وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے آذربائیجان کے شہر باکو میں ”ورلڈ اربن فورم“ سے تاریخی خطاب کیا اورپنجاب کے عوامی فلاحی پراجیکٹس سے آگاہ کیا۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ورلڈ اربن فورم باکو کے لیڈرز سمٹ میں شرکت باعثِ اعزاز ہے۔باکو جدید شہری تبدیلی، ویژن اور عالمی رابطے کا آئینہ دار ہے۔ باکو کا تاریخی پرانا شہر پاکستان اور آذربائیجان کے مشترکہ تہذیبی رشتوں کا متبادل ہے۔ ملتان سرائے جیسے قدیم تجارتی راستے دونوں ممالک کے صدیوں پرانے عوامی روابط کے گواہ ہیں۔ میں اپنے ساتھ قائد محمد نواز شریف، وزیر اعظم شہباز شریف اور پاکستانی عوام کا سلام لائی ہوں۔ گرمجوشی سے کی گئی مہمان نوازی اور بہترین انتظامات پر حکومتِ آذربائیجان کی تہہ دل سے مشکور ہوں۔پائیدار ترقی اور ریزیلینٹ شہروں کے لیے صدر الہام علیئیف کا وژن انتہائی متاثر کن ہے۔ باکو کو متحرک اور عالمی سطح پر جڑے شہر میں تبدیل کرنے پر صدر الہام علیئیف کی قیادت قابلِ ستائش ہے۔
میرے والد نواز شریف اور آذربائیجان کی بانی قیادت حیدر علیئیف کا رشتہ اعتماد اور احترام پر استوار تھا۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ نواز شریف اور حیدر علیئیف روح کے رشتے سے سچے بھائی تھے، جن کی دوستی آج بھی تعلقات کی بنیاد ہے۔ باکو میں کھڑے ہو کر میں واقعی محسوس کرتی ہوں کہ میں کسی غیر ملک میں نہیں بلکہ اپنے گھر آئی ہوں۔ وسطی ایشیائی ممالک میں میرا یہ پہلا دورہ باکو کا ہے، جو لچک اور ترقی کی نمائندگی کرتا ہے۔ میں آپ کے پاس 13 کروڑ سے زائد آبادی والے صوبے پنجاب کے انقلاب اور عزم کی کہانی لائی ہوں۔ہم اس بات کی نئی تعریف متعین کر رہے ہیں کہ شہر کیسے بنائے جاتے ہیں اور عوام کو وقار کیسے دیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ شہر صرف اسی وقت رزیلینٹ بنتے ہیں جب ترقی انسان دوست، ماحولیات سے لیس اور ڈیٹا پر مبنی ہو۔ شہر صرف سڑکوں اور عمارتوں کا نام نہیں، یہ انسانی کہانیاں ہیں جہاں وقار محفوظ یا محروم ہوتا ہے۔جب میں نے وزیر اعلیٰ کا حلف لیا تو میں جانتی تھی کہ مجھے کوئی عہدہ نہیں بلکہ ذمہ داری وراثت میں ملی ہے۔ میری ذمہ داری پانی کیلئے میلوں چلنے والی عورت، آلودہ ہوا میں سانس لیتے بچے اور بے چھت خاندان کے لیے ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے شہری اب وعدوں کے نہیں بلکہ اپنے اصل وقار کے منتظر ہیں۔ ہم نے اپنی نوعیت کے پہلے گھر گھر جا کر ڈیٹا اکٹھا کرنے کے نظام ‘پنجاب سوشل اکانومک رجسٹری’ کا آغاز کیا۔ ہمارا صرف ایک اصول ہے کہ ترقی کے اس سفر میں کسی کوئی بھی پیچھے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ اگر کسی چیز کی پیمائش اور تشخیص نہیں کی جائے گی، تو اسے کبھی ٹھیک نہیں کیا جا سکتا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کے طور پر ہماری سب سے پہلی اور بنیادی ترجیح عوام کو چھت فراہم کرنا تھی۔ فلیگ شپ پروگرام ”اپنی چھت اپنا گھر” کے تحت پنجاب بلا سود قرضوں سے دنیا کا بڑا رہائشی منصوبہ دےرہا ہے۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ ایک سال سے بھی کم عرصے میں 1 لاکھ 60 ہزار خاندانوں کو ہاؤسنگ سپورٹ فراہم کی جا چکی ہے۔ پنجاب میں 1 لاکھ سے زیادہ خاندان اپنے ذاتی گھروں کی تعمیر مکمل کر کے ان میں منتقل ہو چکے ہیں۔ اس ہاؤسنگ منصوبے کے ہر ایک نمبر کے پیچھے ایک انسان کی بدلی ہوئی زندگی موجود ہے۔ اب کسی ماں کو اپنے بچوں پر بارش کا خوف نہیں اور باپ فخر سے کہہ سکتا ہے کہ ‘یہ میرا گھر ہے’۔ انہوں نے کہا کہ اپنی چھت اپنا گھر” صرف ایک ہاؤسنگ اسکیم نہیں، بلکہ یہ عوام کے وقار کو مستقل بنانا ہے۔ ماڈل ویلیج پروگرام’ کے ذریعے پنجاب کے 2,000 سے زائد دیہاتوں کی تقدیر بدلی جا رہی ہے۔ دیہات کو صاف پانی، نکاسی آب، پکی گلیوں اور سولر انفراسٹرکچر سے تبدیل کیا جا رہا ہے۔ پینے کے صاف پانی تک رسائی پورے پنجاب میں پبلک ہیلتھ اور انسانی وقار کی مرکزی ترجیح ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب پہلی بار شہری اور دیہی برادریوں میں نئے فلٹریشن سسٹم اور سپلائی نیٹ ورکس یکساں بڑھا رہا ہے۔ کسی عورت کو پانی کے لیے میلوں نہ چلنا پڑے اور کوئی بچہ غیر محفوظ پانی سے تکلیف نہ اٹھائے۔ انسانی وقار کا انحصار جغرافیے پر نہیں ہونا چاہیے، دیہات باوقار ہوں گے تو شہر مضبوط ہوں گے۔ ہمارے نزدیک دیہی علاقوں کی ترقی اور اپ لفٹ ہی اصل میں شہری استحکام اور لچک ہے۔ پنجاب نے صوبے بھر میں 2 ارب ڈالر سے زائد کے تاریخی اربنائزیشن ڈویلپمنٹ پروگرام کا آغاز کیا ہے۔ اس تاریخی پروگرام کے تحت سڑکیں، نکاسی آب، واٹر اسٹوریج اور شہری لچک کا انفراسٹرکچر بن رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ محض دو سال کے قلیل عرصے میں 30,000 کلومیٹر سے زیادہ سڑکیں تعمیر اور مکمل کی جا چکی ہیں۔ سڑکوں کے اس جال نے برادریوں کو دوبارہ جوڑ کر نقل و حرکت اور معاشی سرگرمیوں کو بحال کیا ہے۔ پنجاب میں اب اربن فلڈنگ کے منظم اورمضبوط اقدامات کیے جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پچھلے سال کے سیلاب کے بعد ہم فوری طور پر سیلاب سے محفوظ انفراسٹرکچر اور ماحولیاتی منصوبہ بندی پر آ گئے۔ دہائیوں میں پہلی بار ہوا ہے کہ شہری سیلاب کے مسئلے کو منظم اور ڈیٹا پر مبنی طریقے سے حل کیا جا رہا ہے۔ میگنیفیشنٹ پنجاب’ کے تحت پہلی بار سیاحت، ثقافتی ورثے اور انفراسٹرکچر کی جامع بحالی ہو رہی ہے۔100 سے زیادہ تاریخی مقامات، عجائب گھروں، آثارِ قدیمہ اور مذہبی مقامات کا تحفظ اور تجدید جاری ہے۔ یہ بحالی ہمارے لوگوں کو تاریخ اور شناخت سے جوڑنے اور شہروں کو سیاحوں کے لیے سازگار بنانے کے لیے ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ثقافتی دل لاہور کو فخر کے ساتھ 2026 سے 2027 کے لیے ‘ای سی او ٹورازم کیپیٹل’ قرار دیا گیا ہے۔شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) نے بھی لاہور کو ایک بڑے سیاحتی اور ثقافتی مرکز کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ ثقافتی ورثے کی بحالی صرف ماضی کو محفوظ کرنا نہیں بلکہ نئے مواقع پیدا کرنا اور شناخت کو مضبوط کرنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم فخر اور اعتماد کے ساتھ اپنے شہروں کو پوری دنیا کے لیے کھول رہے ہیں۔ ستھرا پنجاب’ کے ذریعے 1 لاکھ 50 ہزار سے زیادہ صفائی کارکن روزانہ صوبے کی خدمت کر رہے ہیں۔ ستھرا پنجاب کارکنان مل کر اس مہم کو دنیا کے سب سے بڑے سالڈ ویسٹ کلیکشن پروگراموں میں سے ایک بناتے ہیں۔ اس اقدام کو اب ‘ویسٹ ٹو ویلیو’ کی منتقلی کی واضح سمت کے ساتھ جدید بنایا جا رہا ہے۔ ٹھوس فضلے کو بتدریج ری سائیکلنگ، کھاد بنانے اور توانائی کی بحالی کے نظام میں پروسیس کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ یہ روایتی صفائی سے سرکلر اکانومی کی طرف تبدیلی ہے، تاکہ شہر وسائل کے لحاظ سے موثر اور پائیدار بنیں۔ایک صاف ستھرا شہر صرف انسانی وقار کی علامت نہیں بلکہ عملی طور پر پائیداری کا ثبوت ہے۔ سموگ کنٹرول کے لیے نفاذ اور نگرانی پر مبنی ٹیکنالوجی طریقہ کار کے ساتھ ہوا کا معیار اولین ترجیح ہے۔صاف ہوا میں سانس لینا کوئی مراعات یا لگژری نہیں بلکہ یہ ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔پنجاب کلین موبلٹی کے تحت پہلے مرحلے میں 1,100 الیکٹرک بسیں متعارف کرا چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا ہدف 2029 تک 5,000 الیکٹرک بسیں، الیکٹرک بائیکس اور الیکٹرک ٹیکسیاں فراہم کرنا ہے۔ پلانٹ فار پنجاب’ مہم کے تحت ہم نے صوبے بھر میں 5 کروڑ درخت لگائے ہیں۔ کروڑوں درخت ماحولیاتی توازن کو بحال کر رہے ہیں اور شہری جنگلاتی حلقے بنا رہے ہیں۔ پنجاب میں تمام ترقیاتی اخراجات کا ایک فیصد اب باقاعدہ کلائمیٹ ریزیلیئنس کے لیے وقف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پنجاب بھر میں ‘سیف سٹی’ ٹیکنالوجی سے چلنے والے کیمرہ نگرانی کے پروگرام کو وسیع کیا ہے۔ محفوظ شہر صرف نگرانی اور امن و امان کا نام نہیں بلکہ یہ ٹیکنالوجی اور جرائم کی روک تھام کا نام ہے۔ سیف سٹی کا اصل مقصد خواتین، بچوں اور ہر ایک شہری کو مکمل تحفظ فراہم کرنا ہے۔ آذربائیجان کے معزز صدر نے بالکل ٹھیک کہا کہ ترقی ہمیشہ جرات اور حوصلہ مانگتی ہے۔ حوصلہ اور جرات ہی میری ہر اس اصلاحات اور پروجیکٹ کا محورہیں جو میں پچھلے دو سال سے کر رہی ہوں۔ ہاؤسنگ سے لے کر شہری استحکام تک میرا ہر پروجیکٹ جمود (اسٹیٹس کو) کو بدلنے کے جرات مندانہ جذبے سے چل رہا ہے۔ ہر لیڈر کے لیے یہ بات دل کو لگتی ہے کہ ترقی کبھی بھی ڈرپوک نہیں ہوتی، حوصلہ ہی فرق پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کامیابی تقریروں سے نہیں بلکہ عوام کی بدلی ہوئی زندگیوں سے ناپی جاتی ہے۔ جدت کے شہر باکو سے ہم یہ مشترکہ پیغام لے کر جا رہے ہیں کہ شہر کوئی مراعات نہیں ہیں۔ رزیلینٹ اور محفوظ شہر پوری انسانیت کا یکساں اور بنیادی حق ہیں۔





