سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے سندھ پولیس میں وسیع تر اصلاحات اور ٹیکنالوجی کی اپ گریڈیشن کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان اقدامات کے نتیجے میں صوبے بھر میں امن و امان کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔وزیر اعلیٰ نے یہ باتیں پاکستان نیوی کے 55ویں پی این اسٹاف کورس اور 23ویں کوریسپونڈنس اسٹاف کورس کے افسران سے خطاب کے دوران کہیں، جن کی قیادت ریئر ایڈمرل سہیل احمد عظمی، کمانڈنٹ پاکستان نیوی وار کالج اور کمانڈر سینٹرل پنجاب کر رہے تھے۔ وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونے والی اس تقریب میں صوبائی وزرا، انسپکٹر جنرل پولیس اور صوبائی سیکریٹریز نے بھی شرکت کی۔وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ سندھ پولیس، جو 1843 میں قائم ہوئی اور برصغیر کی قدیم ترین پولیس فورسز میں شمار ہوتی ہے، اس وقت 1 لاکھ 62 ہزار اہلکاروں، 31 اضلاع میں قائم 618 پولیس اسٹیشنز اور تقریباً 190 ارب روپے کے بجٹ پر مشتمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرض کی ادائیگی کے دوران 2,553 اہلکاروں کی قربانی دینے والی اس فورس کو ڈھانچے، آپریشنز اور فلاح و بہبود کے شعبوں میں جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت نے پولیسنگ کی بنیادی اکائی یعنی پولیس اسٹیشن پر خصوصی توجہ دی ہے، جس کے تحت تزئین و آرائش، اپ گریڈیشن اور مالی خودمختاری فراہم کی گئی ہے۔ سینکڑوں پولیس اسٹیشنز کو علیحدہ بجٹ دیے گئے ہیں، جبکہ ایس ایچ اوز اور تفتیشی افسران کو ڈی ڈی او کے اختیارات دے کر فیصلہ سازی کو تیز اور احتساب کو بہتر بنایا گیا ہے۔وزیر اعلیٰ نے ٹیکنالوجی پر مبنی متعدد اقدامات پر روشنی ڈالی۔ پولیس اسٹیشن ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم کے تحت تمام مقدمات کا ریکارڈ ڈیجیٹل طور پر محفوظ کیا جا رہا ہے، جو فرانزک، کیمیکل، ڈی این اے اور میڈیکو لیگل لیبارٹریز کے ساتھ ساتھ عدالتی نظام سے بھی منسلک ہے، جس کے ذریعے ججز آن لائن مقدمات کی پیش رفت دیکھ سکتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ٹول پلازوں پر نصب مصنوعی ذہانت سے لیس کیمروں پر مشتمل سندھ اسمارٹ سرویلنس سسٹم کو مجرمانہ اور ایکسائز ڈیٹا کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے، جس کی مدد سے سینکڑوں ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ انسداد دہشت گردی کے لیے ایک جدید سی ٹی ڈی فیوژن سینٹر قائم کیا گیا ہے، جو اوپن سورس انٹیلی جنس، بگ ڈیٹا اور جدید ویڈیو و آڈیو ٹولز استعمال کرتا ہے۔دیگر نظاموں میں ہوٹل آئی مینجمنٹ سسٹم شامل ہے، جو ہوٹلوں میں قیام پذیر افراد کا ریکارڈ رکھتا ہے اور متعدد گرفتاریوں میں مددگار ثابت ہوا ہے۔ ایمپلائی ویری فکیشن سسٹم بائیومیٹرک کے ذریعے ملازمین کی تصدیق کرتا ہے اور اس کے ذریعے ہزاروں مجرم پکڑے گئے ہیں۔ تلاش ڈیوائس کے ذریعے افسران موقع پر ہی بائیومیٹرک تصدیق کے ذریعے کسی شخص کا ریکارڈ چیک کر سکتے ہیں۔ شفافیت کے فروغ کے لیے گشت اور ٹریفک ڈیوٹی کے دوران باڈی وورن کیمرے بھی متعارف کرائے گئے ہیں۔وزیر اعلیٰ نے خصوصی یونٹس کا بھی ذکر کیا، جن میں سینٹرلائزڈ انویسٹی گیشن سیلز شامل ہیں، جہاں تربیت یافتہ تفتیشی افسران اور مخصوص لیبارٹریز موجود ہیں۔ اسپیشل سیکیورٹی یونٹ نے بین الاقوامی کرکٹ اور دیگر ہائی رسک تقریبات کی سیکیورٹی فراہم کی۔ ریپڈ رسپانس فورس کو ہنگامی حالات اور خطرناک مشنز کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ کراؤڈ مینجمنٹ یونٹ، جس میں خواتین ونگ بھی شامل ہے، اور سندھ پولیس ہائی وے پٹرول کو اہم شاہراہوں کے تحفظ کے لیے گاڑیوں اور افرادی قوت سے لیس کیا جا رہا ہے۔