یہ سال کراچی کے لیے ترقی اور بہتری کا سال ہے، میئر کراچی بیرسٹر مرتضٰی وہاب

میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ روزانہ تعصب اور نفرت پر مبنی پریس کانفرنسز کی سیاست کا قائل نہیں بلکہ شہر میں کام کر کے جواب دینے پر یقین رکھتا ہوں، اگر دیگر جماعتیں صحیح طرح سے عوامی خدمت کریں تو انہیں مداخلت کی ضرورت نہ پڑے، ٹاؤنز کو 14 ارب روپے دیئے گئے ہیں جبکہ او زیڈ ٹی کی مد میں 27 ارب روپے موصول ہوئے ہیں اور کلک کے ذریعے 6 ارب روپے مزید ملے ہیں۔ پہلے ایک یوسی کو پانچ لاکھ روپے ملتے تھے جو اب بڑھا کر 12 لاکھ روپے کر دیے گئے ہیں، ٹاؤنز کے پاس روڈ کٹنگ کی مد میں 70 کروڑ روپے موجود ہیں، جنہیں عوامی بہتری کے لیے استعمال کیا جائے، یہ سال کراچی کے لیے ترقی اور بہتری کا سال ہے۔ اس سال کے ایم سی کی جانب سے 30 ارب روپے شہر کے انفراسٹرکچر کی بہتری پر خرچ کیے جا رہے ہیں، سیاسی رسہ کشی اور تعصب کی سیاست کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ شہر ایک ہے تو اس کا نظام بھی ایک ہونا چاہیے اور اختیارات کو تقسیم کرنے کے بجائے یکجا کرنا چاہیے، ماضی میں کے ایم سی کے اختیارات اور وسائل کے حوالے سے شکوک و شبہات پائے جاتے تھے، مگر آج یہ ثابت کیا جا چکا ہے کہ کے ایم سی اپنے وسائل کے اندر رہتے ہوئے بھی کام کر سکتی ہے، کے ایم سی کے اکاؤنٹ میں آنے والی ایک ایک پائی عوام کی سہولت پر خرچ کی جا رہی ہے، 31 دسمبر تک پرانی حب کینال کے منصوبے کا کام مکمل کر لیا جائے گا، جس سے شہر کو دو کروڑ گیلن اضافی پانی ملے گا۔

