وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت محکمہ صحت کا اجلاس،مشیر صحت احتشام علی کی بریفنگ

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت محکمہ صحت کا اجلاس منعقد ہوا ۔ مشیر صحت احتشام علی اور محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں محکمہ صحت کے ذیلی ادارے ڈائریکٹریٹ آف ڈرگ کنٹرول اینڈ فارمیسی سروسز کی گذشتہ مہینوں کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ۔ متعلقہ حکام کی طرف سے وزیراعلیٰ کو ادارے کے دائرہ کار و مقاصد، مالی و انتظامی امور، ریگولیٹری فریم ورک اور کارکردگی بارے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

بریفنگ کے مطابق جنوری سے جون تک 6 ماہ کے دوران ادارے نے 6815 انسپکشنز کیے اور ادویات کے 6935 نمونوں کا معائنہ کیا، ان نمونوں میں سے 214 کو غیر معیاری اور 84 کو غیر رجسٹرڈ قرار دیا گیا، اسی طرح 69 نمونوں کو جعلی اور 78 کو مس برانڈڈ قرار دیا گیا۔ ادویات کی 70 دوکانوں کو سیل کیا گیا اور 23 کے خلاف ایف آئی آرز درج کی گئیں، اس کے علاؤہ 944 غیر قانونی آئٹمز قبضے میں لیے گئے، ڈرگ کورٹ میں 1198 کیسز درج کیے گئے اور 347 کیسز کا فیصلہ سنایا گیا۔ اس عرصہ کے دوران 61 لاکھ روپے سے زائد جرمانے عائد کیے گئے، ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹریز میں ماہانہ ایک ہزار سے زائد نمونوں کا ٹیسٹ کیا گیا۔اجلاس میں ادارے کے تحت مختلف اصلاحاتی اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔جس میں بتایا گیا کہ موجودہ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹریز کو ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے معیار سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے، 2 عدد فعال موبائل ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹریز کے ذریعے موقع پر اسکریننگ بھی کی جاتی ہے، 5 مزید موبائل ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹریز کے قیام پر کام جاری ہے۔ سوات اور ڈی آئی خان میں ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹریز کے قیام پر کام جاری ہے، ڈرگ انسپکٹرز کی طرف سے ماہانہ پراگرس رپورٹ آن لائن پورٹل پر شیئر کی جاتی ہے، میڈیسن کوارڈینیشن سیل کے ذریعے معیاری ادویات و طبی آلات کی خریداری کی جاتی ہے۔وزیر اعلٰی علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ادویات کے معیار کو یقینی بنانے میں ادارے کا اہم کردار ہے، ادارے کو مزید مستحکم، فعال اور اسے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں، لوگوں کو علاج معالجے کی معیاری سہولیات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے، اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔صوبہ بھر میں جعلی اور غیر معیاری ادویات پر کڑی نظر رکھی جائے، غیر معیاری اور جعلی ادویات کی روک تھام کے لئے مزید موثر کاروائیاں عمل میں لائی جائیں۔

جواب دیں

Back to top button