ٹریفک مینجمنٹ کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ آن لائن ڈرائیونگ لائسنس سسٹم اور مصنوعی ذہانت پر مبنی نفاذ اور ای چالان پلیٹ فارم متعارف کرائے گئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے جرائم کے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ جنوری 2024 سے نومبر 2025 کے دوران موبائل اور گاڑی چھیننے اور چوری کے واقعات میں 44 فیصد سے زائد کمی آئی، جبکہ ڈکیتی کے دوران اموات اور زخمیوں کی تعداد میں 60 فیصد سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی۔مراد علی شاہ نے کچے کے علاقوں میں حکمت عملی میں بڑی تبدیلی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ردعمل پر مبنی کارروائیوں کے بجائے حملہ، ہتھیار ڈلوانا، غیر مسلح کرنا اور مرکزی دھارے میں لانے کے فریم ورک کے تحت جارحانہ اقدامات اختیار کیے ہیں۔ 2024 کے بعد سکھر، گھوٹکی، کشمور اور شکارپور میں ٹیکنالوجی سے مدد یافتہ کارروائیوں کے نتیجے میں سینکڑوں ڈاکو ہلاک، زخمی یا گرفتار ہوئے، بڑی مقدار میں اسلحہ برآمد ہوا اور سر کی قیمت والے درجنوں مطلوب ڈاکوؤں نے ہتھیار ڈالے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جنوری سے نومبر 2025 کے دوران پولیس نے منظم جرائم اور منشیات کے خلاف بھی بھرپور مہم چلائی، جس کے نتیجے میں اعلیٰ درجے کے منشیات فروشوں میں 89 فیصد گرفتاری کی شرح حاصل کی گئی۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت پولیس کی فلاح و بہبود پر بھی اتنی ہی توجہ دے رہی ہے۔ شہید افسران کے خاندانوں کو بھاری مالی معاوضہ، ریٹائرمنٹ کی عمر تک تنخواہیں، روزگار کے مواقع، صحت انشورنس، بچوں کے لیے اسکالرشپس اور شادیوں کے لیے نقد امداد فراہم کی جاتی ہے۔ ان اقدامات کا مقصد فورس کی قربانیوں کو تسلیم کرنا اور ان کا احترام کرنا ہے۔آئندہ منصوبوں پر بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کراچی سیف سٹی منصوبہ، جس میں 12 ہزار سی سی ٹی وی کیمرے قومی ڈیٹا بیس سے منسلک ہوں گے، اور عادی مجرموں کی الیکٹرانک ٹیگنگ جیسے بڑے ٹیکنالوجی منصوبے نگرانی اور جرائم کی روک تھام کو مزید مؤثر بنائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ اسمارٹ سرویلنس سسٹم کو بڑے شہروں کے مزید داخلی و خارجی راستوں تک توسیع دی جائے گی، جس سے دہشت گردی، اسمگلنگ اور سرحد پار جرائم کی روک تھام میں مدد ملے گی۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت ایک پیشہ ور، ٹیکنالوجی سے لیس اور عوام دوست پولیس فورس کے قیام کے لیے پرعزم ہے، تاکہ ہر شہری خود کو محفوظ محسوس کرے اور پولیس کی ہر قربانی کو عزت دی جا سکے۔ ان کے مطابق، دورے پر آئے افسران نے بریفنگ کو سراہا اور پولیس کی جدید کاری، عملی مؤثریت اور فلاح و بہبود میں ہونے والی پیش رفت کو تسلیم کیا۔
Read Next
1 دن ago
*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے چیئرمین نیب کی ملاقات، واگذار زمین صوبائی حکومت کے حوالے*
2 دن ago
سندھ کابینہ کی ذیلی کمیٹی برائے فنانس کا اہم اجلاس وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ کی صدارت میں منعقد،متعدد منصوبوں کی منظوری
2 دن ago
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیرصدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس،سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کی امداد اور بحالی کا جامع پیکج منظور
3 دن ago
میئر ایڈووکیٹ انور علی لہر صاحب کی زیرِ صدارت میونسپل کارپوریشن لاڑکانہ کا عام روایتی اجلاس
3 دن ago
*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے 6.135 ارب روپے سے تعمیر شدہ کورنگی کاز وے پل کا افتتاح کردیا*
Related Articles
حضرت لال شہباز قلندر رحمۃ اللہ علیہ کے7 سے9 فروری 2026 تک جاری رہنے والے سہ روزہ عرس مبارک کے انتظامات کا تفصیلی جائزہ
6 دن ago
وزیراعلیٰ سندھ کا سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کیلئے پیکج کا اعلان،تمام امدادی اداروں کو ایک ہی کمان میں دینے کا فیصلہ
6 دن ago




