پنجاب حکومت اور ڈنمارک کا گرین اقدامات اور ویسٹ ٹو انرجی میں تعاون بڑھانے پر اتفاق، ڈنمارک کی سفیر مسز ماجہ مارٹنسن کی وزیر بلدیات کے ساتھ ملاقات

پنجاب حکومت اور ڈنمارک نے ماحول کے تحفظ کیلئے گرین اقدامات اور ویسٹ ٹو انرجی منصوبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ پیشرفت پاکستان میں ڈنمارک کی سفیر مسز ماجہ مارٹنسن Maja Mortensen کی وزیر بلدیات ذیشان رفیق کے ساتھ ملاقات کے دوران سامنے آئی۔ پنجاب سول سیکرٹریٹ میں ملاقات کے موقع پر سیکرٹری لوکل شکیل احمد میاں اور ڈنمارک کے سرمایہ کاروں کا وفد بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران فریقین کا مستقبل میں رابطے جاری رکھنے پر اتفاق ہوا جبکہ رفیسوڈ ڈی رائیوڈ فیول Refused Derived Fuel (RDF) اور نامیاتی مصنوعات کی تیاری پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ڈینش سفیر ماجہ مارٹنسن نے سُتھرا پنجاب پروگرام کے آغاز اور کامیابی پر وزیراعلی مریم نواز شریف کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ڈنمارک ماحول دوست اقدامات کو نہایت اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پنجاب میں ویسٹ ٹو ویلیو پروگرام میں تعاون کا جائزہ لے رہے ہیں۔ وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے معزز مہمان کو بتایا کہ سُتھرا پنجاب دنیا کا صفائی کا سب سے بڑا پروگرام بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تحفظ کیلئے وزیراعلی مریم نواز کا ویژن بالکل واضح ہے۔ سُتھرا پنجاب کے تحت صوبہ بھر میں ایک کروڑ سولہ لاکھ ٹن ویسٹ ڈمپ کیا جاچکا ہے۔ وزیراعلی مریم نواز کی ہدایت پر سُتھرا پنجاب کے ویسٹ ٹو ویلیو فیز پر کام جاری ہے۔ اس ضمن میں لاہور، ڈی جی خان اور چکوال میں پائلٹ پراجیکٹس شروع ہیں۔ بائیوگیس کے علاوہ فیڈ سٹاک کی تیاری کے منصوبے بنائے گئے ہیں۔ ذیشان رفیق نے کہا کہ سُتھرا پنجاب کے تحت لکھوڈیر لاہور سمیت پنجاب میں 150 لینڈ فِل سائٹس بنائی گئی ہیں۔ ویسٹ کو مواقع کے طور استعمال کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ڈنمارک کی سفیر مسز ماجہ مارٹنسن نے دوطرفہ تعاون پر اظہار اطمینان کرتے ہوئے کہا کہ ویسٹ صرف ویسٹ نہیں بلکہ انرجی کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ دنیا کو ماحول کے تحفظ کے لئے فوسل فیول پر انحصار کم کرنا ہوگا۔ ماجہ مارٹنسن نے کہا کہ اگلی بار وزیراعلی مریم نواز سے ملاقات کے لئے پھر لاہور آئوں گی اور یہاں لینڈفِل سائٹ کا بھی معائنہ کروں گی۔ ڈینش سفیر نے کہا کہ سُتھرا پنجاب میں ویسٹ ٹو انرجی کا بہت بڑا سکوپ موجود ہے۔ میرا پاکستان میں گرمیوں کا پہلا تجربہ ہے اور لاہور کی تو بات ہی کچھ اور ہے۔سیکرٹری لوکل گورنمنٹ شکیل احمد میاں نے بتایا کہ لکھوڈیر سائٹ پر روزانہ چھ ہزار ٹن ویسٹ جمع ہوتا ہے۔ ہم ویسٹ کی چھانٹی کیلئے ڈنمارک کی مہارت سے فائدہ اٹھانا اور گرین ایجنڈے پر دوطرفہ تعاون بڑھانا چاہتے ہیں۔ ملاقات کے دوران کنسیپٹ پیپر اور مشترکہ فیزبلٹی تیار کرنے کا بھی فیصلہ ہوا جبکہ ڈینش سرمایہ کار پرسیڈربرگ Per Cedeberg نے لاہور میں بائیو فیول پلانٹ لگانے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔

جواب دیں

Back to top button