مراد علی شاہ کی زیرصدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس، اہم فیصلے،فائر فائٹنگ کیلئے 100 فائر ٹینڈرز سمیت 33.7 ارب روپے کا سامان خریدنے کی مںظوری

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبائی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے صوبے کے فائر فائٹنگ اور ایمرجنسی رسپانس نظام کو جدید بنانے اور نیا ابتدائی انتباہی عوامی الرٹ سسٹم متعارف کرانے کے لیے 33.7 ارب روپے کے پیکج کی منظوری دے دی۔کابینہ نے مزدور حقوق کے حوالے سے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے خواتین زرعی مزدوروں کو مساوی اجرت، اوقاتِ کار کا تعین، زچگی مراعات، صحت اور بچوں کی غذائیت تک رسائی، کام کی جگہ ہراسانی سے تحفظ، تحریری معاہدے اور تنظیم سازی کا حق دینے کا فیصلہ بھی کیا۔وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ اجلاس میں صوبائی وزرا، مشیران، معاونین خصوصی، چیف سیکریٹری، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ (پی اینڈ ڈی)، پرنسپل سیکریٹری ٹو وزیراعلیٰ (پی ایس سی ایم) اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

*ایمرجنسی رسپانس سروسز کی اپ گریڈیشن*

وزیراعلیٰ نے صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) اور سندھ ایمرجنسی ریسکیو سروس 1122 کو جدید بنانے کے لیے کئی ارب روپے کے منصوبے کی منظوری دی۔ کابینہ نے حکومت سے حکومت (جی ٹو جی) انتظام کے تحت خصوصی آلات اور گاڑیاں حاصل کرنے کے لیے چینی قونصل خانے سے رابطہ کرنے کی منظوری دی۔خریداری میں 100 فائر ٹینڈرز، 35 واٹر باؤزرز، خصوصی اسنارکلز اور 50 آل ٹیرین فائر وہیکلز شامل ہیں۔ جدید فائر فائٹنگ کے تحت آٹھ فائر فائٹنگ ڈرونز، 12 ملٹی پرپز ڈرونز اور نیا ابتدائی انتباہی عوامی الرٹ سسٹم حاصل کیا جائے گا۔منصوبے کی مجموعی لاگت 33.7 ارب روپے ہے، جو تین مالی سالوں میں آلات، انفراسٹرکچر اور افرادی قوت پر خرچ کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ نے وزیر داخلہ اور وزیر بلدیات پر مشتمل اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی تاکہ سندھ کی ریسکیو سروسز کی تنظیمِ نو کر کے ایمرجنسی حالات میں مربوط اور تیز ردعمل یقینی بنایا جا سکے۔

*سندھ خواتین زرعی مزدور قواعد 2026*

کابینہ نے سندھ خواتین زرعی مزدور ایکٹ 2019 پر عملدرآمد کے لیے سندھ خواتین زرعی مزدور قواعد 2026 پر غور کیا، جن کا مقصد زراعت، لائیو اسٹاک اور ماہی گیری کے شعبوں میں کام کرنے والی خواتین کو قانونی شناخت اور تحفظ فراہم کرنا ہے۔ ان قواعد کا مسودہ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی تکنیکی معاونت سے تیار کیا گیا ہے، جس میں مساوی اجرت، اوقاتِ کار کا تعین، زچگی مراعات، صحت اور بچوں کی غذائیت تک رسائی، ہراسانی سے تحفظ، تحریری معاہدے اور تنظیم سازی کا حق شامل ہیں۔قواعد کے تحت بے نظیر خواتین زرعی مزدور کارڈ کے اجرا اور بے نظیر ویمن سپورٹ پروگرام کے قیام کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ خلاف ورزیوں کے مقدمات لیبر کورٹس میں چلائے جائیں گے، جن میں جرمانے اور قید کی سزائیں مقرر ہوں گی۔ کابینہ نے وزیر زراعت اور وزیر محنت پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو حتمی منظوری سے قبل قواعد کا جائزہ لے کر سفارشات پیش کرے گی۔

