خیبرپختونخوا میں مقامی حکومتوں کا نظام پاکستان تحریک انصاف کے سابقہ و موجودہ حکومتوں کیوجہ سے مفلوج ہیں۔ مقامی حکومتوں کے نمائندے وسائل، اختیارات، ترقیاتی فنڈز عدم فراہمی کیوجہ سے صحیح معنوں میں خدمت نہیں کرسکے. مقامی حکومتیں مضبوط ہوتی صوبائی حکومت لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترامیم کرکے، مقامی حکومتوں کو قانونی آئینی اختیارات و ترقیاتی فنڈز سے محروم نا رکھتی تو اج صوبائی حکومت پر مسائل کا بوجھ کافی حد تک کم ہوتا عوام کو گھر کی دہلیز پر میونسپل و سماجی خدمات میسر ہوتی۔خیبرپختونخوا میں بلدیاتی نمائندوں کو صوبائی حکومت کی طرف سے بار بار نظرانداز کرنے قانونی آئینی اختیارات و ترقیاتی فنڈز ہونے کے باوجود بھی خیبرپختونخوا کے بلدیاتی نمائندے مقامی سطح پر اپنی مدد اپ کے تحت عوام کی خدمت میں مصروف ہیں مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کا نعرہ تھا اور بانی پی ٹی آئی کا وژن تھا کہ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی ہو مگر پی ٹی آئی کی سابقہ اور موجودہ دونوں حکومتوں نے اختیارات کی نچلی سطح منتقلی کے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کے بجائے مقامی حکومتوں کیساتھ ایسا ظلم نا انصافی کی جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ 2019 لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے زریعے مقامی حکومتوں کو منتقل شدہ دفاتر میں سے ابتک خیبرپختونخوا میں کسی ایک تحصیل میں ایک بھی منتقل شدہ دفتر کا قیام ممکن نا ہوسکا۔ ضم اضلاع کی تاریخ میں پہلے دفعہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا گیا جس سے ضم اضلاع کے عوام اور نمائندوں کو بڑی توقعات تھی مگر اج تک ضم اضلاع کے 25 تحصیلوں میں تحصیل لوکل گورنمنٹ کے دفاتر کا قیام نا ہوسکا۔
لوکل کونسلز ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا کے زیر قیادت متعدد بار صوبائی حکومت بالخصوص سابقہ وزیر اعلیٰ محمود خان، علی آمین گنڈاپور کیساتھ مذاکرات، پرامن احتجاج ہوئے متعدد بار بلدیاتی نمائندوں پر شدید شیلنگ لاٹھی چارج کی گئی بلدیاتی نمائندوں کو زخمی کیا گیا گرفتاریاں کی گی۔ صوبائی حکومت کیطرف سے بار بار یقین دہانیوں کے باوجود مقامی حکومتوں کے فعالیت لیے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے سنجیدہ اقدامات نہیں اٹھائے۔ ترجمان لوکل کونسلز ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا تحصیل چئیرمین سرائے نورنگ لکی مروت، کوارڈنیبٹر لوکل کونسلز ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا چئیرمین شاہین ٹاون پشاور نے ایک دفعہ پھر نومنتخب وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سے مقامی حکومتوں کے حوالے سے اچھی امیدیں رکھتے ہوئے بھر پور اپیل کی ہے کہ مضبوط مستحکم بلدیاتی نظام کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے بصورت دیکر عوامی حقوق کی خاطر، مضبوط مستحکم بلدیاتی نظام کے لیے پرامن احتجاج ہمارا قانونی آئینی حق ہیں۔انتظار خلیل نے کہا ہے کہ نومنتخب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو بلدیاتی مسائل، عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد کرانے کے لیے تحریری درخواست جمع کررہے ہے۔عزیر اللہ مروت ترجمان لوکل کونسلز ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے گزشتہ ساڑھے تین سالوں سے خیبرپختونخوا میں مقامی حکومتوں کو مفلوج رکھکر عوامی مشکلات میں شدید اضافہ کیا ہیں۔






