں کہا کہ ہر شاعر کا مطالعہ ہوتا ہے اور مشاہدہ بھی اور جیسے حالات وہ دیکھتا ہے ویسے حالات اس کے اپنے گھر میں بھی چل رہے ہوتے ہیں‘وہ اپنے ارد گرد سے باخبر ہوتا ہے۔ آفتاب رانجھا کی کتاب میں ہر موضوع پر کئی کئی اشعار مل جائیں گے۔

انہوں نے کتاب کی اشاعت پر مبارکباد دی۔ بعد ازاں آفتاب رانجھا نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور اپنا کلام بھی سنایا جس پر انہوں نے خوب داد سمیٹی۔اختتام پر انہیں ایکٹ کمیٹی کی جانب سے اظہر غوری‘ سعیداختر‘ بابا نجمی‘قمرالزمان بھٹی‘ شہزاد فراموش نے شیلڈ پیش کی۔تقریب میں احسن ظہیر‘محمد شکور‘ اقبال بخاری‘ محمد علی اور لبنٰی خان کے علاوہ بہت سے صحافیوں نے شرکت کی۔لاہورپریس کلب کی جانب سے ڈاکٹر آفتاب رانجھا برہم کو یادگاری شیلڈپیش کی گئی۔