*صنعتی ضوابط*

محکمہ محنت سندھ نے صنعتی ضوابط کو جدید بنانے اور صوبے بھر میں کاروبار میں آسانی پیدا کرنے کے لیے اہم قانونی ترامیم تجویز کیں۔ یہ اصلاحات سندھ بزنس ون اسٹاپ شاپ (ایس-باس) اقدام کے تحت کی جا رہی ہیں، جس کی قیادت محکمہ سرمایہ کاری کر رہا ہے اور عالمی بینک اس کی معاونت کر رہا ہے۔ان ترامیم کا مرکزی نکتہ فیکٹریوں اور تجارتی اداروں کی رجسٹریشن کے ڈیجیٹل عمل کو باقاعدہ قانونی حیثیت دینا ہے۔ سندھ فیکٹریز ایکٹ 2015 کی دفعہ 10 میں ترمیم کے تحت فیکٹری مالکان کو آغازِ کار کا نوٹس آن لائن جمع کرانا لازمی ہوگا۔ اصلاحات کے تحت ای-لائسنسنگ پورٹل کے نفاذ کی بھی حمایت کی گئی ہے، جس کی منظوری 30 مئی 2024 کو کابینہ نے دی تھی اور یہ 16 محکموں کو خدمات فراہم کرے گا۔دکانوں اور تجارتی اداروں کے لیے آن لائن درخواست جمع کرانے کے فوراً بعد دس روز کے لیے عبوری سرٹیفکیٹ خودکار طور پر جاری ہوگا۔ اگر آن لائن پورٹل مسلسل دس دن تک دستیاب نہ ہو تو قانون کے تحت دستی درخواست جمع کرانے کی اجازت ہوگی۔ترامیم میں بیوروکریٹک تاخیر کم کرنے کے لیے سخت ٹائم لائنز مقرر کی گئی ہیں۔ مجاز انسپکٹر مکمل درخواست موصول ہونے کے سات ورکنگ ڈیز کے اندر فیکٹری رجسٹریشن سرٹیفکیٹ جاری کریں گے یا اسی مدت میں تحریری اعتراض سے آگاہ کریں گے۔ مسترد یا تاخیر کا شکار درخواستوں کے خلاف اپیل چیف انسپکٹر کو کی جا سکے گی، جو فیکٹریز کے لیے 14 دن اور دکانوں کے لیے 10 دن میں فیصلہ کریں گے۔ڈیجیٹلائزیشن کے علاوہ مزدور معیارات اور قانونی طریقہ کار میں بھی بہتری کی گئی ہے۔ سندھ فیکٹریز ایکٹ کی دفعہ 57 میں ترمیم کے تحت کوئی بالغ مزدور روزانہ نو گھنٹے سے زائد کام نہیں کرے گا، جیسا کہ دفعہ 54 میں ہفتہ وار حد مقرر ہے۔ مزید برآں، سندھ شاپس اینڈ کمرشل اسٹیبلشمنٹ ایکٹ کے تحت مقدمات کے اندراج کے لیے اب ڈپٹی چیف انسپکٹر آف شاپس کی پیشگی منظوری لازمی ہوگی تاکہ یکساں نفاذ یقینی بنایا جا سکے۔ کابینہ نے ان ترامیم کی منظوری دے کر انہیں اسمبلی کو ارسال کر دیا۔

*مالی و انفراسٹرکچر منظوری*

کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے خزانہ کی جانب سے منظور شدہ 23,766.941 ملین روپے کے فیصلوں کی توثیق کی۔ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے تحت سڑکوں کی بحالی کے لیے 8,530 ملین روپے کی گرانٹ منظور کی گئی۔ گل پلازہ آتشزدگی سے متاثرہ تاجروں کو 7,000 ملین روپے معاوضہ دینے کی منظوری دی گئی۔آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع حبیب انشورنس/ایکسچینج بلڈنگ کے حصول کے لیے 1,570 ملین روپے اور حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے تحت بحالی کاموں کے لیے 5,206.941 ملین روپے منظور کیے گئے۔ کچے علاقوں میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیوں کے لیے سندھ پولیس کو 560 ملین روپے جبکہ پیپلز انفارمیشن ٹیکنالوجی پروگرام (پی آئی ٹی پی-ٹو) کے لیے 900 ملین روپے مختص کیے گئے۔

*رمضان پرائس کنٹرول*

اجلاس کے آغاز پر وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بابرکت ماہِ رمضان کی حرمت پر زور دیتے ہوئے صوبے بھر میں سخت قیمتوں کے کنٹرول اور اشیائے خورونوش کے اعلیٰ معیار کو یقینی بنانے کے لیے واضح ہدایات جاری کیں۔چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ نے فوری اقدامات پر کابینہ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 23 فروری کو قیمتوں کی جانچ کے لیے 870 دکانوں کا معائنہ کیا گیا۔ 119 مقامات پر اسسٹنٹ کمشنرز نے موقع پر سرکاری نرخوں پر اشیا کی نیلامی کرائی جبکہ مجموعی طور پر 24 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔

*نو تشکیل شدہ سندھ الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (سیپرا)*

