ایم کیو ایم واقعی بلدیاتی نظام کو مضبوط کرنا چاہتی ہے تو پی آئی ڈی سی ایل کے تحت ہونے والے تمام کام بلدیہ عظمیٰ کراچی اور میئر کراچی کے ذریعے ہونے چاہئے،بیرسٹر مرتضی وہاب

میئر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا ہے کہ شہر کے مفاد میں کسی بھی منصوبے پر اعتراض لگانے کا مقصد کسی کام میں بہتری لانا ہوتا ہے اور شہر کے بڑے منصوبوں کا اصل فائدہ عوام کو ہوتا ہے، مگر جب تک منصوبہ مکمل نہ ہو، شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جب گرین لائن کی تعمیر شروع کی گئی تھی اس وقت بھی شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہوا، جب اس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا گیا تھا اس وقت میونسپل پارک تک اس منصوبے کا دائرہ کار تھا لیکن متعلقہ کنٹریکٹر کام مکمل نہ کرسکا، جس کا خمیازہ کراچی والوں کو بھگتنا پڑا، بدقسمتی سے جب اس منصوبے کے نئے فیز کا آغاز ہوا تو کے ایم سی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، ہم ترقیاتی کام کے مکمل حامی ہیں، مگر ہمارا مؤقف تھا کہ پہلے ڈرینیج اور سیوریج کے مسائل حل کیے جائیں، وزیراعظم پاکستان کا خصوصی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اس منصوبے کے لیے فنڈز فراہم کیے، میں وزیر اعظم سے درخواست کرتا ہوں کہ کراچی کو مزید ترقیاتی منصوبوں کی ضرورت ہے اور ہم سب متحد ہوکر شہر کے لیے کام کریں تو کوئی قوت ترقی سے نہیں روک سکتی، ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے پیر کے روز ایم اے جناح روڈ پر گرین لائن منصوبے کے کام کے حوالے سے منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس مو قع پر پاکستان انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (PIDCL) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر وسیم حیات باجوہ،وفاقی حکومت کے صوبہ سندھ کے ترجمان راجا خلیق الزما ن انصاری، ڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ مراد، ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما امین الحق، سندھ اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف علی خورشیدی، ارشد عبداللہ وہرہ، صبحین غوری، کے ایم سی سٹی کونسل میں پارلیمانی لیڈر کرم اللہ وقاصی، ڈپٹی پارلیمانی لیڈر دل محمد، چیئرمین کراچی کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن ایس ایم ندیم کاظمی، پاکستان انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ کے حکام اور دیگر بھی موجودتھے، میئر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا کہ ریڈ لائن کے مسائل بھی حل ہو چکے ہیں اور آئندہ چند روز میں کام باقاعدہ شروع ہو جائے گا،ریڈ لائن منصوبہ کے جو بھی مسائل تھے اس کو وزیر اعلیٰ سندھ کی قیادت میں حل کردیا گیا ہے اور آئندہ چند روز کے اندر اس پر بھی باقاعدہ کام شروع ہوجائے گا، ہم سب مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ شہر کراچی کی خدمت کی جاسکے اس کے مسائل کو حل کیا جاسکے، ہم سب کا منشور ہے عوامی خدمت اس پر ہم عمل پیرا ہوسکیں، اس امید کہ ساتھ کہ آنے والا وقت شہر کراچی کی عوام کے لئے زیادہ سے زیادہ بہتری لائے گا۔ وفاقی حکومت کے صوبہ سندھ کے ترجمان راجا خلیق الزما ن انصاری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گرین لائن اس وقت 21 کلومیٹر تک فعال ہے، وزیراعظم کے وژن کے مطابق اسے مزید بہتر بنانے کے لیے کام جاری ہے، یہ منصوبہ 1.9 کلومیٹر کا ہے اور 31 اکتوبر 2026 تک مکمل کرلیا جائے گا، سیوریج اور برساتی پانی کی نکاسی کے مستقل حل پر بھی کام کیا جائے گا، 18 ستمبر کو میئر کراچی نے کچھ تحفظات اور زمینی مسائل کے باعث کام رکوایا تھا، ہم میئر صاحب کے مشکور ہیں کہ ان کے تحفظات کو دور کرنے میں کامیاب ہوئے، ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما امین الحق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے تمام اسٹیک ہولڈرز ایک ہی جگہ موجود ہیں، اس منصوبہ کا افتتاح دسمبر 2021 میں ہوا تھا، اس کے دوسرے فیز کو 31 اکتوبر کی ڈیڈ لائن ہر صورت پوری کرنا ہوگی، میئر کراچی کے تحفظات درست تھے، پی آئی ڈی سی ایل کے پاس اس منصوبے کے لیے فنڈز موجود ہیں اور مزید رقم بھی ملنے والی ہے، پی آئی ڈی سی ایل اس کے علاوہ بھی متعدد منصوبوں پر کام کر رہا ہے، کراچی ترقی کرے گا تو سندھ اور پاکستان ترقی کرے گا، آج کی ملاقات اس بات کا اظہار تھی کہ کراچی کے بڑے منصوبوں میں تمام ادارے ایک پیج پر آچکے ہیں اور شہریوں کو درپیش طویل المدتی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ لائحہ عمل طے کرلیا گیا ہے۔

جواب دیں

Back to top button