وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے اقوام متحدہ کے ادارے ایف اے او کے وفد کی ملاقات،انڈس ڈیلٹا کی بہتری کےلیے جاری پروگراموں پر بھی بات چیت

سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ سے اقوام متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) کے وفد نے ملاقات کی جس کی قیادت لینڈ اینڈ واٹر ڈویژن کے ڈائریکٹر مسٹر لیفینگ لی کر رہے تھے۔ ملاقات کا مقصد صوبے میں اہم زرعی اور ماحولیاتی لچک سے متعلق منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لینا تھا۔وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونے والی اس ملاقات میں وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقیات (پی اینڈ ڈی) اور آبپاشی جام خان شورو، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، چیئرمین پی اینڈ ڈی نجم شاہ، سیکریٹری وزیراعلیٰ رحیم شیخ، سیکریٹری زراعت زمان ناریجو، سیکریٹری آبپاشی ظریف کھڑو اور دیگر حکام نے شرکت کی۔ ایف اے او حکام میں ایشیا واٹر آفیسر ولید حسن ابوال، سینئر واٹر اینڈ لینڈ آفیسر ڈاکٹر روبینہ وہاج، ایف اے او پاکستان انچارچ جیمز رابرٹ اوکوتھ اور کنٹری پروگرام ہیڈ مس آمنہ باجوہ شامل تھیں۔

گفتگو کا محور سندھ میں جاری منصوبوں کے ذریعے فوڈ سیکیورٹی کو مضبوط بنانے اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت کو بہتر بنانا تھا۔ وزیراعلیٰ اور ایف اے او وفد نے بین الاقوامی شراکت داروں کی معاونت سے جاری اہم منصوبوں کا جائزہ لیا:

گریس پراجیکٹ

یورپی یونین کے 4 کروڑ 80 لاکھ یورو کے فنڈ سے چلنے والا یہ منصوبہ سجاول، ٹھٹہ، میرپورخاص، حیدرآباد سمیت 11 اضلاع میں جاری ہے۔ اس کا مقصد باغبانی اور مویشیوں کے ویلیو چین میں مائیکرو، اسمال اور میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ایز) اور ایگری بزنس کو مضبوط بنا کر دیہی غربت میں کمی لانا ہے۔

موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ زراعت اور پانی کے انتظام سے انڈس بیسن کی تبدیلی کا پروگرام

4کروڑ 76 لاکھ 90 ہزار ڈالر مالیت کا یہ منصوبہ عمرکوٹ، بدین اور سانگھڑ میں جاری ہے۔ اس کا مقصد سندھ کے زرعی نظام کو ڈیٹا پر مبنی، موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ ماڈل میں تبدیل کرنا ہے جس سے 2 لاکھ سے زائد گھرانے فائدہ اٹھائیں گے۔

سندھ میں کاشت کاروں اور چرواہوں کی استطاعت میں اضافے کا پروگرام

35لاکھ ڈالر مالیت کا یہ منصوبہ تھرپارکر اور عمرکوٹ میں جاری ہے جس کا مقصد خشک سالی، سیلاب اور دیگر آفات ں سے متاثرہ آبادیوں کے روزگار کو محفوظ بنانا اور ان کی لچک میں اضافہ کرنا ہے۔

انڈس بیسن پراجیکٹ: تکنیکی معاونت ایف اے او وفد نے خاص طور پر ٹرانسفارمنگ دی انڈس بیسن منصوبے کے سلسلے میں جاری تکنیکی معاونت پر بات چیت کی۔ یہ 1 کروڑ 95 لاکھ 90 ہزار ڈالرکا منصوبہ ہے جسے گرین کلائمٹ فنڈ (1 کروڑ 49 لاکھ ڈالر) اور حکومت سندھ (46 لاکھ 90 ہزار ڈالر) نے مشترکہ طور پر فنڈ کیا ہے۔ یہ منصوبہ 2020-21 سے 2025-26 تک بدین، سانگھڑ اور عمرکوٹ میں جاری ہے اور اس کے تین اہم اجزا ہیں ۔ معلوماتی نظام کی بہتری

واٹر اکاؤنٹنگ سسٹم، ای ٹی پر مبنی واٹر مینجمنٹ سسٹم جیسے جدید آلات کی تیاری اور موسمیاتی، آبی و زرعی ڈیٹا تک قومی پورٹل کے ذریعے بہتر رسائی۔

2۔ کھیت کی سطح پر موسمیاتی لچک پیدا کرنا

کاشتکاروں اور ایکسٹینشن ورکرز کی تربیت، موسمیاتی لچک دار طریقہ کار کے فروغ اور ٹیکنالوجی اپنانے کی صلاحیت میں اضافہ۔

3۔ مؤثر ماحول کی تشکیل

6.25ملین افراد تک بڑے پیمانے پر آگاہی مہم چلانا اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کو پالیسی معاونت فراہم کرنا۔وزیراعلیٰ نے ایف اے او کی جانب سے سندھ میں موسمیاتی لچک بڑھانے اور زرعی پیداوار مضبوط بنانے کے لیے فراہم کی جانے والی تکنیکی معاونت کو سراہا اور پانی کے انتظام، زمینی مانیٹرنگ اور جدید کاشتکاری میں آئندہ تعاون کا خیرمقدم کیا۔مسٹر لیفینگ لی نے سندھ میں ڈیٹا بیسڈ زرعی جدت میں استعداد کار بڑھانے کے لیے معاونت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔تمام اجزا کی جامع تکمیل یقینی بنانے کے لیے دونوں فریقوں نے ٹرانسفارمنگ دی انڈس بیسن منصوبے کی تکمیل کی مدت میں ایک سال کی توسیع پر اتفاق کیا۔ملاقات کا اختتام صوبے میں پائیدار، موسمیاتی لحاظ سے موزوں زرعی ترقی کے لیے تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم پر ہوا۔

جواب دیں

Back to top button