پنجاب میں بلدیاتی انتخابات فائنل کرنے کے لئے الیکشن کمیشن نےچیف سیکرٹری اور سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کو30 اکتوبر کومدعو کر لیا

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ترجمان نے کہا ہے کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے مؤخر کرنے کی الیکشن کمیشن پر تنقید آئین پاکستان اور قانون سے لاعلمی ظاہر کرتی ہے ۔ آئین کے آرٹیکل 140 – اے کے تحت ہر صوبائی حکومت پر لازم ہے کہ وہ اپنا بلدیاتی نظام کا قانون بنائے اور اس کے تحت قواعد وضوابط تشکیل دے جبکہ الیکشن کمیشن الیکشنز ایکٹ 2017 ء کی دفعہ 219 کے تحت صوبہ کے مجوزہ قوانین اور رولز کے مطابق انتخابات منعقد کروانے کا مجاز ہے۔

حکومت پنجاب کی جانب سے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 کے نفاذ کے بعد لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2022 منسوخ کر دیا گیا ہے۔ لہذا الیکشن کمیشن کسی منسوخ شدہ قانون کے تحت کیسے انتخابات کروا سکتا ہے۔ بلدیاتی ایکٹ 2025 منظور ہونے کے بعد ، سابقہ قانون کے تحت جاری کردہ حد بندیوں کے شیڈول کو واپس لینا الیکشن کمیشن کے لیے قانونی طور ناگزیر تھا۔الیکشن کمیشن نے صوبائی حکومت کو حلقہ بندی اور ڈیمار کیشن کے رولز کی تکمیل کیلئے 4 ہفتے کا ٹائم دیا ہے جس کے فوراً بعد حلقہ بندی کا شیڈول دیدیا جائے گا اور حلقہ بندیوں کا کام مکمل ہونے کے فوراً بعد الیکشن کروا دیئے جائیں گے۔ اس سلسلے میں چیف سیکرٹری اور سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کو مورخہ 30 اکتوبر بروز جمعرات الیکشن کمیشن میں مدعو کر لیا گیا ہے تا کہ تمام اقدامات کو فائنل کیا جا سکے۔

جواب دیں

Back to top button