پشاور سمارٹ سٹی منصوبے پر پیش رفت مزید تیز کرنے کے لیے صوبائی وزیرِ بلدیات مینا خان آفریدی کی زیر صدارت لوکل گورنمنٹ سیکرٹریٹ میں اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں پشاور سے تعلق رکھنے والے منتخب اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی نے شرکت کی۔
محکمہ بلدیات، تعمیرات و مواصلات، آبپاشی اور پبلک ہیلتھ انجینئرنگ نے صفائی، نکاسی آب، صاف پانی کی فراہمی، سڑکوں کی توسیع، پارکس، اربن فلڈنگ سے بچاؤ، انڈر پاسز، سبزی منڈیوں اور بس اسٹینڈز سے متعلق تفصیلی بریفنگ پیش کی۔ اراکین اسمبلی کی تجاویز کو موقع پر ہی پلان میں شامل کر لیا گیا۔
اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ غیر قانونی سبزی منڈیوں کو متبادل مقامات پر منتقل کیا جائے گا اور پارکس میں تمام خدمات فیس کے بغیر فراہم نہیں ہوں گی۔ سلاٹر ہاؤس اور قبرستان کے لیے تجاویز اراکین اسمبلی پیش کریں گے۔ غیر فعال ٹیوب ویلز کی بحالی کے لیے بھی پروپوزل تیار کیا جائے گا۔
مینا خان آفریدی نے ہدایت کی کہ تمام اسکیمز، ڈیزائنز اور فیزیبلٹی رپورٹس جلد مکمل کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز مل کر پشاور کو جدید اور رہنے کے قابل شہر بنائیں گے، اور جون 2026 تک ترقی کے واضح اثرات سامنے ہوں گے۔






