مارچ کا مہینہ آن پہنچا ہے۔مگر عالمی سیاسی تناظر میں بہت کشیدگی ہے۔افسوس ناک واقعات پہ در پہ ہو رہے ہیں۔علاقائی اور بین ا الاقوامی تنازعات کا پر امن حل کی کوششیں جب ذرا ٹھراؤ کا شکار ہو جاتی ہیں۔ تو عسکریت پسند رجحانات غالب آ جاتے ہیں۔ملکوں کے اندر بھی اور بین الاممالک نوعیت کے کئی پہلووں پر مبنی تضادات سال2026 کے آغاز کے ساتھ ہی شدت اختیار کر رہے ہیں۔ایسے عالمی تناظر میں ملکوں کے اندررونی تنازعات اور اختلافات کو کم کر کے یکجہتی اور ہم آہنگی کو فروغ لازم ٹھہرتا ہے۔ہمارے جیسے ملکوں کے اندر گورننس کے مسائل زیادہ اہمیت اختیار کر جاتے ہیں۔جو منطقی نتیجہ ہوتا ہے۔حالات حاضرہ کی سنگینی کا یہی برآمد ہوتا ہے۔
اس عالمی اور قومی تناظر میں پاکستانی عورتیں اپنا عالمی دن8مارچ کو منائیں گی۔جنگوں اور خانہ جنگیوں کے منفی اثرات سب سے زیادہ خاندان بالخصوص عورتیں اور بچے متاثر ہوتے ہیں،اور اثرات بڑے دیرپا اور دور رس ہوتے ہیں۔برسوں کی حاصل کردہ سہولیات اور ترقی کے مظاہر پل بھر میں غائب ہو جاتے ہیں۔اور انسانی سماج قدیم ادوار میں دھکیل دیا جاتا ہے۔اسی لئے تو مہذب اقوام کا نعرہ:سب سے مقبول عام رجحان امن و امان اور ترقی کی طرف پیش رفت ہے۔سب ہی یہ چاہتے ہیں۔تا ہم معاشرے میں مٹھی بھر انتشار پسند سارا امن و امن تباہ کرنے پر تل جاتے ہیں۔تو نتیجہ تباہی کی طرف ہف جاتا ہے۔یہ ایک عمومی مسئلہ ہے۔جیسے ہماری قوم بہ حیثیت مجموعی ہماری حکومتیں اور ادارے،عوام سیاسی جماعتیں اور سول سوسائٹی تنظیمیں ہسرگرم نمائندے سبھی اس مسئلہ پر تشویش کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔بہر حال ہمیں یقین ہے کوئی نہ کوئی راہ نکل آئے گی جو ملک اور انسانوں کے حق میں اللہ بہتری لائے گا۔ہم آج بات کرنا چاہیں گے۔پاکستانی عورتوں کے حالات زار بالخصوص ملک کے فیصلہ ساز اداروں میں ان کی نمائندگی اور انہیں با اختیار بنانے کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کے حوالہ سے جو حالات موجود ہیں اس وقت پنجاب کی چیف ایگزیکٹو(حکومتی سربراہ) خاتون ہے کابینہ میں اہم ذمہ داریوں پر بھی خواتین ہیں۔حکومتی انتظامی اداروں میں بھی خواتین کی نمائندگی مساوی تو نہیں۔لیکن کافی نمایاں ہے۔کئی اضلاع کی ڈپٹی کمیشنرز اور اسسٹنٹ کمیشنرز خواتین ہیں عدلیہ میں وکلاء میں خواتین نمایاں نظر آتی ہیں۔اہم پروفیشنل گروپوں میں جیسے اساتذہ کرام،ڈاکٹرز،صحافی خواتین موجود ہیں۔سیاسی جماعتوں میں بھی ان کی موجودگی بہت زیادہ تو نہیں مگر ہے لیکن مقامی حکومتیں ان کی موثر نمائندگی سے محروم ہیں اندازہ کریں صوبہ پنجاب میں لوکل گورنمنٹ سروس کے تحت اہم اسامیوں پر عورتوں کی تعداد بہت کم ہے۔