*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سالڈ ویسٹ ایمرجنسی اینڈ ایفیشنسی پروجیکٹ کی رفتار تیز کرنے کی منظوری دے دی*

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سالڈ ویسٹ ایمرجنسی اینڈ ایفیشنسی پروجیکٹ (سویپ) کی رفتار تیز کرنے کی منظوری دے دی ہے جو کراچی کے ویسٹ مینجمنٹ سسٹم کو جدید، ماحولیاتی تقاضوں سے ہم آہنگ اور موسمیاتی طور پر پائیدار نظام میں تبدیل کرنے کا ایک اہم منصوبہ ہے۔وزیراعلیٰ ہاؤس میں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ سویپ، حکومت سندھ اور عالمی بینک کا مشترکہ منصوبہ ہے اور کراچی کو صاف، سرسبز اور رہنے کے قابل شہر بنانے کے وژن کا مرکزی حصہ ہے۔ اجلاس میں وزیر بلدیات ناصر شاہ، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، پرنسپل سیکریٹری ٹو چیف منسٹر آغا واصف، سیکریٹری بلدیات وسیم شمشاد اور پروجیکٹ ڈائریکٹر سویپ انور شر نے شرکت کی۔

*پائیدار کراچی*

وزیراعلیٰ نے کہا کہ سویپ کا بنیادی مقصد کراچی کے کاربن فٹ پرنٹ میں کمی لانا اور قومی و بین الاقوامی ماحولیاتی معیار پر عملدرآمد یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ منصوبہ نہ صرف کچرہ اٹھانے اور اسے ٹھکانے لگانے کے نظام کو جدید بنائے گا بلکہ ڈمپ سائٹس پر حفاظتی اقدامات کو بہتر کرے گا، استعمال شدہ مقامات کی بحالی کرے گا اور قریبی علاقوں میں مقیم کچرا چننے والوں کے حالات زندگی اور روزگار کے مواقع میں بہتری لائے گا۔انہوں نے کہا کہ مربوط سالڈ ویسٹ مینجمنٹ نظام عوامی صحت، ماحولیاتی تحفظ اور موسمیاتی پائیداری کیلئے ناگزیر ہے اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ماحولیاتی حفاظتی اقدامات پر سختی سے عملدرآمد اور منصوبے کے تمام اجزاء کی بروقت تکمیل یقینی بنائی جائے۔

*سویپ کے تحت انفراسٹرکچر*

سویپ کے تحت فوری ضرورت کے انفراسٹرکچر کی ترقی پر توجہ دی جا رہی ہے جن میں جدید گاربیج ٹرانسفر اسٹیشنز (جی ٹی ایس) اور سینیٹری انجینئرڈ لینڈ فل سائٹس (ایل ایف ایس) شامل ہیں تاکہ میونسپل سالڈ ویسٹ مینجمنٹ نظام کو مضبوط بنایا جا سکے۔گاربیج ٹرانسفر اسٹیشنز کو منظم طریقے سے کچرے کی وصولی، چھانٹی اور بڑی مقدار میں منتقلی کیلئے ڈیزائن کیا گیا ہے جس سے ماحولیاتی اور صحت عامہ کے خطرات میں کمی آئے گی۔ لینڈ فل سائٹ بقایا کچرے کی انجینئرڈ اور ماحولیاتی تقاضوں کے مطابق تلفی فراہم کرے گی جس میں لیچیٹ مینجمنٹ سسٹم اور گیس ویلز شامل ہوں گے۔وزیراعلیٰ نے دو بڑے پیکجز پر پیش رفت کا جائزہ لیا

*پیکج ون: گاربیج ٹرانسفر اسٹیشنز (جی ٹی ایس)*

چار مقامات — شرافی گوٹھ، ڈنگا موڑ، امتیاز اور گٹر باغیچہ — پر تعمیراتی کام جاری ہے۔ فروری 2026 تک شرافی گوٹھ جی ٹی ایس پر 52 فیصد سے زائد فزیکل پیش رفت ہوچکی ہے جبکہ دیگر مقامات پر کام مختلف مراحل میں جاری ہے۔ متعدد سہولیات کی تکمیل اگست 2026 تک متوقع ہے۔

*پیکج ٹو: جام چاکرو لینڈ فل سائٹ (ایل ایف ایس)*

485ایکڑ پر مشتمل جام چاکرو سائٹ پر پانچ لینڈ فل فیزز میں ترقیاتی کام جاری ہے، جس کی متوقع مدت استعمال 6.5 سال ہے۔ مجموعی فزیکل پیش رفت تقریباً 41 فیصد ہے جس میں لیچیٹ ٹینکس، گیس ویلز، ویسٹ ریسیپشن ایریاز، اندرونی سڑکوں اور عمارتوں کی تعمیر شامل ہے۔ یہ سائٹ روزانہ 7 ہزار ٹن تک کچرے کو ماحولیاتی طور پر محفوظ انداز میں تلف کرنے کیلئے ڈیزائن کی گئی ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ سویپ پاکستان وژن 2025 سے ہم آہنگ ہے، جس میں شہری آلودگی میں کمی، ویسٹ ٹرانسفر سسٹمز کی جدید کاری اور پائیدار شہروں کے فروغ پر زور دیا گیا ہے۔ انہوں نے پروجیکٹ ٹیم کو ہدایت کی کہ موجودہ تاخیر کو دور کیا جائے، کارکردگی کے فرق کو ختم کیا جائے اور منصوبے کی رفتار برقرار رکھتے ہوئے کراچی کے شہریوں کیلئے عملی بہتری یقینی بنائی جائے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت مربوط اور جامع سالڈ ویسٹ مینجمنٹ نظام کے ذریعے پائیدار اور رہنے کے قابل ماحول فراہم کرنے کیلئے پُرعزم ہے اور شہر کے ماحول کے تحفظ کے ساتھ جامع شہری ترقی کو فروغ دیا جائے گا۔

جواب دیں

Back to top button