وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او)، محکمہ لوکل گورنمنٹ اور کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کے مشترکہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کی منظوری دے دی، جس کا مقصد شہر میں عالمی معیار کی ترقی کے لیے ایف ڈبلیو او کے ساتھ شراکت داری قائم کرنا ہے۔یہ اجلاس وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ، چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، کمشنر کراچی حسن نقوی اور سیکریٹری خزانہ فیاض جتوئی نے شرکت کی۔ ایف ڈبلیو او کے وفد کی قیادت ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل عبدالسمیع کر رہے تھے۔اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی کے لیے بڑے پیمانے پر ترقیاتی اقدامات پر گفتگو کی، جن میں میگا انفراسٹرکچر اور کنیکٹیویٹی کے منصوبے شامل ہیں۔ ابتدا میں وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت کراچی کے لیے ایک جامع ترقیاتی منصوبہ نافذ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور شہر میں 523 ترقیاتی اسکیموں کے لیے 84 ارب 79 کروڑ 60 لاکھ روپے کی ایک مرتبہ کی گرانٹ ان ایڈ کی منظوری دی گئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کراچی سے متعلق اسکیموں کے لیے وفاقی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت 26 ارب 28 کروڑ 20 لاکھ روپے کی منظوری بھی دی جا چکی ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا میں معیار، رفتار اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ایف ڈبلیو او کے ساتھ شراکت داری میں ترقیاتی منصوبے شروع کرنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام میگا اور اہم منصوبے عالمی معیار کی منصوبہ بندی اور ڈیزائن کے تحت ہونے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “کراچی کی ترقی دنیا کے بہترین شہروں کے ہم پلہ ہونی چاہیے۔انہوں نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ کراچی ڈویژن میں فوری عملدرآمد کے لیے 10 ارب 72 کروڑ روپے کے چھ ترجیحی انفراسٹرکچر منصوبوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جن کا مقصد دیرینہ ٹریفک مسائل کا حل، بہتر کنیکٹیویٹی اور شہری نقل و حرکت کو مضبوط بنانا ہے۔ ان ترجیحی منصوبوں میں ایم-9 سے ملیر-15 تک جناح ایونیو اور شاہراہِ فیصل کے ذریعے سڑک کی بحالی (1 ارب 2 کروڑ 50 لاکھ روپے)، ملیر ہالٹ پر پرنٹنگ پریس سے شاہراہِ فیصل تک دائیں موڑ کے انڈر پاس کی تعمیر (1 ارب 50 کروڑ روپے)، اور ایئرپورٹ روڈ سے اسٹار گیٹ، شاہراہِ فیصل تک فلائی اوور کی تعمیر (1 ارب 20 کروڑ روپے) شامل ہیں، تاکہ ہوائی اڈے تک رسائی بہتر بنائی جا سکے۔دیگر منصوبوں میں ہاکس بے میں وائے جنکشن سے مچھلی چوک تک سڑک کی بحالی، بشمول مسرور بیس سے ٹرک اسٹینڈ تک خراب حصے (1 ارب 99 کروڑ 50 لاکھ روپے)، اور سہراب گوٹھ پر 5 ارب روپے کی لاگت سے فلائی اوور کی تعمیر شامل ہے، جو بین الاضلاعی ٹریفک کے لیے کراچی کا مرکزی دروازہ ہے۔اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ پاکستان کے معاشی مرکز کی حیثیت سے کراچی کو سنگین ساختی، ماحولیاتی اور شہری مسائل کا سامنا ہے۔ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے 10 سے 12 نمایاں ترقیاتی اسکیموں کی نشاندہی کی جا رہی ہے، جن میں سے پانچ کو وزیراعلیٰ نے ابتدائی عملدرآمد کے لیے منظور کر لیا ہے۔
مزید بتایا گیا کہ کراچی کے لیے 84 ارب 79 کروڑ 60 لاکھ روپے کی لاگت سے 523 ترقیاتی اسکیموں پر مشتمل ایک جامع پورٹ فولیو تجویز کیا گیا ہے۔ ان میں مختلف علاقوں میں اندرونی طور پر متاثرہ سڑکوں کی بحالی و تعمیر نو، ٹریفک مینجمنٹ سسٹمز میں بہتری، رابطہ سڑکوں اور بڑی شاہراہوں کی بحالی، فلائی اوورز، پارکس اور سات منتخب سڑکوں کی خوبصورتی میں اضافہ شامل ہے۔ ان منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے کے ایم سی، کے ڈی اے، کراچی میگا اسکیمز اور سٹی گورنمنٹ کے دفاتر بطور اہم ادارے شامل ہوں گے۔میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ان اسکیموں کی نشاندہی فیلڈ ویریفکیشن، محکمانہ جائزوں اور اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد کی گئی ہے، جن کا مقصد ٹریفک جام میں کمی، ہوائی اڈے اور بین الاضلاعی رابطوں میں بہتری، لاجسٹکس اور صنعتی ٹرانسپورٹ روٹس کو مضبوط بنانا اور شہری انفراسٹرکچر و حسنِ شہر میں اضافہ ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے فیصلہ کیا کہ ایف ڈبلیو او کے انجینئرز، محکمہ لوکل گورنمنٹ اور کے ایم سی کے افسران کے ساتھ مل کر فروری کے اختتام تک ڈیزائن کو حتمی شکل دیں گے اور ان یوٹیلٹیز کی نشاندہی کریں گے جن کی منتقلی ضروری ہے، تاکہ مارچ میں کام کا آغاز کیا جا سکے۔وزیراعلیٰ سندھ نے پائیدار، بہتر ڈیزائن اور مؤثر انداز میں نافذ کیے جانے والے ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے کراچی کو تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ وہ ایف ڈبلیو او اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ قریبی رابطے میں تیزی سے کام آگے بڑھائیں۔






