اجلاس میں وزراء؛ ناصر شاہ اور جام خان شورو، معاونِ خصوصی قاسم نوید، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، چیئرمین پی اینڈ ڈی نجم شاہ، سیکریٹری بلدیات وسیم شمشاد، چیئرمین سی ایم آئی ٹی بلال میمن، سیکریٹری خزانہ فیاض جتوئی، سی ای او واٹر بورڈ احمد صدیقی اور دیگر شریک ہوئے۔وزیر اعلٰی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت کراچی کے انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے پُرعزم ہے۔بہتر سڑکیں اور ہموار ٹریفک پیپلز پارٹی حکومت کی ترجیح ہے۔کراچی کے شہریوں کے لیے بہتر معیارِ زندگی فراہم کرنا ہمارا مقصد ہے۔شہر کراچی ہمارے صوبہ سندھ کی معیشت کا انجن ہے۔کراچی کی کی ترقی دراصل سندھ کی ترقی ہے۔وزیراعلیٰ سندھ کو کراچی کے ترقیاتی پورٹ فولیو کی پیش رفت پر بریفنگ دی گئی۔جس کے مطابق مجموعی طور پر کراچی کی 285 ترقیاتی اسکیموں پر 86 ارب 94 کروڑ روپے لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔شہر کراچی کے لیے 38 ارب 83 کروڑ روپے مختص اور 22 ارب 36 کروڑ جاری کیے گئے ہیں۔رواں مالی سال میں کراچی کی ترقیاتی اسکیموں پر 13 ارب 15 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔جاری فنڈز کا مؤثر استعمال کیا جائے، وزیراعلیٰ سندھ نے رکاوٹیں فوری دور کرنے کی ہدایت کی۔بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ کے ڈی اے 76 اسکیموں پر کام کر رہا ہے اور 72 فیصد فنڈز استعمال کر چکا ہے۔کے ایم سی کی 200 اسکیموں پر 46 فیصد فنڈز عملدرآمد کیا گیا ہے۔میگا کراچی کے 9 بڑے منصوبوں پر 62 فیصد پیش رفت ہوچکی ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے نئی منظور شدہ بعض اسکیموں میں سست روی پر تشویش کا اظہار کیا۔مراد علی شاہ نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔جاری فنڈز کا مؤثر استعمال کیا جائے اور تمام رکاوٹیں فوری دور کی جائیں۔ترقیاتی منصوبوں کی منظوریاں دے چکے ہیں اور فنڈز دستیاب ہیں۔اب توجہ نتائج اور عوام کو نظر آنے والی پیش رفت پر ہونی چاہیے وزیراعلیٰ سندھ نے اجلاس میں میگا منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔وزیراعلیٰ سندھ نے ملیر ندی پر مرغی خانہ پل جلد مکمل کرنے کی ہدایت بھی کی۔

شاہراہِ بھٹو اور کورنگی کازوے پل (قیوم آباد، کورنگی) 1890.180 ملین روپے کا منصوبہ ہے اور تمام رقم جاری ہوچکی ہے۔شاہراہِ بھٹو منصوبہ کا کام 68 فیصد مکمل کیا گیا ہے، وزیراعلیٰ سندھ کو اجلاس میں آگاہی فراہم کی گئی۔کریم آباد انڈرپاس دو طرفہ دو رویہ منصوبہ 3.8 ارب روپے لاگت سے جاری ہے۔کریم آباد انڈرپاس پر مئی 2023 میں کام شروع ہوااور 85 فیصد فزیکل پیش رفت ہو چکی ہے۔منور چورنگی انڈرپاس 2026.487 ملین روپے کی اسکیم ہے اور 75 فیصد مکمل کی گئی ہے۔تعمیراتی معیار برقرار رکھا جائے اور ٹریفک روانی کی مشکلات کو کم کیا جائے، وزیراعلیٰ سندھ نے انجینئرز کو ہدایت کی۔بریفنگ کے مطابق

شہر کراچی کے 24 ٹاؤنز میں سڑکوں کی بحالی کے لیے 13 ارب روپے منظور کیے گئے ہیں۔کراچی کی 26 بڑی سڑکوں کی بحالی و مرمت کے لیے 8 ارب 53 کروڑ مختص کیے گئے ہیں۔شہر کے ترقیاتی کاموں کی نگرانی کے لیے اوور سائٹ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، ماہانہ پیش رفت رپورٹ دینے کی ہدایت بھی کی گئی۔وزیر اعلٰی سندھ نے کہا کہ غیر معیاری تعمیرات اور کمزور منصوبہ بندی پر زیرو ٹالرنس ہے۔ہم عوام کو ریلیف دینے آئے ہیں اور نتائج ہر صورت نظر آنے چاہئیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے اداروں کے درمیان بہتر رابطہ یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اگلے اجلاس میں ہر منصوبے کی ٹائم لائن اور جوابدہی رپورٹ پیش کی جائے۔