کابینہ نے سندھ الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (سیپرا) کے چیئرمین اور اراکین کی تقرری کی منظوری دے دی۔ یہ نیا قانونی ادارہ سندھ ریگولیشن آف الیکٹرک پاور سروسز ایکٹ 2023 کے تحت قائم کیا گیا ہے۔سلیکشن کمیٹی کی سفارش پر رفیق احمد شیخ کو چیئرمین سیپرا مقرر کیا گیا ہے۔ ممبر ٹیکنیکل اینڈ ڈیولپمنٹ کے لیے نند لال پی۔ شرما، ممبر لیگل اینڈ کارپوریٹ کے لیے ارتضیٰ الرحمٰن، جبکہ ممبر فنانس اینڈ پالیسی کے لیے محمد حنیف ادریس کو بطور بنیادی امیدوار نامزد کیا گیا ہے۔

کابینہ نے غلام اللہ شیخ کی بطور ممبر (لاء) نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) تقرری کی بھی منظوری دی۔

*سندھ، بلوچستان مفاہمتی یادداشت برائے آٹزم بحالی خدمات*

سندھ کابینہ نے بلوچستان محکمہ صحت اور سندھ سینٹر فار آٹزم ری ہیبیلیٹیشن اینڈ ٹریننگ سندھ (سی آرٹس)، محکمہ برائے بااختیار افرادِ خصوصی (ڈی ای پی ڈی) کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی منظوری دی ہے تاکہ بلوچستان میں آٹزم بحالی خدمات کے قیام میں معاونت فراہم کی جا سکے۔اس مفاہمتی یادداشت کے تحت کوئٹہ میں بلوچستان انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ سروسز میں سی آرٹس کی طرز پر ایک مرکز قائم کیا جائے گا۔ سندھ حکومت تکنیکی معاونت، استعداد کار میں اضافہ، عملے کی تربیت اور آپریشنل رہنمائی فراہم کرے گی۔

*کراچی اور الماتے سسٹر سٹیز*

سندھ کابینہ نے کراچی اور الماتے، قازقستان کے درمیان سسٹر سٹی تعلقات کے قیام کے لیے “ٹوئننگ ایگریمنٹ” کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد دونوں بڑے تجارتی مراکز کے درمیان دوطرفہ تعلقات مضبوط کرنا اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینا ہے۔شراکت داری کے تحت تجارت، سرمایہ کاری، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) میں تعاون پر توجہ دی جائے گی۔ شہری منصوبہ بندی، ٹرانسپورٹ، صحتِ عامہ اور ماحولیاتی تحفظ کے شعبوں میں ماہرین کا تبادلہ کیا جائے گا۔ سیاحت کے فروغ اور دونوں شہروں کے نوجوانوں اور تعلیمی اداروں کے درمیان روابط کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جائیں گے۔ بلدیاتی اور کاروباری رہنماؤں کے باقاعدہ دوروں کے ذریعے کاروباری روابط کو بھی فروغ دیا جائے گا۔

*یوسی 16 چیئرمین برطرف*

سندھ کابینہ نے یونین کونسل 16 بائجی شریف (سکھر) کے چیئرمین شفقت اللہ بھٹو کو انکوائری میں سنگین بدانتظامی اور بدعنوانی کا مرتکب قرار دیے جانے کے بعد برطرف کرنے کی منظوری دے دی ہے۔یہ اقدام وائس چیئرمین علی اصغر کلہوڑو کی شکایت پر کیا گیا، جنہوں نے بھٹو پر بدعنوانی، یونین کونسل کا بجٹ منظور نہ کرنے اور تنخواہوں و پنشن کی ادائیگی روکنے کے الزامات عائد کیے تھے۔ ستمبر 2025 میں معطلی کے بعد صوبائی لوکل گورنمنٹ کمیشن (پی ایل جی سی) کی انکوائری میں انہیں قصوروار قرار دیا گیا۔ چیئرمین متعدد ذاتی سماعتوں میں پیش نہیں ہوئے۔سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کے تحت کابینہ نے معاملہ یونین کونسل 16 میں دوبارہ انتخاب کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کو بھیجنے کی سفارش کی توثیق کر دی ہے۔ عبوری طور پر انتظامی امور اور واجبات کی ادائیگی کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے چیئرمین کا چارج وائس چیئرمین کو سونپنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

*کمرشل پلاٹ کو امینٹی میں تبدیل کرنے کی منظوری*

سندھ کابینہ نے لیٹن رحمت اللہ بینی وولنٹ ٹرسٹ (ایل آر بی ٹی) کی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر درخواست منظور کرتے ہوئے نارتھ ناظم آباد، کراچی کے بلاک بی (اسکیم 02) میں واقع پلاٹ نمبر ایس ڈی-19، رقبہ ایک ہزار مربع گز، کی زمین کے استعمال کی حیثیت کمرشل سے امینٹی میں تبدیل کرنے کی اجازت دے دی ہے تاکہ وہاں فلاحی آئی ہسپتال قائم کیا جا سکے۔

جواب دیں

Back to top button