مریم نواز حکومت 169 شہروں میں 700 ارب کی لاگت سے میونسپل سروسز کےمنصوبے مکمل کریگی، وزیر بلدیات ذیشان رفیق

وزیر بلدیات پنجاب ذیشان رفیق نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ مریم نواز حکومت صوبے کے 169 شہروں میں اگلے 25 سال تک کے میونسپل مسائل کا حل فراہم کرے گی۔ اس منصوبے پر تقریباً 700 ارب روپے لاگت کا ابتدائی تخمینہ لگایا گیا ہے۔ وہ سول سیکرٹریٹ میں ہونے والے ایک اجلاس سے خطاب کر رہے تھے جس میں چیف منسٹر سیٹیز ڈویلپمنٹ پروگرام میں پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ سیکرٹری لوکل گورنمنٹ شکیل احمد میاں، سپیشل سیکرٹری آسیہ گل اور ایڈیشنل سیکرٹری نے بھی شرکت کی۔ پنجاب میونسپل ڈویلپمنٹ فنڈ کمپنی (پی ایم ڈی ایف سی) کے ایم ڈی سید زاہد عزیز نے شرکا کو بریفنگ دی۔

وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے کہا کہ پروگرام کے تحت پہلے مرحلے میں 59 شہروں میں انڈر گراؤنڈ واٹر ٹینک، سیوریج سسٹم، ڈسپوزل پمپ سٹیشن بنائے جائیں گے۔ سٹریٹ لائٹس اور پارکوں کی تعمیر و بحالی بھی یقینی بنائی جائے گی۔ اس منصوبے میں شہروں کی 2050 تک تمام ضروریات کو مدنظر رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگلے مرحلے میں مزید 110 شہروں میں کام کیا جائے گا۔ وزیر بلدیات نے کہا کہ پنجاب حکومت ورلڈ بینک کے تعاون سے 59 شہروں میں 358 ارب روپے خرچ کریگی۔ دوسرے مرحلے میں 110 شہروں میں 336 ارب کی سکیمیں مکمل کی جائیں گی۔ صوبائی وزیر نے پی ایم ڈی ایف سی کو 15 مئی تک دونوں منصوبوں کے پی سی ون مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلی مریم نواز شریف میگا پراجیکٹ کی منظوری دے چکی ہیں۔ نئے مالی سال کے اے ڈی پی میں دونوں مراحل شامل ہونے چاہئیں۔ ذیشان رفیق نے کہا کہ سیوریج اور گلیوں کی تعمیر کی سکیموں سے شہریوں کو سہولت میسر آئے گی۔ اجلاس میں شہروں کے نواح میں نئی آبادیوں کو بھی پروگرام میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیر بلدیات نے کہا کہ ہر شہر میں سیوریج کا پانی کسی نہ کسی ڈرین تک پہنچایا جائے گا۔ ایم ڈی پی ایم ڈی ایف سی تمام ڈیٹا پر خود نظرثانی کرکے رپورٹ دیں۔

اس موقع پر سیکرٹری لوکل گورنمنٹ شکیل احمد میاں نے ہدایت کی کہ مقررہ ٹائم لائن پر ہر صورت میں عملدرآمد کیا جائے۔ منصوبوں کے لئے ایک یا زائد کنسلٹنٹس کے تقرر کا عمل بھی جلد مکمل ہونا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ مشینری پہلے درآمد کرنے کی بجائے ڈسپوزل سٹیشنز کی تعمیر کے بعد منگوائی جائے۔ انہوں نے یہ ہدایت بھی کی کہ پی ایم ڈی ایف سی ڈویژن وائز شہروں کی تفصیل جمع کرائے۔

جواب دیں

Back to top button