بلدیہ عظمیٰ کراچی کے تحت کراچی کی ثقافت اور روح کو زندہ کرنے کے لیے باقاعدہ ثقافتی و صوفیانہ تقریبات کا انعقاد

کراچی(بلدیات ٹائمز)میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے محکمہ کھیل و ثقافت کو ہدایت کی ہے کہ کراچی کی اصل روح کو دوبارہ زندہ کرنے اور اسے روشنیوں اور علم و ادب کے شہر کے طور پر بحال کرنے کے ایک تاریخی اقدام کے طور پر باقاعدگی سے ثقافتی اور صوفیانہ تقریبات منعقد کی جائیں،یہ اقدام جو کراچی کی کثیرالثقافتی روح کے جشن کے طور پر ترتیب دیا گیا ہے، نہ صرف شہر کی جاندار فنونِ لطیفہ اور ادبی روایات کو اجاگر کرے گا بلکہ شہریوں کو صحت مند تفریح، ہم آہنگی اور میل جول کے مواقع بھی فراہم کرے گا، ثقافتی سرگرمیوں کے اس سلسلے میں صوفی موسیقی کی محفلیں، ادبی نشستیں، عظیم شعرا ء کی برسیوں اور فن، ادب اور تاریخ کے نامور شخصیات کی یاد میں تقاریب شامل ہوں گی، یہ تقریبات فریئر ہال، ڈینسو ہال، خالق دینا ہال اور شہر کے دیگر تاریخی مقامات پر منعقد کی جائیں گی،بطور علامتی آغاز کے ایم سی حضرت امیر خسرو کی 770 ویں برسی کے موقع پر ایک خصوصی تقریب منعقد کر رہی ہے، ”طوطی ہند“ اور قوالی کے بانی کہلانے والے حضرت خسرو کی وراثت کراچی کے متنوع ثقافتی ڈھانچے میں محبت، برداشت اور ہم آہنگی کی عکاس ہے،بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ترجمان دانیال سیال نے کہاکہ میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کے وژن اور ہدایات کے تحت کے ایم سی صرف بنیادی ڈھانچے کی ترقی تک محدود نہیں ہے بلکہ ہم اپنے شہریوں کے لیے ثقافت، کھیل اور تفریح کی سہولیات فراہم کرنے کے بھی برابر پرُعزم ہیں، شہر کی ثقافتی دھڑکن کو دوبارہ زندہ کرنا ایک ترقی پسند، جامع اور باخبر کراچی کی تعمیر کے لیے ضروری ہے،میئر کراچی نے کہا کہ یہ ثقافتی پروگرام شہریوں کے درمیان اتحاد کی قوت کے طور پر کام کریں گے اور سب کو کراچی کی مشترکہ وراثت منانے کے لیے یکجا کریں گے، تعلیم اور ثقافت کے مقامات کو دوبارہ زندہ کر کے کے ایم سی کا مقصد علم، موسیقی، شاعری اور فنون کے چراغ کو شہر بھر میں دوبارہ روشن کرنا ہے،کراچی جو کبھی جنوبی ایشیا کی ثقافتی اور ادبی سرگرمیوں کی دھڑکن کے طور پر جانا جاتا تھا ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے،اس ثقافتی نشاۃ ثانیہ کے ذریعے کے ایم سی اپنے عوام کے لیے زیادہ روشن، ہم آہنگ اور ثقافتی طور پر مالا مال مستقبل کی راہ ہموار کر رہا ہے۔

جواب دیں

Back to top button