گلگت بلتستان میں ٹینڈرز کے موجودہ نظام سے متعلق اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ گلگت بلتستان کی جانب سے پیش کردہ تجاویز پر اعلیٰ حکام کی جانب سے مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے۔ چیف سیکریٹری گلگت بلتستان نے تمام متعلقہ اداروں اور محکموں کو ان تجاویز پر عملدرآمد کے لیے فوری ہدایات جاری کرنے کے احکامات دیے ہیں۔گزشتہ دنوں اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ گلگت بلتستان نے چیف سیکریٹری آفس کو ٹینڈرز کے نظام میں بہتری کے لیے مفصل تجاویز پیش کی تھیں۔ یاد رہے کہ گلگت بلتستان میں ٹینڈرز کے ناقص طریقہ کار کے باعث کئی انتظامی اور مالی مسائل جنم لیتے رہے ہیں، جن سے ترقیاتی منصوبوں کے معیار پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے اپنی رپورٹ میں نشاندہی کی کہ موجودہ ٹینڈر سسٹم میں بعض خامیاں بدعنوان عناصر کو اپنے مفادات حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں حکومتی وسائل کا ضیاع اور منصوبوں میں شفافیت کی کمی پیدا ہوتی ہے۔رپورٹ میں یہ نقائص واضح کیے گئے کہ
• من پسند اور غیر فعال افراد پر مشتمل ٹینڈر کمیٹیوں کی تشکیل،
• ٹینڈر کے مختلف مراحل میں غیر ضروری تاخیر،
• ترقیاتی منصوبوں کے دوران پہلے سے موجود اثاثوں کا غیر محفوظ رہنا،
• منصوبوں کے دائرہ کار (Scope) سے عوام کی لاعلمی،
• ٹربو جنریشن سیٹس کی خریداری میں سپیئر ز/ اسسریز کی تصدیق کا نہ ہونا —
یہ تمام عوامل ٹینڈر کے عمل کو متاثر کرتے ہیں۔اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے نہ صرف ان نقائص کی نشاندہی کی بلکہ ان کے تدارک کے لیے قابلِ عمل سفارشات بھی پیش کیں، جنہیں چیف سیکریٹری نے سراہتے ہوئے تمام سیکریٹریز، کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو بریف کرنے کے احکامات جاری کیے۔ مزید برآں، پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں ایک خصوصی سیل قائم کرنے کی ہدایات بھی دی گئی ہیں تاکہ ان رہنما اصولوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ گلگت بلتستان نے اپنے انکوائریز کے تجربات کی بنیاد پر یہ سفارشات تیار کیں، جن پر عمل درآمد سے نہ صرف ٹینڈر کے نظام میں شفافیت آئے گی بلکہ کرپشن اور بدعنوانی کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔ توقع ہے کہ یہ اقدام علاقے کی ترقی اور گورننس میں بہتری کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔






