*میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے ضلع شرقی میں 104 ملین روپے کی لاگت سے رحیم بخش سومرو روڈ کا افتتاح کردیا*

کراچی (بلدیات ٹائمز ) میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے ضلع شرقی صفورا ٹاؤن گلزارِ ہجری اسکیم 33 میں 104 ملین روپے کی لاگت سے تعمیر کی جانے والی رحیم بخش سومرو روڈ سمیت دیگر ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کردیا،اس موقع پر کے ایم سی سٹی کونسل میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر دل محمد، یوسی چیئرمین بشیر خاصخیلی،پاکستان پیپلزپارٹی ضلع شرقی کے صدر اقبال ساند، آصف خان اور دیگر بھی موجود تھے،میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سعودی سویٹ سے عبدالسلام روڈ تک نئی سڑک کی تعمیر مکمل کرلی گئی ہے جو علاقے میں ٹریفک کے مسائل میں نمایاں کمی کا باعث بنے گی،رحیم بخش سومرو روڈ 3500 فٹ طویل اور 36 فٹ چوڑی ہے جسے جدید انجینئرنگ معیار کے مطابق تعمیر کیا گیا ہے،سڑک کی تعمیر میں 12 انچ سب بیس اور 8 انچ ایگریگیٹ استعمال کیا گیا ہے جبکہ کرب بلاکس سمیت 130,000 مربع فٹ کارپٹ ایریا کو 3 انچ بائنڈر کے ساتھ مکمل کیا گیا ہے، نئی تعمیر شدہ سڑک پر لین مارکنگ اور کیٹ آئیز بھی نصب کی گئی ہیں،

میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ وہ اس وقت علاقے میں عوام کے ایک دیرینہ اور سنگین مسئلے، سڑک کی خستہ حالی کے حل کے لیے موجود ہیں،برسوں سے یہ علاقہ نظرانداز رہا، بارشوں کے دوران عوام کو شدید مشکلات اور تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا تھا اور بلدیہ عظمیٰ کراچی کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج تھا کیونکہ اس علاقے کی ذمہ داری کوئی بھی اون نہیں کررہا تھا، میئر کراچی کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے اس مسئلے کو ان کے سامنے رکھا، جس کے بعد اس سڑک کی ازسرِنو تعمیر کا فیصلہ کیا گیا، انہوں نے کہا کہ آج اسی سڑک پر ایک بالکل مختلف منظر نظر آ رہا ہے اور عوام خود ترقیاتی کام ہوتا دیکھ رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ صفورا ٹاؤن میں پہلوان گوٹھ روڈ بھی ایک اہم اور دیرینہ مسئلہ تھا جس پر وہ آج اہلِ علاقہ کو خوشخبری دینا چاہتے ہیں کہ اگلے ہفتے اس سڑک کا ٹینڈر جاری کر دیا جائے گا اور اسی مالی سال میں اس منصوبے پر کام شروع ہو جائے گا، انہوں نے واضح کیا کہ اس منصوبے میں صرف سڑک کی تعمیر ہی نہیں بلکہ نکاسی آب کے نظام سمیت دیگر بنیادی سہولیات بھی شامل ہوں گی اور یہ مسئلہ پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت کی جانب سے حل کیا جا رہا ہے،میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ جہانگیر روڈ کے مسئلے کے حل کے لیے بھی آئندہ چند روز میں کام کا آغاز کر دیا جائے گا اور ساٹھ روز کے اندر یہ منصوبہ مکمل کر لیا جائے گا، اس منصوبے کی تکمیل سے جہانگیر روڈ، ضلع وسطی، گرومندر کے مکینوں اور ایم اے جناح روڈ کی طرف آنے جانے والے لاکھوں افراد کو بہتر اور معیاری سڑک کی سہولت میسر آئے گی،انہوں نے کہا کہ شارع فیصل پر ٹریفک جام، خصوصاً گلستانِ جوہر اور صفورا کی جانب آنے جانے والوں کو عسکری فور، ڈالمیا، جوہر موڑ اور پرفیوم چوک پر شدید مشکلات کا سامنا رہتا ہے، ان مسائل کے حل کے لیے پہلوان گوٹھ روڈ کو متبادل راستے کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے، اس کے ساتھ ساتھ ایک نئی سڑک کی تعمیر کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے جو ناتھا خان فلائی اوور کے قریب سے نکل کر حبیب یونیورسٹی کے عقب سے ہوتی ہوئی پہلوان گوٹھ کو لنک کرے گی،میئر کراچی کہا کہ اس متبادل سڑک کی تعمیر پر 80 کروڑ روپے لاگت آئے گی اور یہ منصوبہ بلدیہ عظمیٰ کراچی مکمل کرے گی،ان تمام ترقیاتی اقدامات کا مقصد شہریوں کو بہتر سفری سہولت فراہم کرنا اور کراچی کے دیرینہ انفرااسٹرکچر مسائل کو مستقل بنیادوں پر حل کرنا ہے،انہوں نے کہا کہ وہی قانون اور وہی اختیارات ہونے کے باوجود آج قیادت مختلف ہے اور موجودہ قیادت چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کی ہے جس کے باعث شہری ترقی کو حقیقی ترجیح دی جا رہی ہے، انہوں نے کہا کہ بلوچ کالونی ایکسپریس وے کی تعمیر 31 جنوری 2026 تک مکمل کرلی جائے گی جس میں سڑک،نکاسی آب اور اسٹریٹ لائٹس سمیت تمام بنیادی سہولیات شامل ہوں گی، اس منصوبے کے تحت قیوم آباد سے شہید ملت فلائی اوور اور وہاں سے جیل چورنگی تک مکمل کوریڈور شہریوں کے لیے کھول دیا جائے گا تاکہ ٹریفک کے دباؤ میں کمی آئے اور عوام کو متبادل راستہ میسر آ سکے،میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے یونیورسٹی روڈ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بی آر ٹی منصوبہ ماضی میں سست روی کا شکار رہا اور اس کے مالی معاملات درپیش مسائل کے باعث رکے ہوئے تھے تاہم حکومتِ سندھ کی معاونت سے ان رکاوٹوں کو دور کر دیا گیا ہے، انہوں نے وزیر اعلیٰ سندھ اور صوبائی کابینہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا کہ کنٹریکٹر کو واجبات کی ادائیگی کر دی گئی ہے اور منصوبے پر دوبارہ کام کا آغاز ہوچکا ہے،انہوں نے کہا کہ بی آر ٹی یونیورسٹی روڈ منصوبے کو 31 جولائی تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے تاکہ یونیورسٹی روڈ پر روزانہ سفر کرنے والے لاکھوں شہریوں کو درپیش مشکلات میں نمایاں کمی لائی جا سکے،میئر کراچی نے کہا کہ ضلع کورنگی میں کورنگی کاز وے پر تعمیر ہونے والا 1.3 کلو میٹر طویل، چھ لین پر مشتمل برج 31 جنوری سے قبل مکمل کرکے عوام کے لیے کھول دیا جائے گا، جس سے کورنگی اور ملحقہ علاقوں میں ٹریفک کی روانی بہتر ہوگی، انہوں نے کہا کہ تاج حیدر برج کی تعمیر مکمل کرکے اسے عوام کے لیے کھول دیا گیا ہے جبکہ جام صادق برج پر ترقیاتی کام تیزی سے جاری ہے،میئر کراچی نے ملیر کے حوالے سے بتایا کہ مرغی خانہ فلائی اوور کو موجودہ چار لین سے آٹھ لین میں تبدیل کیا جا رہا ہے اور اس منصوبے کو 31 مارچ تک مکمل کرکے عوام کے لیے کھول دیا جائے گا، اسی طرح مسجد عائشہ کی جانب سے شاہراہ بھٹو کے راستے کا کام بھی 23 مارچ تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے تاکہ شہریوں کو ایک اور متبادل سفری سہولت میسر آ سکے،انہوں نے کہا کہ مینا بازار انڈرپاس پر کے الیکٹرک کے زیرِ انتظام کام جاری ہے جو آئندہ چند روز میں مکمل ہو جائے گا، اس کے بعد فوری طور پر کارپیٹنگ کا عمل شروع کرکے انڈرپاس کو مکمل کرلیا جائے گا اور مینا بازار انڈرپاس فروری کے پہلے ہفتے میں عوام کے لیے کھول دیا جائے گا،میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ منور چورنگی انڈرپاس گلستانِ جوہر کی عوام کے لیے اسی مالی سال میں مکمل کرلیا جائے گا جبکہ شاہ فیصل کالونی عظیم پورہ میں نئے فلائی اوور کی تعمیر کا بھی فیصلہ کیا جا چکا ہے اور اس منصوبے پر اسی ماہ کام کا آغاز کردیا جائے گا،میئر کراچی نے کہا کہ ان کی سوچ واضح ہے اور وہ سوچ کراچی اور کراچی کے عوام کی بلاامتیاز خدمت پر مبنی ہے، ہماری پالیسی تعصب، تفریق اور غیرضروری تنقید سے بالاتر ہو کر عملی کام کرکے دکھانے کی ہے، انہوں نے کہا کہ کراچی کی تمام سیاسی جماعتیں حکومت کا حصہ ہیں، اگر پاکستان پیپلزپارٹی کی طرح دیگر جماعتیں بھی بھرپور انداز میں کام کریں تو شہر زیادہ یکسوئی اور تیزی کے ساتھ ترقی کر سکتا ہے،انہوں نے کہا کہ جن ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کیا گیا ہے وہ ہر صورت مکمل کیے جائیں گے تاکہ آنے والا وقت کراچی، صوبہ سندھ اور پورے پاکستان کے عوام کے لیے مزید بہتر ثابت ہو،میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ ٹاؤنز کے پاس بعض معاملات میں میئر سے بھی زیادہ اختیارات موجود ہیں، اگر اس کے باوجود وہ عوامی مسائل حل نہیں کرتے تو انہیں گھر چلے جانا چاہیے،شہر میں عملی کام پاکستان پیپلزپارٹی کے جیالے ہی کریں گے اور عوام کو صرف نعروں اور دعوؤں سے بہلایا نہیں جا سکتا،انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی وسائل فراہم کرے اور زمین پر کام نظر نہ آئے، عوام کو نتائج چاہئیں اور ہم انہیں نتائج دے رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ آئندہ چند روز میں شہر کراچی کے لیے ایک اور بڑی خوشخبری دی جائے گی اور جو بھی وسائل دستیاب ہیں وہ کراچی اور کراچی کے عوام پر ہی خرچ کیے جائیں گے، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہید بھٹو پاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم تھے جنہوں نے ہمیشہ اپنے کردار، سیاست اور جدوجہد سے پاکستان کا مقدمہ دنیا بھر میں پیش کیا، انہوں نے کہا کہ 5 جنوری کو ہر سال شہید ذوالفقار علی بھٹو کی برسی انتہائی عقیدت اور احترام کے ساتھ منائی جاتی ہے تاکہ نئی نسل کو ان کی جدوجہد اور قربانیوں سے آگاہ رکھا جا سکے،انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی بھٹو شہید کے نظریات پر عمل کرتے ہوئے عوام کی خدمت، جمہوریت کے استحکام اور ملک کی ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی اور کراچی کی تعمیر و ترقی اس جدوجہد کا اہم حصہ ہے۔

جواب دیں

Back to top button