ڈپٹی کمشنر قصور عمران علی کی زیرصدارت ڈسٹرکٹ کوارڈینیشن کمیٹی کا جائزہ اجلاس

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر عمران علی کی زیرصدارت ڈسٹرکٹ کوارڈی نیشن کمیٹی کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈی پی اومحمدعیسیٰ خاں، پاک آرمی، رینجرز، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ز (ریونیو/جنرل)، اسسٹنٹ کمشنرز، سی ای اوز ہیلتھ وایجوکیشن، ایس ای واپڈا، ڈپٹی ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ، ایری گیشن، سول ڈیفنس آفیسر، لائیو سٹاک، ایگری کلچر ودیگر محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ ڈپٹی کمشنر عمران علی نے اجلاس کے آغاز میں تمام افسران کا شکریہ اداکیا جنہوں نے سیلابی صورت حال میں تندہی اور ذمہ داری سے اپنے فرائض سرانجام دیے۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل نے اجلاس کو بریفنگ دیتےہوئے بتایا کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوںپر 8ہزار 620 چالان کیے گئے ۔ ڈپٹی کمشنر نے قوانین کی دوبارہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی ہدایت کی۔ غیرقانونی پٹرول پمپس کے حوالے سے سول ڈیفنس آفیسر نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس وقت ضلع بھر میں 29غیرقانونی پٹرول پمپس آپریٹ کررہے ہیں۔ غیرقانونی طورپر ایرانی پٹرول فروخت کرنے والی پانچ مشینیں قبضے میں لے کر تلف کردی گئی ہیں جن کے مالکان کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے شہری علاقوں میں غیرقانونی ایل پی جی گیس کی ری فلنگ کرنے والوں کے خلاف کریک ڈائون کو مزید تیز کرنے کا حکم دیا۔ گداگری سے متعلق بتایا گیا کہ گداگری ایکٹ کے تحت 11مقدمات کا اندراج کیاگیا ہے۔ ایس ای واپڈا نے اجلاس کو بریفنگ کرتے ہوئے بتایا کہ واپڈا کی طرف سے سیلاب زدہ علاقوں کا وزٹ کیاجاچکا ہے جہاں پر سیلاب کی وجہ سے معطل ہونے والی بجلی کو جلد بحال کردیاجائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سیلاب کی زد میں آنے والے 13دیہاتوں میں 4ہزار 679 میٹرز متاثر ہوئے ہیں جن کی تنصیب جلدیقینی بنائی جائے گی۔ ڈپٹی کمشنر عمران علی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ سیلاب متاثرین کی بحالی اور دوبارہ آبادکاری کا مرحلہ ابھی باقی ہے جس کےلیے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ پوری طرح پُرعزم ہے۔ سیلاب متاثرین کی بحالی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔بعدازاں ڈپٹی کمشنر عمران علی کی زیرصدارت سیلاب متاثرین کے نقصانات بارے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی بورڈ کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں 162موضع جات میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیاگیا۔ اجلاس میں فلڈ ریلیف کیمپس کی صورت حال کا بھی جائزہ لیاگیا۔ اسسٹنٹ کمشنر چونیاں نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ چونیاں کے علاقہ میں سیلابی پانی اتر چکا اور لوگ اپنے گھروں کو واپس جانا شروع ہوگئے ہیں جس کے پیش نظر چونیاں میں مزید فلڈ ریلیف کیمپس کی ضرورت نہیں رہی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ بلوکی میں بھی پانی نیچے اترنے کی وجہ سے فلڈریلیف کیمپس کی ضرورت مزید نہیں رہی جبکہ تلوار پوسٹ، گنڈاسنگھ والا اور ڈی پی ایس سکول میں فلڈ ریلیف کیمپس کو مزید کچھ دنوں تک فعال رکھنے کی ہدایت کی گئی۔ ڈپٹی کمشنر عمران علی نے فعال رہنے والے فلڈ ریلیف کیمپس سے گھروں کو جانے والے افراد کو حکومت پنجاب کی جانب سے فراہم کردہ راشن کے بغیر نہیں بھیجا جائے گا۔ ڈپٹی ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ نے بریفنگ کے دوران بتایا کہ اس وقت سیلاب سے متعددسڑکیں ، سکولز اور سینکڑوں گھر متاثر ہوچکے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر عمران علی نے متعلقہ اداروں سے سیلاب زدہ علاقوں میں انفراسٹرکچر کی دوبارہ بحالی سے متعلق رپورٹس جلد جمع کروانے کی ہدایت کی۔ ڈپٹی کمشنر عمران علی نے سائلج کی خود ساختہ فروخت کو روکنے کیلئے مجسٹریٹ کو ایسے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنے کی ہدایت کی جبکہ پیرا فورس کو غیررجسٹرڈ سائلج بنانے والی کمپنیوں کو بند کرنے کا حکم دیا۔

جواب دیں

Back to top button