چیف آفیسرز آف میونسپل اینڈ ٹاؤن آفیسرز جو ہر لوکل گورنمنٹ میں اہم عہدیداران ہوتے ہیں۔عورتوں کی تعداد بہت ہی کم ہے۔ان اسامیوں کی کل تعداد پانچ ہزار سے زائد ہے۔جس میں چار ہزار کے لگ بھگ یونین کونسل سیکرٹریز بھی ہیں۔خواتین سیکرٹریز ہیں تو ضرور مگر نمایاں نہیں ہیں۔اسی طرح چیف آفیسرز اور دوسرے عہدیداران بھی بہت کم ہیں۔یہ عملی اظہار ہے خود اختیاری اور فیصلہ سازی میں عورتوں کو برابر کی حیثیت سے شریک کرنے کے حوالے سے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ سرکاری پالیسی میں تسلیم کیا جاتا ہے کہ خواتین کو کوٹہ سسٹم مقرر کرکے شامل کیا جائے۔سب سے اہم مقامی حکومتوں کا شعبہ ہے۔ جو سیاسی تربیت کے لئے پرائمری ادارے ہیں۔عورتوں کو اگر ہم فیصلہ سازی میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔ تو ابتدائی سطح کے فیصلہ سازی کی بہترین شکل مقامی حکومتیں ہیں جہاں عام خواتین شریک ہوتی ہیں۔اور سیاسی تربیت بھی حاصل کرتی ہیں۔اور مقامی حکمرانی میں وہ اپنا اہم رول بھی ادا کرتی ہیں۔اس لئے مقامی حکومتوں میں وہ اپنا اہم رول بھی ادا کرتی ہیں۔اس لئے مقامی حکومتوں میں عورتوں کی نمائندگی موثر اور پائیدار بنیادوں پر ہونا چاہیے۔ہمسایہ ملک انڈیا کی مثال لیں وہاں پنچائیتی راج سسٹم میں ایک تہائی نمائندگی کو آئینی طور پر استوار کیا گیا ہے۔نہ صرف پنجائیتی اراکین بلکہ پنچائیتوں کے سربراہان میں بھی ایک تہائی عورتیں ہیں۔پاکستان میں بلوچستان،سندھ میں تو یہ نمائندگی ایک تہائی ہے۔گو کہ مقامی حکومتوں کی سربراہی میں نہیں ہے مگر خیبر پختونخواہ میں اور پنجاب میں بہت کم ہے۔خیبر پختوخواہ میں نیبر ہڈ اور ویلج کونسلوں میں کل7اراکین میں ایک خاتون ہے۔ جبکہ پنجاب کے حالیہ قانون مجریہ 2025میں 13 رکنی یونین کونسل میں صرف ایک خاتون ہو گی۔گہ کہ جنرل نشستوں پر خواتین کے لئے انتخابات میں شمولیت کی کوئی پابندی نہیں ہے۔مگر فی الوقت مخصوص نشستوں پر بھی نمائندگی کو ایک تہائی(33 فی صد) یقینی بنانا ضروری ہے۔پھر ان مخصوص نشستوں کا طریقہ انتخاب بھی قابل اعتراض ہے۔انہیں بالغ رائے دہی کی بنا ء پر براہ راست خفیہ بیلٹ کے ذریعہ منتخب کیا جانا ضروری ہے تا کہ وہ اپنا مخصوص حلقہ انتخاب بنا سکیں اور عوامی تائید حاصل کر سکیں۔اس سارے پس منظر میں ضروری ہے۔کہ اس سال8مارچ 2026ء کو عورتوں کو با اختیار بنانے کے دن کے طور پر منایا جائے اور دیگر ایشوز کے ساتھ ساتھ مقامی حکومتوں میں ان کی براہ راست 33فی صد نمائندگی کو قانونی تحفظ دیا جائے۔بلکہ سیاسی جماعتوں کو پابند بنایا جائے۔کہ وہ کم از کم دس فی صد امیدوار خواتین میں سے لینے پر پابند ہوں۔






