چیئرپرسن وزیراعلیٰ پنجاب انسپکشن، سرویلنس و مانیٹرنگ ڈائریکٹوریٹ بریگیڈیئر (ر) بابر علاؤالدین کاواسا ہیڈ آفس کا دورہ

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایات پر چیئرپرسن وزیراعلیٰ پنجاب انسپکشن، سرویلنس و مانیٹرنگ ڈائریکٹوریٹ بریگیڈیئر (ر) بابر علاؤالدین ستارہ امتیاز (ملٹری) نے واسا ہیڈ آفس کا دورہ کیا۔دورے کے دوران انہوں نے ایک اہم اجلاس کی صدارت کی، جس میں ایم ڈی واسا غفران احمد نے لاہور ڈیویلپمنٹ پروگرام کے تحت جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں اور واسا کے ماسٹر پلان پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس میں واسا لاہور کی ریونیو کولیکشن، کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم اور سولرائزیشن کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

واسا لاہور کے آئی ٹی اور توانائی کے منصوبے کے منصوبوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔اجلاس میں واسا لاہور کے جدید آئی ٹی اصلاحات، بشمول رین ڈیش بورڈ، ریونیو ڈیش بورڈ، وہیکل مانیٹرنگ، جنریٹرز مانیٹرنگ اور کال سینٹر 1334 ڈیش بورڈ پر بریفنگ دی گئی۔ مزید برآں، یہ بھی بتایا گیا کہ واسا لاہور 2 میگاواٹ سولر سسٹم نصب کر چکا ہے، جبکہ رواں برس مزید 3.5 میگاواٹ سولر سسٹم لگانے کا منصوبہ ہے۔ایم ڈی واسا نے بتایا کہ عوام کو مزید بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے واسا لاہور رواں برس 200 نئی مشینری خریدے گا۔ لاہور ڈیویلپمنٹ پروگرام کے تحت ترقیاتی کام دو مراحل میں جاری ہے، پہلے مرحلے میں 443 کلومیٹر سیوریج لائن اور 548 کلومیٹر واٹر سپلائی لائن بچھائی جا رہی ہے، جبکہ دوسرے مرحلے کا آغاز بھی رواں برس ہوگا۔چیئرپرسن برگیڈیئر (ر) بابر علاؤالدین نے واسا حکام کو ہدایت دی کہ ترقیاتی منصوبوں کو جدید تقاضوں کے مطابق اور مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے۔ انہوں نے منصوبوں کی مانیٹرنگ سخت کرنے، شفافیت کو یقینی بنانے اور شہریوں کو معیاری خدمات فراہم کرنے پر زور دیا۔اجلاس میں بارشی پانی کو محفوظ بنانے والے زیر زمین واٹر ٹینکس کے منصوبے پر بھی بریفنگ دی گئی، جس پر چیئرپرسن نے اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی بچت کے لیے بروقت اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے اور پانی کے ضیاع کو روکنے کے لیے ہمیں مل کر کام کرنا ہوگا۔اس کے علاوہ چیئرپرسن نے واسا لاہور کے کنٹرول روم کا معائنہ کیا اور وہاں موجود عملے سے ملاقات کی۔ اس موقع پر اسٹاف آفیسر عبدالجبار بھٹی، میجر (ر) نوید اسلم، واسا لاہور سے ڈی ایم ڈی واسا عبدالطیف، اور تمام ٹاؤن ڈائریکٹرز بھی موجود تھے۔

جواب دیں

Back to top button