آج انشا جی کا جنم دن ہے

آج انشا جی کا جنم دن ہے

ابنِ انشا 15 جون 1927 کوضلع جالندھر کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ شیر محمد خان نام رکھا گیا۔ بی اے 1946 میں لاہور اور ایم اے اردو 1953 میں جامعہ کراچی سے کیا۔

شاعری کے ساتھ ساتھ 1960 میں روزنامہ امروز میں درویش دمشقی کے عنوان سے شگفتہ کالم لکھنا شروع کیا۔ ( بعد میں 70 کے عشرے میں امروز میں ابن انشا کے نام سے بھی لکھا) اس کے بعد انجام اور جنگ میں بھی کالم لکھتے رہے۔

 

1962ء میں نیشنل بک سنٹر کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے۔( یہ ادارہ بعد میں نیشنل بک کونسل بنا اور بالآخر نیشنل بک فاؤنڈیشن میں ضم کردیا گیا ) ۔انشا جی 11 جنوری 1978 کو رخصت ہوئے ۔ لندن کے ہسپتال سےکراچی لاکر سپردِ خاک کیا گیا۔

 

انشا جی کی شاعری میں جہاں ملال گھلا ہوتا تھا، وہاں نثر میں گویا زعفران کی آمیزش ہوتی تھی۔

 

انشا جی کے چند اشعار

 

کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا ترا

کچھ نے کہا یہ چاند ہے کچھ نے کہا چہرا ترا

 

انشاؔ جی اٹھو اب کوچ کرو اس شہر میں جی کو لگانا کیا

وحشی کو سکوں سے کیا مطلب جوگی کا نگر میں ٹھکانا کیا

 

اس شہر میں کس سے ملیں ہم سے تو چھوٹیں محفلیں

ہر شخص تیرا نام لے ہر شخص دیوانا ترا

 

جب شہر کے لوگ نہ رستا دیں کیوں بن میں نہ جا بسرام کرے

دیوانوں کی سی نہ بات کرے تو اور کرے دیوانا کیا

 

آن کے اس بیمار کو دیکھے تجھ کو بھی توفیق ہوئی

لب پر اس کے نام تھا تیرا جب بھی درد شدید ہوا

 

اپنے ہم راہ جو آتے ہو ادھر سے پہلے

دشت پڑتا ہے میاں عشق میں گھر سے پہلے

 

اپنی زباں سے کچھہ نہ کہیں گے چپ ہی رہیں گے عاشق لوگ

تم سے تو اتنا ہو سکتا ہے پوچھو حال بیچاروں کا

 

بیکل بیکل رہتے ہو پر محفل کے آداب کے ساتھ

آنکھہ چرا کر دیکھہ بھی لیتے بھولے بھی بن جاتے ہو

 

دیدہ و دل نے درد کی اپنے بات بھی کی تو کس سے کی

وہ تو درد کا بانی ٹھہرا وہ کیا درد بٹائے گا

 

دل ہجر کے درد سے بوجھل ہے اب آن ملو تو بہتر ہو

اس بات سے ہم کو کیا مطلب یہ کیسے ہو یہ کیوں کر ہو

 

ایک دن دیکھنے کو آ جاتے

یہ ہوس عمر بھر نہیں ہوتی

 

گرم آنسو اور ٹھنڈی آہیں من میں کیا کیا موسم ہیں

اس بغیا کے بھید نہ کھولو سیر کرو خاموش رہو

 

ہم بھول سکے ہیں نہ تجھے بھول سکیں گے

تو یاد رہے گا ہمیں ہاں یاد رہے گا

 

حق اچھا پر اس کے لیے کوئی اور مرے تو اور اچھا

تم بھی کوئی منصور ہو جو سولی پہ چڑھو خاموش رہو

 

حسن سب کو خدا نہیں دیتا

ہر کسی کی نظر نہیں ہوتی

 

اک سال گیا اک سال نیا ہے آنے کو

پر وقت کا اب بھی ہوش نہیں دیوانے کو

 

کب لوٹا ہے بہتا پانی بچھڑا ساجن روٹھا دوست

ہم نے اس کو اپنا جانا جب تک ہاتھ میں داماں تھا

 

کچھہ کہنے کا وقت نہیں یہ کچھ نہ کہو خاموش رہو

اے لوگو خاموش رہو ہاں اے لوگو خاموش رہو

 

کوچے کو تیرے چھوڑ کر جوگی ہی بن جائیں مگر

جنگل ترے پربت ترے بستی تری صحرا ترا

 

میرؔ سے بیعت کی ہے تو انشاؔ میر کی بیعت بھی ہے ضرور

شام کو رو رو صبح کرو اب صبح کو رو رو شام کرو

 

رات آ کر گزر بھی جاتی ہے

اک ہماری سحر نہیں ہوتی

 

سن تو لیا کسی نار کی خاطر کاٹا کوہ نکالی نہر

ایک ذرا سے قصے کو اب دیتے کیوں ہو طول میاں

 

وحشت دل کے خریدار بھی ناپید ہوئے

کون اب عشق کے بازار میں کھولے گا دکاں

 

وہ راتیں چاند کے ساتھ گئیں وہ باتیں چاند کے ساتھ گئیں

اب سکھ کے سپنے کیا دیکھیں جب دکھ کا سورج سر پر ہو

 

یوں ہی تو نہیں دشت میں پہنچے یوں ہی تو نہیں جوگ لیا

بستی بستی کانٹے دیکھے جنگل جنگل پھول میاں

 

اہل وفا سے ترک تعلق کر لو پر اک بات کہیں

کل تم ان کو یاد کرو گے کل تم انہیں پکارو گے

 

بے تیرے کیا وحشت ہم کو تجھ بن کیسا صبر و سکوں

تو ہی اپنا شہر ہے جانی تو ہی اپنا صحرا ہے

 

ایک سے ایک جنوں کا مارا اس بستی میں رہتا ہے

ایک ہمیں ہشیار تھے یارو ایک ہمیں بد نام ہوئے

 

ہم کسی در پہ نہ ٹھٹکے نہ کہیں دستک دی

سیکڑوں در تھے مری جاں ترے در سے پہلے

 

جلوہ نمائی بے پروائی ہاں یہی ریت جہاں کی ہے

کب کوئی لڑکی من کا دریچہ کھول کے باہر جھانکی ہے

 

ابنِ انشا کی کتابیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آوارہ گرد کی ڈائری

دنیا گول ہے

ابن بطوطہ کے تعاقب میں

چلتے ہو تو چین کو چلئے

نگری نگری پھرا مسافر

 

اس بستی کے اک کوچے میں

چاند نگر

دلِ وحشی

بلو کا بستہ (بچوں کے لیے نظمیں)

 

آپ سے کیا پردہ

خمارِ گندم

اردو کی آخری کتاب

 

خط انشا جی کے

تراجم

اندھا کنواں

لاکھوں کا شہر ۔او ہنری کے افسانے

وہ بیضوی تصویر ۔ ایڈگر ایلن پو کے افسانے

جواب دیں

Back to top button