کوئٹہ شہر میں زیر زمین پانی کی گرتی ہوئی سطح گھمبیر صورتحال اختیار کر کے بحرانی حد تک پہنچ چکی ہے،گورنر بلوچستان

گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے یونیسف کے زیر اہتمام کلائمنٹ چینج سے متعلق منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب تک دنیا کے ترقی یافتہ ممالک موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے فوری اور ٹھوس عملی اقدامات نہیں اٹھاتے تو ممکنہ طور پر دنیا کا خاتمہ موسمیاتی تبدیلیوں کے ذریعے ہو جائیگا. کوئٹہ شہر میں زیر زمین پانی کی گرتی ہوئی سطح گھمبیر صورتحال اختیار کر کے بحرانی حد تک پہنچ چکی ہے اور آنے والے عشرے میں کوئٹہ گھوسٹ سٹی میں تبدیل ہونے کا خطرہ ہے۔ قلات، قلعہ سیف اللہ اور چمن میں بھی ایسی ہی صورتحال ہے لہٰذا کوئٹہ شہر کے چاروں اطراف سے زیر زمین پانی کے ٹیبل کو ریچارج کرنے کیلئے ڈیموں کی تعمیر اور دیگر ضروری اقدامات پر عملدرآمد کی اشد ضرورت ہے۔ اس موقع پر یونیسف کے نمائندے محمد ہمایوں امیری، وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد حفیظ اور پرو-وائس چانسلر ڈاکٹر میروائس کاسی سمیت متعدد اسکالرز اینڈ ریسرچرز موجود تھے. اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ یونیسف کے تعاون سے موسمیاتی تبدیلیوں پر منعقدہ یہ سیمینار ہماری انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری کی بروقت یاد دہانی ہے۔ اب وقت آپہنچا ہے کہ ہم اپنی تمام اجتماعی مہارت اور وسائل کو متحرک کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس پھیلی ہوئی وسیع کائنات میں لمحہ موجود تک تمام بنی نوع انسان کا صرف ایک مشترکہ گھر ہے اور وہ گھر "سیارہ زمین” ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہمارے اسی سیارے کو بےشمار خطرات اور خدشات کا سامنا ہے اور اب اس کی حفاظت کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک سماجی، معاشی اور سیاسی چیلنج بھی ہے جس پر فوری طور پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ بحیثیت فرد اور ریاست ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو پہچاننا ہوگا کیونکہ ماحولیات کے حوالے سے ان خطرناک حالات سے نمٹنے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں آلودگی کو کم کرنا چاہیے، سولر انرجی کے ذرائع میں سرمایہ کاری کرنا چاہیے اور اپنی روزمرہ زندگی میں پائیدار طور طریقوں کو اپنانا چاہیے۔ یہ بات یقین کے ساتھ کی جا سکتی ہے کہ ہم آنے والی نسلوں کیلئے ایک محفوظ مستقبل کو یقینی بنا سکتے ہیں۔ گورنربلوچستان نے کہا کہ بیوٹمز یونیورسٹی کی ایک یہ خوبی بھی ہے کہ وہ کوالٹی ایجوکیشن، نوجوان ذہنوں کی پرورش اور ان کی پوشیدہ صلاحیتوں میں نکھار پیدا کرنے کیلئے کبھی کبھار آرٹ نمائش اور دیگر ہم نصابی سرگرمیوں کا اہتمام بھی کرتی ہے۔ میں تمام منتظمین اور شرکاء کو اس بروقت سیمینار کے انعقاد پر مبارکباد پیش کرتا ہوں اور اُمید کرتا ہوں کہ آپ علم اور روشن فکری کا یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھیں گے۔ بعد ازاں گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل بیوٹمز یونیورسٹی میں منعقدہ آرٹ نمائش کا باقاعدہ افتتاح کیا اور وہاں پر رکھے گئے فن پاروں کا معائنہ کیا. آخر میں گورنر بلوچستان نے نمائش میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اسٹوڈنٹس میں انعامات تقسیم کئے.

جواب دیں

Back to top button