اس کے ساتھ ساتھ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کو بھی مکمل طور پر فعال کیا جا رہا ہے۔ ہمیں اپنے سمندر اور سمندری حیات سے بھی محبت ہے اور ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے اولڈ سٹی ایریا میں محمد شاہ اسٹریٹ کی تعمیر و بحالی کے کام اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کرنے کے موقع پر کیا، اس مو قع پر سٹی کونسل میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر دل محمد، جمن دروان اور دیگر منتخب نمائندے بھی ان کے ہمراہ تھے، میئر کراچی بیر سٹر مرتضی وہاب نے کہا کہ وفاقی حکومت کبھی نہیں چاہے گی کہ ان کے زیر انتظام علاقے میئر کے دائرہ اختیار میں آئیں، مگر اس کے باوجود وہ تمام اداروں کے ساتھ بیٹھ کر مسائل حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اولڈ سٹی کراچی کا وہ تاریخی علاقہ ہے جو دو سو سال سے زائد پرانا ہے اور یہاں موجود عمارتیں سوا سو سال سے زیادہ قدیم ہیں، مگر بدقسمتی سے طویل عرصے تک اس علاقے کو نظر انداز کیا گیا، میئر کراچی نے کہا کہ اولڈ سٹی کے علاقے برتن بازار، گلی جوڑیا بازار اور کھجور بازار ماضی میں تباہ حالی کا شکار تھے، جہاں سیوریج کا نظام بوسیدہ اور نکاسی آب کا انتظام نہایت خراب تھا، گلیاں اور سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھیں، جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا، یہاں دو لاکھ سے زائد اسکوائر فٹ کی پیور ڈالے گئے ہیں اور مختلف سائز کی سیوریج کی لائنیں ڈالی گئی ہیں، انہوں نے کہا کہ ماضی میں چائنہ کٹنگ کے ذریعے اس علاقے کی سیاسی اور انتظامی حق تلفی کی گئی، اور پاکستان پیپلز پارٹی کو بھی یہاں مسلسل نظر انداز کیا گیا، حالانکہ عوامی خدمت ہی اصل سیاست ہے اور وہی جماعتیں عوام کے دلوں میں بستی ہیں جو عوام کے مسائل حل کرتی ہیں، میئر کراچی نے کہا کہ بازار کے علاوہ اس علاقے میں پانچ مساجد واقع ہیں جہاں جمعہ کی نماز کے دوران نمازیوں کو شدید دشواری کا سامنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کے وژن کے تحت اس علاقے سے وعدہ کیا گیا تھا کہ یہاں کے بنیادی مسائل حل کیے جائیں گے اور اسی وعدے کی تکمیل کے لیے 100 ملین (دس کروڑ) روپے اس علاقے کے لیے مختص کیے گئے، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ اولڈ سٹی کی تنگ گلیوں میں پیور بلاک لگائے گئے ہیں، سیوریج کے نظام کو جدید خطوط پر بہتر بنایا گیا، اور ترقیاتی کاموں کے دوران متعلقہ عملہ مسلسل علاقے کا دورہ کرتا رہا اور تاجر برادری سے مشاورت کے ذریعے ان کی ضروریات کو مدنظر رکھا گیا، انہوں نے کہا کہ یہ علاقہ کسی ایک جماعت یا فرد کا نہیں بلکہ عوام کا ہے، اور یہاں کے مکینوں اور تاجروں نے خود اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ترقیاتی کاموں کی حفاظت کریں گے اور دوبارہ کھدائی یا نقصان نہیں ہونے دیں گے، میئر کراچی نے کہا کہ آج اولڈ سٹی میں ایک نیا منظر نظر آ رہا ہے، گلیاں صاف، سڑکیں بہتر اور ماحول خوشگوار ہو چکا ہے، جس سے یہاں کے تاجر، مکین اور خریداری کے لیے آنے والے شہری مطمئن نظر آتے ہیں۔ یہ سڑکیں شہر کی مصروف شاہراہوں سے منسلک ہیں، جس سے آمد و رفت مزید آسان ہو گئی ہے، انہوں نے اعلان کیا کہ 15 دسمبر تک ایک اور بڑے ترقیاتی منصوبے کا آغاز کیا جائے گا۔ کراچی چیمبر آف کامرس کے سامنے والی سڑک مکمل کر دی گئی ہے، سول اسپتال سے حقانی چوک تک سڑک تیار کر لی گئی ہے، جبکہ بولٹن مارکیٹ کے اطراف پارکنگ کے مسئلے کو بھی حل کر دیا گیا ہے، میئر کراچی نے بتایا کہ لیاری ٹاؤن میں 5 ارب روپے کی لاگت سے اندرونی گلیوں کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔ کے ایم سی کے انجینئرز کو 100 روزہ ہدف دیا گیا ہے تاکہ شہر میں ترقیاتی کام بروقت مکمل ہوں، عظیم پورہ روڈ کی توسیع (ایکسٹینشن) کی جا رہی ہے تاکہ شاہ فیصل کالونی اور ایئرپورٹ جانے والے شہریوں کو سہولت میسر آ سکے، انہوں نے کہا کہ لی مارکیٹ کی تزئین و آرائش کی جائے گی جبکہ حسن علی ہوتی مارکیٹ (جو 1926 میں تعمیر ہوئی) کی بحالی کا کام جاری ہے اور یہ منصوبہ جنوری تک مکمل کیا جائے گا۔ اس تاریخی عمارت کے 100 سال مکمل ہونے پر خصوصی تقریب کا انعقاد بھی کیا جائے گا۔ ایمپریس مارکیٹ کی بحالی کا کام بھی جاری ہے اور 31 جنوری تک اسے مکمل کر لیا جائے گا، میئر کراچی نے کہا کہ مسئلہ اختیارات کا نہیں بلکہ نیت کا ہے۔ ماضی میں روڈ کٹنگ کے نام پر سڑکیں کاٹی گئیں مگر دوبارہ بحال نہیں کی گئیں، جبکہ اب اس نظام کو شفاف بنایا جا رہا ہے، میئر کراچی نے کہا کہ شہر میں اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب اور مین ہول کورز کی فراہمی کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں، انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ مین ہول کورز کی چوری روکنے کے لیے انتظامیہ سے تعاون کریں اور شکایات کی صورت میں ہیلپ لائن پر فوری اطلاع دیں،اس موقع پر میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے دنیا بھر میں بسنے والے تمام افراد کو سندھی ثقافتی دن کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ سندھ امن، محبت اور صوفیوں کی دھرتی ہے، اور ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اپنی ثقافت کو اپنائیں اور اس پر فخر کریں۔

جواب دیں

Back to top button