وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کا صوبائی کابینہ اجلاس سے خطاب

وفاقی حکومت نے ایک بار پھر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر کے عوام پر مہنگائی کا بوجھ بڑھا دیا، سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پاکستان کی تقریباً 45 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے جا چکی ہے۔موجودہ مہنگائی کا بوجھ غریب، مڈل کلاس اور اپر مڈل کلاس سب برداشت نہیں کر پا رہے۔وقتی اور نمائشی اقدامات سے مسائل حل نہیں ہوں گے، مستقل اور دیرپا پالیسی ناگزیر ہے۔ عمران خان کے دور میں عالمی وبا کے باوجود معیشت6.1 فیصد شرح سے ترقی کر رہی تھی، سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ کورونا وبا کے دوران عالمی سطح پر مہنگے تیل کے باوجود عوام کو ریلیف دیا گیا۔پیٹرول کی قیمت ماضی میں 150 روپے تک محدود رکھی گئی، موجودہ دور میں 450 روپے سے تجاوز کر گئ ہے۔ مسلط شدہ حکمران عوام پر مسلسل بوجھ ڈال رہے ہیں، ان کے پاس نہ کوئی پالیسی ہے نہ بحران سے نکلنے کا واضح منصوبہ،خیبر پختونخوا حکومت کی موٹر سائیکل سواروں اور کسانوں کے لیے ریلیف پالیسی کو قومی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔ قومی بحران کے باوجود خیبر پختونخوا حکومت پاکستان کے مفاد میں کردار ادا کر رہی ہے۔ وفاق کی جانب سے صوبائی فنڈز میں کٹوتی کی کوششوں کا مؤثر مقابلہ کیا گیا۔ این ایف سی میں صوبے کا حصہ مکمل طور پر ادا نہیں کیا جا رہا۔قبائلی اضلاع کو مالی طور پر مکمل ضم نہ کرنا وفاق کی ناکامی ہے، قبائلی اضلاع کا حق دیگر صوبے استعمال کر رہے ہیں۔ حالیہ سیلاب اور کلاؤڈ برسٹ سے ہونے والے نقصانات کا بوجھ صوبے نے خود برداشت کیا۔ ناکام قومی پالیسیوں کے باعث دہشتگردی بڑھی اور عوام کو گھروں سے جبری انخلا پر مجبور کیا گیا۔دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بھی صوبہ اپنے وسائل استعمال کر رہا ہے، وفاق سے امداد نہیں مل رہی۔عوامی مینڈیٹ سے آنے والی قیادت ہی عوام کے مسائل کا ادراک رکھتی ہے۔چور دروازوں سے آنے والی قیادت عوامی مسائل سے لاتعلق ہوتی ہے۔درآمدات میں اضافہ اور برآمدات میں کمی سے تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے۔ ڈالر کی قدر میں اضافے سے مہنگائی مزید بڑھے گی پیٹرول مہنگا ہونے سے بجلی، مہنگائی اور بے روزگاری میں مزید اضافہ ہوگا۔وفاقی حکومت کو فوری طور پر واضح اور جامع معاشی پالیسی پیش کرنی چاہیے، خیبر پختونخوا حکومت صوبائی سطح پر کرائسز مینجمنٹ پالیسی تشکیل دے گی۔ مہنگائی کے اثرات کم کرنے کے لیے مزید ریلیف اقدامات جلد متعارف کرائے جائیں گے۔صوبائی حکومت عوام کو مہنگائی کے بوجھ تلے دبنے نہیں دے گی۔

جواب دیں

Back to top button