سموگ ایکشن پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے جائزہ اجلاس،سموگ سے نمٹنا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے سیکرٹری پی اینڈ ڈی رفاقت علی

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن اور سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کی ہدایت پر سیکرٹری پی اینڈ ڈی بورڈ رفاقت علی کی زیر صدارت سموگ آگاہی ایکشن پلان سے متعلق ایک اہم اجلاس ایڈیٹوریم پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ منعقد ہوا جس میں ایکشن پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے مختلف محکموں کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ۔ تمام متعلقہ محکموں کے فوکل پرسنز نے اجلاس میں شرکت کی۔سینئر چیف انوائرمنٹ پی اینڈ ڈی بورڈ نادیہ شفیق نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ایکشن پلان کی کے تحت پی اینڈ ڈی بورڈ میں سموگ مانیٹرنگ یونٹ اور ڈیش بورڈ کی تشکیل ہو چکی ہے ۔ یہ یونٹ پالیسی سازی، کوآرڈینیشن، مانیٹرنگ، اور سموگ سے متعلقہ ریئل ٹائم ڈیٹا اکٹھا کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔سینئر چیف انوائرمنٹ نے کہا کہ سیٹلائٹ ڈیٹا، گراؤنڈ سینسرز اور اے آئی پر مبنی پیشن گوئی ٹولز کو مربوط کر کے قبل از وقت عوام میں آگاہی پیدا کرے گا۔ انھوں نے بتایا کہ سموگ ایکشن پلان کے تحت مختلف محکموں کو مختلف ٹاسک تفویض کیے گئے ہیں تاکہ اسموگ اور فضائی آلودگی سے بچاؤ ممکن بنایا جا سکے ۔اس موقع پر مختلف محکموں کے نمائندوں نے سموگ ایکشن پلان کے تحت اپنے اپنے محکموں میں کئے گئے اقدامات بارے بریفننگ دی۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کے نمائندے نے ٹرانسپورٹ سیکٹر میں اہم اصلاحات پر روشنی ڈالی جن میں سے ایک پنجاب ڈیجیٹل ٹرانسپورٹ گورننس سسٹم ہے جو ریئل ٹائم مانیٹرنگ کر کے سموگ کی روک تھام میں مددگار ثابت ہو گا اسی طرح پرائیویٹ وہیکل انسپکشن سسٹم گاڑیوں کی آلودگی کو کنٹرول کرے گا۔ اجلاس کو بتایا گیا ہے ماحول دوست نقل و حرکت کو فروغ دینے کے لیے حکومت پنجاب کی جانب سے 2,953 ای بائیکس پہلے ہی تقسیم کی جا چکی ہیں، اور سینکڑوں الیکٹرک بسوں کو ٹرانسپورٹ کے شعبے میں شامل کیا جا رہا ہے۔زراعت کے نمائندے کی طرف سے بتایا گیا کہ فصلوں کی باقیات کو جلانے کی روزانہ کی بنیاد پر نگرانی کی جا رہی ہے

اور پنجاب کلین ایئر پراجیکٹ کے تحت کسانوں کو سپر سیڈرز کے لیے مالی معاونت اور رینٹل سروسز پر سبسڈی مل رہی ہے۔ مزید برآں محکمہ ماحولیات کے نمائندے نے بریفنگ میں بتایا کہ لاہور میں 50 AQI (ایئر کوالٹی انڈیکس) ڈسپلے سکرینیں عوام میں سموگ کی آگاہی پیدا کرنے میں معاون اور مددگار ثابت ہوں گی۔اجلاس کو بتایا گیا ہے توانائی کے شعبے میں زیرو ایمیشن پروگرام کے ذریعے ٹیوب ویلوں اور عوامی عمارتوں کو سولرائز کیا جا رہا ہے۔

اسی طرح ہسپتالوں میں سموگ سینٹرز کے قیام، ضلعی سطح پر آگاہی مہم اور سموگ سے متعلق بیماریوں سے نمٹنے کے لیے مخصوص سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے۔اس موقع پر سیکرٹری پی اینڈ ڈی بورڈ رفاقت علی نے کہا کہ جاری اقدامات کے علاوہ پلان کے تحت اس سال کئی نئے اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ ان میں 2026 تک بڑے شہروں میں یورو-6 معیاری ایندھن کو لازمی قرار دینے کے لیے کلین فیول پالیسی ، ڈیزل بسوں کو مرحلہ وار ختم کرنے کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ الیکٹریفیکیشن روڈ میپ کا آغاز، اور صنعتی اخراج زونز کا قیام جہاں آلودگی پھیلانے والی صنعتوں کو سختی سے کنٹرول کیا جائے گا اسی طرح غیر قانونی فضلہ جلانے یا دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں جیسی خلاف ورزیوں کی ریئل ٹائم رپورٹنگ کے قابل بنانے کے لیے ایک سیٹیزن انگیجمنٹ ایپ بھی شروع کی جارہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ سکول ایجوکیشن گرین سکولز پروگرام شروع کرے گا جس میں سکولوں میں 1.78 ملین پودے لگانا، چھوٹی نرسریوں کا قیام، میاواکی جنگلات کو ترقی دینا، اور ماحولیاتی آگاہی کے لیے ایکو کلب قائم کرنا شامل ہے۔ طلباء کو ورکشاپس، مقابلوں اورماحولیاتی ذمہ داری میں شامل کیا جائے گا۔سیکرٹری پی اینڈ ڈی بورڈ رفاقت علی نے مزید کہا کہ دیگر اقدامات میں چھتوں پر باغبانی کی سبسڈی اور شاہراہوں کے ساتھ گرین بیلٹس، آگاہی بڑھانے کے لیے کمیونٹی ہیلتھ آؤٹ ریچ پروگرام، اور زیادہ خطرات کے مہینوں کے دوران انسداد سموگ ایس او پیز کو نافذ کرنے کے لیے ڈویژنل اور ضلعی سطح پر سموگ رسپانس ٹاسک فورسز کا قیام شامل ہیں۔مزید انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ لاہور میں سموگ سے متعلق بیماریوں کے مطالعہ کے لیے 20 ملین روپے بھی تجویز کیے گئے ہیں۔اجلاس کے اختتام پر سیکرٹری پی اینڈ ڈی بورڈ رفاقت علی نے اس بات پر زور دیا کہ سموگ سے نمٹنا کسی ایک محکمہ کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ تمام محکموں کی اجتماعی زمہ داری ہے ۔

جواب دیں

Back to top button