صوبائی دارالحکومت پشاور کی عظمت رفتہ کی بحالی کے لیے بڑا اقدام، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے پشاور بیوٹیفیکیشن منصوبے کا افتتاح کر دیا۔ منصوبے کے تحت روڈزانفراسٹرکچر کی بحالی، سٹریٹ لائٹس کی تنصیب اور بیوٹیفیکیشن سمیت دیگر اقدامات کیے جائیں گے۔ ٹریفک رش کم کرنا، مجسموں کی تنصیب، گرین ایریاز ڈویلپمنٹ بھی منصوبے کا حصہ ہیں۔وزیر اعلٰی محمد سہیل آفریدی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ

خیبرپختونخوا کے عوام نے تیسری بار عمران خان کے نظریئے کو ووٹ دیا ہم انہیں جتنی سہولت دے سکتے ہیں دیں گے، کچھ نادان انگلی اٹھاتے ہیں کہ خیبر پختونخوا کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک فیصد مل رہا ہے، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں بھی خیبر پختونخوا نے دیں۔ دیگر صوبوں کو مختلف مدات میں ہم سے بھی زیادہ پیسے مل رہے ہیں، پن بجلی کے خالص منافع کی مد میں2200 ارب روپے وفاق کے ذمے بقایا ہیں مگر اس پر کوئی بات نہیں کرتا۔ ضم اضلاع کے لیے 100 ارب روپے سالانہ کا وعدہ کیا گیا تھا مگر پیسے دیئے نہیں گئے۔ ضم اضلاع کے لیے 500 ارب روپے بھی وفاق کے ذمے بقایا ہیں۔سابق فاٹا کا انتظامی انضمام تو ہو گیا مگر مالی انضمام نہیں ہوا، این ایف سی میں ہمارا حصہ 19.4 فیصد بنتا ہے مگر 14.6 فیصد دیا جاتا ہے۔ ہمیں اپنا پورا حق دیا جائے، وفاق خیبر پختونخوا کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہا ہے۔خیبرپختونخوا میں جتنے قوانین اور پالیسیاں بنیں گی ان کا محور عوام کی فلاح ہوگا، بیوٹیفیکیشن منصوبے کے تحت پشاور رنگ روڈ، جمرود روڈ، اور جی ٹی روڈ کی بحالی عمل میں لائی جائے گی۔ پشاور صوبائی دارلخلافہ ہے، اس کی دیکھ بھال اور خوبصورتی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، پشاور کی ترقی اور خوبصورتی کے لئے مزید منصوبے لائیں گے، یہ ہمارا چہرہ ہے، عوامی نمائندوں کی مشاورت سے پشاور کے لیے ایک جامع پلان تشکیل دیں گے۔






