وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اقوام متحدہ کے آبادی فنڈ کے زیر اہتمام پنجاب کے ارکانِ اسمبلی کے وفد سے ملاقات کے دوران کہا کہ ان کی حکومت نے پاکستان میں حقوق پر مبنی قانون سازی میں رہنمائی فراہم کی ہے اور وہ سرکاری محکموں اور ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ ہم آہنگ کوششوں کے ذریعے ان قوانین پر عملدرآمد کو مزید بہتر بنا رہی ہے۔ملاقات میں خواتین اور بچوں کے تحفظ سے متعلق قوانین اور سندھ کے رہنما قانون سازی کے فریم ورک پر غور کیا گیا جو معاشرے کے کمزور طبقات، خصوصاً خواتین اور بچوں کے تحفظ کے لیے بنایا گیا ہے۔
یہ ملاقات وزیرِ اعلیٰ ہاؤس میں ہوئی جس میں صوبائی وزراء سعید غنی، شاہینہ شیر علی، طارق تالپور، اقلیتی امور کے خصوصی معاون راجویر سنگھ، سیکریٹری داخلہ اقبال میمن، وزیرِ اعلیٰ کے سیکریٹری رحیم شیخ، سیکریٹری قانون احمد علی بلوچ اور دیگر حکام نے شرکت کی۔پنجاب کے ارکانِ اسمبلی میں علی گیلانی، احمر بھٹی، رانا محمد ارشد، ذوالفقار علی شاہ، محمد اویس دریشک، شہباز احمد، محترمہ سارہ احمد، محترمہ عشرت اشرف، پی ڈی یو کے عطااللہ اویس، محترمہ اسفہ، سلطان داؤد، اسامہ خاور، پی ڈی یو، اقوام متحدہ کے آبادی فنڈ کے نائب نمائندے اور دیگر شامل تھے۔
وزیرِ اعلیٰ نے وفد کو سندھ میں صنفی مساوات کے فروغ، کم عمر افراد کو استحصال سے بچانے اور خواتین کو سماجی و اقتصادی طور پر بااختیار بنانے کے لیے کیے گئے جامع قانونی و ادارہ جاتی اقدامات پر بریفنگ دی۔ انہوں نے زور دیا کہ سندھ ہمیشہ سے پاکستان میں حقوق پر مبنی قانون سازی کے حوالے سے پیش پیش رہا ہے اور حکومتی محکموں اور ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ ہم آہنگ کوششوں کے ذریعے قانون نافذ کرنے کے عمل کو مضبوط بنا رہا ہے۔ملاقات کے دوران وزیرِ اعلیٰ نے گزشتہ ایک دہائی میں سندھ حکومت کی جانب سے کی گئی اہم قانون سازی پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ چائلڈ پروٹیکشن اتھارٹی ایکٹ 2011 خصوصی نگہداشت کے محتاج بچوں کے تحفظ اور فلاح کے لیے ادارہ جاتی نظام قائم کرتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سندھ چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2013 کم عمری کی شادیوں کو روکنے اور ان پر سزا دینے سے متعلق ہے تاکہ کم عمر لڑکیوں کو زبردستی یا قبل از وقت شادیوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ ڈومیسٹک وائلنس (پروٹیکشن اینڈ پریوینشن) ایکٹ 2013 خواتین، بچوں اور کمزور طبقات کو گھریلو تشدد کی تمام اقسام سے بچاتا ہے اور رپورٹنگ، تحفظ اور انصاف کے لیے مؤثر نظام فراہم کرتا ہے۔سندھ کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن ایکٹ 2015 ایک بااختیار قانونی ادارہ قائم کرتا ہے جو خواتین کے سیاسی، اقتصادی اور سماجی حقوق کو فروغ دیتا ہے اور حکومت کی قومی و بین الاقوامی صنفی مساوات سے متعلق وعدوں پر عملدرآمد کی نگرانی کرتا ہے۔وزیرِ اعلیٰ نے بتایا کہ ویمن ایگریکلچرل ورکرز ایکٹ 2019 زرعی شعبے میں کام کرنے والی خواتین کو باضابطہ کارکن کے طور پر تسلیم کرتا ہے جنہیں مناسب اجرت، بہتر کام کے حالات اور سماجی تحفظ کی اسکیموں تک رسائی حاصل ہے۔وزیرِ اعلیٰ اور پنجاب کے ارکانِ اسمبلی کے درمیان گفتگو کے دوران ہندو شادیوں سے متعلق معاملات پر بھی تفصیل سے بات چیت ہوئی۔ سندھ کے وزیرِ اعلیٰ نے بتایا کہ ان کی حکومت نے سندھ ہندو میرج ایکٹ 2016 منظور کیا جو ہندو برادری کے اندر شادیوں کی رجسٹریشن کے لیے قانونی فریم ورک فراہم کرتا ہے اور اقلیتی خواتین کے خاندانی اور وراثتی حقوق کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے۔
وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ نے اس بات پر زور دیا کہ یہ تمام قوانین سندھ کے ایک ترقی پسند، جامع اور مساوی معاشرے کے وژن کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ صرف قانون سازی تک محدود نہیں بلکہ آگاہی مہمات، استعداد کار میں اضافے اور سول سوسائٹی و اقوام متحدہ کی ایجنسیوں کے ساتھ تعاون کے ذریعے مؤثر عملدرآمد کو بھی یقینی بنا رہا ہے۔دورہ کرنے والے وفد نے خواتین اور بچوں کے تحفظ کے لیے سندھ کے اقدامات کو سراہا اور کہا کہ ان میں سے کئی قوانین دیگر صوبوں کے لیے ماڈل کے طور پر اپنائے جا سکتے ہیں۔اقوام متحدہ کے آبادی فنڈ کے نمائندوں نے بھی صنفی انصاف اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے سندھ کے عزم کی تعریف کی جو پائیدار ترقی کے اہداف (خصوصاً ہدف نمبر 5 برائے صنفی مساوات) سے ہم آہنگ ہے۔ملاقات کا اختتام بین الصوبائی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور اقوام متحدہ کے آبادی فنڈ کے ساتھ پالیسی مکالمے، تکنیکی معاونت اور ادارہ جاتی استعداد کار میں اضافے کے لیے شراکت داری کے عزم کے ساتھ ہوا۔






