تھر کے کوئلے سے کھاد کی پیداوار سے درآمدی کھاد پر انحصار کم ہوگا، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونگے اور برآمدات میں اضافہ ہوگا، وزیراعلیٰ سندھ

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پاکستان کے فلیگ شپ کول ٹو فرٹیلائزر (C2F) منصوبے، تھر کے کوئلے پر مبنی یوریا پراجیکٹ جسے فوجی فرٹیلائزر کمپنی (ایف ایف سی) عمل میں لا رہی ہے، کی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے اور اس کے اسٹریٹجک روڈ میپ کو حتمی شکل دیتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ درآمدی کھاد پر انحصار کم کرے گا، روزگار کے مواقع پیدا کرے گا، برآمدات میں اضافہ کرے گا اور ملک کے مقامی کوئلے کے وسائل میں قدر کا اضافہ کرے گا۔ایف ایف سی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جہانگیر پیراچہ کی سربراہی میں آنے والے وفد نے وزیراعلیٰ سندھ کو 1.12 ارب ڈالر مالیت کے اس منصوبے کے تکنیکی، مالی اور ماحولیاتی پہلوؤں پر بریفنگ دی۔ اس منصوبے کا مقصد تھر کے مقامی کوئلے کے ذخائر کو استعمال میں لا کر پاکستان کی کھاد کی خود کفالت کو مضبوط بنانا اور درآمدات پر انحصار کم کرنا ہے۔وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، سیکریٹری توانائی شہاب انصاری، منیجنگ ڈائریکٹر تھر کول طارق شاہ اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔ ایف ایف سی کی ٹیم میں چیف ٹیکنیکل آفیسر سید عامر عباس، ہیڈ آف گورنمنٹ اینڈ پبلک ریلیشنز شہباز اے خان اور سعد لودھی شامل تھے۔ایف ایف سی ٹیم نے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا کہ منصوبے نے نومبر 2025 میں بینک ایبل فزیبلٹی اسٹڈی (BFS) کی تکمیل کے ساتھ ایک اہم سنگِ میل حاصل کیا ہے، جو عالمی شہرت یافتہ کنسلٹنٹس نے تیار کی۔ بی ایف ایس کی تکمیل کے بعد منصوبہ اب فرنٹ اینڈ انجینئرنگ ڈیزائن (FEED) اور پراجیکٹ معاہدوں کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔موجودہ ٹائم لائن کے مطابق مالیاتی بندش (فنانشل کلوز) 2026ء کے آخر سے 2027ء کے درمیان متوقع ہے، جبکہ کمرشل آپریشنز ڈیٹ (COD) جنوری 2031ء کے لیے مقرر کی گئی ہے۔معاشی اور روزگار کے اثرات: ایف ایف سی نے اس اقدام کو ’گیم چینجر‘ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ سی ٹو ایف منصوبہ سالانہ 7 لاکھ 17 ہزار ٹن یوریا تیار کرے گا، جس کی پیداوار کو ملکی استعمال اور برآمدات کے درمیان برابر تقسیم کیا جائے گا۔ سالانہ یوریا برآمدات سے 26 کروڑ ڈالر تک آمدنی متوقع ہے۔ منصوبے سے 3,500 سے زائد براہِ راست اور تقریباً 7,000 بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، جبکہ سالانہ تقریباً 21 لاکھ ٹن کوئلے کے استخراج کے ذریعے سندھ حکومت کو تقریباً 55 لاکھ ڈالر سالانہ رائلٹی حاصل ہوگی۔ماحولیاتی تقاضوں کے مطابق ڈیزائن: یہ مربوط پلانٹ تھر کے کوئلے کو گیس فیکیشن کے ذریعے سنتھیسز گیس میں تبدیل کرے گا، جس کے بعد ڈی سلفرائزیشن اور شفٹ کنورژن کے عمل سے امونیا اور یوریا کی تیاری کے لیے ہائیڈروجن حاصل کی جائے گی۔ فیز ون میں بلک اور بیگ شدہ یوریا کی پیداوار، سالانہ 10.4 ہزار ٹن سلفر، اور سالانہ 7 لاکھ 17 ہزار ٹن زائد کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO₂) کی تیاری شامل ہے، جسے ذیلی صنعتی استعمال میں لایا جائے گا۔ فیز ٹو میں یوریا کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور گرین امونیا کا آغاز شامل ہے، جس میں عالمی پائیداری معیارات کے مطابق پائلٹ سطح کی پیداوار بھی شامل ہوگی۔ایف ایف سی کے مطابق ماحولیاتی تحفظ کے اقدامات پر 5 کروڑ ڈالر سے زائد مختص کیے گئے ہیں، جن میں NOx اور SOx کنٹرول سسٹمز، PM2.5 ذرات کا کنٹرول، ریورس اوسموسس کے ذریعے زیرو لیکوئڈ ڈسچارج، سیوریج ٹریٹمنٹ، بارش کے پانی کا ذخیرہ اور ویسٹ ٹو ویلیو حکمت عملی کے تحت صنعتی معیار کا جپسم، سلفر، سلیگ اور فلائی ایش کی تیاری شامل ہے۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ منصوبے کی عمل پذیری یقینی بنانے کے لیے سندھ حکومت اہم شعبوں میں سہولت فراہم کرتی رہے گی، جن میں مکھّی فراش سے 12 کیوسک پانی کی فراہمی، پلانٹ سائٹ اور اسلام کوٹ میں ملازمین کی رہائشی کالونی کے لیے زمین کی الاٹمنٹ شامل ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے منصوبے کے لیے صوبائی حکومت کے مکمل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اسے پاکستان کی غذائی سلامتی، صنعتی ترقی اور معاشی استحکام کے لیے نہایت اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ نہ صرف سندھ بلکہ پورے ملک کے لیے بے حد اہمیت کا حامل ہے۔ یہ درآمدی کھاد پر انحصار کم کرے گا، روزگار کے مواقع پیدا کرے گا، برآمدات میں اضافہ کرے گا اور ہمارے مقامی کوئلے کے وسائل میں قدر کا اضافہ کرے گا۔ انہوں نے ایف ایف سی کو زمین، پانی اور پالیسی ہم آہنگی میں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی، جو قابلِ اطلاق قوانین اور ضوابط کے مطابق ہوگا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے مزید کہا کہ پائیدار صنعتی ترقی اور سخت ماحولیاتی ضوابط کی پابندی منصوبے کی تکمیل تک اولین ترجیح رہے گی۔ منصوبہ فعال ہونے کے بعد سی ٹو ایف منصوبہ پاکستان کی کھاد کی سپلائی چین کو مضبوط بنانے، کاشتکاروں کی معاونت کرنے اور حکومتِ پاکستان اور سندھ حکومت کی سرپرستی میں تھر کے کوئلے کے صاف اور ویلیو ایڈڈ صنعتی استعمال کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

جواب دیں

Back to top button