وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ کی زیر صدارت محکمہ بلدیات سندھ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں آئندہ صوبائی بجٹ میں شامل کی جانے والی ترقیاتی اور عوامی فلاحی اسکیموں پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں سیکریٹری لوکل گورنمنٹ وسیم شمشاد، اسپیشل سیکریٹری زین العابدین انصاری، ایم ڈی سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ، ایم ڈی کے ڈی اے اور ڈائریکٹر ماسٹر پلان احمد سولنگی سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں شہری سہولیات کی بہتری، صفائی ستھرائی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے اور بلدیاتی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے سے متعلق مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ نے ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ بجٹ میں ایسی اسکیموں کو ترجیح دی جائے جن کے ثمرات براہ راست عام آدمی تک پہنچ سکیں اور شہریوں کو روزمرہ بنیادی سہولیات میں واضح بہتری محسوس ہو۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت شہری و دیہی علاقوں میں یکساں ترقی اور جدید بلدیاتی نظام کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے جبکہ صفائی، نکاسی آب، سڑکوں کی بحالی اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی جیسے منصوبوں کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔ اجلاس میں سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے دائرہ کار کو مزید اضلاع تک توسیع دینے کے معاملے پر بھی غور کیا گیا۔ وزیر بلدیات نے ہدایت کی کہ خیرپور اور سانگھڑ اضلاع کو فوری طور پر سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے نظام میں شامل کیا جائے تاکہ ان اضلاع میں بھی جدید طرز کا صفائی کا مربوط نظام متعارف کرایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے بھر میں ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے اور صاف ستھرے ماحول کے قیام کے لیے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے منصوبوں کو وسعت دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اجلاس میں ماسٹر پلان سے متعلق امور، شہری آبادی میں اضافے کے تناظر میں مستقبل کی ضروریات اور ترقیاتی منصوبہ بندی پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی جبکہ مختلف ترقیاتی اسکیموں کی رفتار تیز کرنے اور جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔ وزیر بلدیات سندھ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ بجٹ تجاویز کو حتمی شکل دیتے وقت عوامی ضروریات، شہری مسائل اور بلدیاتی اداروں کی استعداد کار کو مدنظر رکھا جائے تاکہ محدود وسائل میں زیادہ سے زیادہ عوامی ریلیف فراہم کیا جا سکے۔






