پنجاب حکومت کا طرزِ عمل غیر جمہوری، قابلِ مذمت اور قومی یکجہتی کے منافی ہے،محمد سہیل آفریدی کا خیبرپختونخوا کابینہ سے خطاب

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نےصوبائی کابینہ سے اہم خطاب کیا۔وزیراعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے اپنے تین روزہ پنجاب دورے کے دوران پنجاب حکومت کے رویّے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کا طرزِ عمل غیر جمہوری، قابلِ مذمت اور قومی یکجہتی کے منافی ہے۔پنجاب حکومت کی جانب سے کابینہ اراکین پر تشدد کیا گیا، ایک صوبے کے وزیراعلیٰ کے لیے مسلسل راستے بند کیے گئے، بازار زبردستی بند کروائے گئے، موٹروے کے ریسٹ ایریاز تک سیل کیے گئے اور مزارِ اقبال پر حاضری کے دوران لائٹس بند کروانا انتہائی افسوسناک ہے۔ ایسے اقدامات اخلاقی و ذہنی پستی کی عکاسی کرتے ہیں، جو موجودہ معاشی و سیاسی عدم استحکام کے تناظر میں مزید تشویش ناک ہیں۔قومی یکجہتی کے وقت نفرت آمیز رویّے ملک کے لیے نقصان دہ ہیں اور خیبر پختونخوا حکومت پنجاب حکومت کے اس رویّے کی شدید مذمت کرتی ہے۔وزیراعلیٰ نے تمام صوبائی افسران کو ہدایت کی کہ خیبر پختونخوا آنے والے دیگر صوبوں کے سرکاری وفود کی روایات سے بڑھ کر خدمت کی جائے، تاکہ کوئی خود کو اجنبی محسوس نہ کرے۔وفاقی حکومت کی جانب سے اے آئی پی فنڈز کی عدم ادائیگی کے باعث ضم اضلاع میں ترقیاتی منصوبے متاثر ہو رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے 4758 ارب روپے وفاق کے ذمے واجب الادا ہیں۔وفاقی وزارتِ خزانہ من گھڑت پروپیگنڈا اور فسکل ریلیز کے حوالے سے میڈیا ٹرائل کی کوشش کررہی ہے۔ وزیرالعی نے مطالبہ کیا کہ تمام صوبوں کو دیے گئے فنڈز کی تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں۔وزیراعلیٰ نے خیبر پختونخوا اور دیگر صوبوں کے بقایاجات کا موازنہ پیش کرنے کیلئے تمام محکموں کو باضابطہ خطوط لکھنے اور تحریری جواب لینے کی ہدایت دی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آئندہ کابینہ اجلاس میں تمام محکمے بقایاجات پر تفصیلی بریفنگ دیں گے۔وزیراعلیٰ نے جاری ترقیاتی منصوبوں کی رفتار تیز کرنے کا حکم دیتے ہوئے صحت اور تعلیم کو حکومتی ترجیحات قرار دیا۔ عمران خان کے وژن کے مطابق ہیلتھ اور ایجوکیشن خیبر پختونخوا حکومت کی اولین ترجیح ہیں۔

جواب دیں

Back to top button