*وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت مون سون کنٹی جنسی پلان سے متعلق اہم اجلاس*

اجلاس میں صوبائی و ضلعی سطح پر تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔وزیراعلیٰ نے مون سون سے قبل بھرپور پیشگی تیاریوں کیلئے تمام ضروری فنڈز فراہم کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ بروقت اقدامات سے قیمتی انسانی جانوں اور انفراسٹرکچر کو ممکنہ نقصانات سے محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔اجلاس میں تمام اضلاع میں ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آپریشن سینٹرز کو فعال رکھنے اور 24 گھنٹے ڈیوٹی روسٹر نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے حساس علاقوں کی ونریبلٹی میپنگ، ایس او پیز کی ٹریننگ اور ماک ایکسرسائزز 15 جون تک مکمل کرنے کی ہدایت جاری کی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ گلیشیئر جھیلوں، دریاؤں اور بارشوں کی روزانہ بنیادوں پر مانیٹرنگ جاری ہے جبکہ نالوں، برساتی چینلز، کلورٹس اور سیوریج لائنوں کی صفائی کیلئے 30 مئی کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے۔ نکاسی آب مہم کے تحت 4802 میں سے 4099 نالوں اور 635 کلومیٹر سے زائد ڈرینج لائنز میں سے تقریباً 598 کلومیٹر کی صفائی مکمل کرلی گئی ہے۔وزیراعلیٰ نے محکمہ آبپاشی کو فلڈ پروٹیکشن ورکس، ٹیلی میٹری سسٹم کی فعالیت اور تجاوزات کے خاتمے کیلئے اقدامات مزید تیز کرنے کی ہدایت کی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ مون سون سے قبل تجاوزات کے خلاف کارروائیوں میں 794 میں سے 524 تجاوزات ختم کی جا چکی ہیں جبکہ باقی کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ریسکیو 1122 نے مون سون کنٹی جنسی پلان مکمل کر لیا ہے اور مختلف مقامات پر واٹر ریسکیو پوائنٹس قائم کیے جا رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے ریسکیو آلات، کشتیوں اور واٹر پمپس کی دستیابی اور فعالیت کی تصدیق 15 جون تک مکمل کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس میں ادویات، آئی وی فلوئیڈز، اینٹی اسنیک وینم، او آر ایس، خیموں، نان فوڈ آئٹمز اور دیگر امدادی سامان کی پیشگی دستیابی یقینی بنانے کی ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیراعلیٰ نے پی ڈی ایم اے کو 15 جون سے قبل تمام مطلوبہ امدادی سامان کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ فنڈز کی تقسیم اضلاع کی ضروریات اور ونریبلٹی انڈیکس کے مطابق کی جائے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ تمام 36 اضلاع میں کمیونٹی بیسڈ ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ کمیٹیوں کی تشکیل کا عمل تقریباً مکمل ہو چکا ہے اور 1220 میں سے 1214 کمیٹیاں نوٹیفائی کی جا چکی ہیں۔ اسکولوں اور سی بی ڈی آر ایم مراکز میں ریلیف کیمپس کی تیاری 25 مئی تک مکمل کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا جبکہ محکمہ تعلیم نے 185 کیمپ اسکولوں کیلئے ایجوکیشن کنٹینیوٹی پلان تیار کر لیا ہے۔وزیراعلیٰ نے فیلڈ اسٹاف کی ایویکوایشن اور فرسٹ ریسپانس ٹریننگ 30 مئی تک مکمل کرنے، تمام کلیدی افسران کی رابطہ فہرستیں اپڈیٹ رکھنے اور ایکسکیویٹرز، لوڈرز، ٹریکٹرز سمیت ہنگامی مشینری کی تیاری یقینی بنانے کی ہدایت کی۔اجلاس میں عوامی آگاہی مہم کے تحت حفاظتی پیغامات، انخلا ہدایات اور ہیلپ لائنز جاری کرنے، بجلی کے کھمبوں، ٹرانسفارمرز اور خطرناک درختوں کے معائنے، اور سیلابی علاقوں میں نہانے و فشنگ پر دفعہ 144 نافذ کرنے کیلئے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔محکمہ سیاحت نے سوات، کاغان، گلیات، چترال اور کمراٹ سمیت مختلف سیاحتی مقامات پر مانیٹرنگ سخت کر دی ہے جبکہ 156 ٹورازم پولیس اہلکار اہم سیاحتی مقامات پر تعینات کیے جا چکے ہیں۔وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے سی اینڈ ڈبلیو حکام کو ہدایت کی کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں سڑکوں کی بروقت بحالی اور آمدورفت ہر صورت یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی ایمرجنسی میں ریسکیو آپریشن میں تاخیر ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔اجلاس میں اہم صوبائی محکموں کے کنٹنجنسی پلانز کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا اور خامیوں کی اصلاح کے بعد اپڈیٹڈ پلانز جلد جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔

جواب دیں

Back to top button