اس بات میں کوئی دوسری رائے نہیں ہے کہ جدید جمہوری معاشروں میں عوام کی روز مرہ ضروریات زندگی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی مقامی حکومتوں کے ذریعہ ہوتی ہے۔اور مقامی حکومتیں مقامی رہائشی عوام کے منتخب نمائندوں پر مشتمل کونسلوں کے ذریعے چلائی جاتی ہیں۔ان مقامی حکومتوں کو کہیں میونسپل ادارے کہا جاتا ہے۔کہیں یہ کاﺅنٹی کہلاتی ہیں۔کہیں لوکل کونسلیں۔کہیں پنچائیتیں اور ہمارے ملک میں یونین کونسلیں،خیبر پختونخواہ میں میں ویلج اور نیبر ہڈ کونسلیں کہتے ہیں۔مگر ان کے فرائض ذمہ داریاں دنیا بھر میں ملتی جلتی ہیں اور ہر طرح کے معاشروں میں یہ منتخب کونسلوں کے ذریعہ چلائی جاتی ہیں۔یہ منتخب کونسلیں ضروریات کی نشاندہی بھی کرتی ہیں۔منصوبہ سازی بھی کرتی ہیں اور عمل درآمد اور عمل درآمد پر نگرانی بھی کرتی ہیں۔دنیا کے سبھی میٹروپولیٹن شہروں میں آبادی بھی زیادہ مرتکز ہوتی ہے۔ضروریات بھی زیادہ ہوتی ہیں۔ان میگا شہروں میں مقامی حکومتی نظام قدرے پچیدہ ہوتا ہے۔بہت زیادہ ذیلی محکمے اتھارٹیاں اور پرائیویٹ کمپنیاں بھی بنیادی سہولیات فراہم کر رہی ہوتی ہیں۔اس لئے دنیا بھر میں ایسے شہروں میں میٹروپولیٹن ،میونسپل کارپوریشنیں ہوتی ہیں۔لندن کونسل کا مئیر ،نیو یارک کا مئیر،روم کا مئیر،استنبول کا مئیر،قاہرہ کے مئیر نے ان سب سے زیادہ شہرت پائی۔پاکستان میں بھی کراچی میں 6اضلاع ہیں۔مگر شہر کا ایک مئیر ہے۔دنیا بھر میں مقامی حکومتیں کسی نہ کسی بڑے فریم ورک میں کام کرتی ہیں۔امریکہ، برطانیہ،فرانس ،ساﺅتھ افریقہ،ترکی،انڈیا،بنگلہ دیش،نیپال،مالدیپ،سری لنکا میں مقامی حکومتیں متحرک اور فعال ہیں۔ان سب جگہہوں پر کچھ پہلو یکساں ہیں۔ان سب ممالک میں مقامی حکومتیں گراس روٹ سطح پر عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی اور دستیابی کو یقینی بناتی ہیں۔اور یہ سب ملکی سطح پر (صوبائی فریم ورک) میں متحرک ہوتی ہیں۔مگر اتنی با اختیار ہوتی ہیں کہ ان کے کام میں ریاستی اور مرکزی،وفاقی حکومتیں مداخلت نہیں کرتیں۔پھر یہ باوسائل بھی ہوتی ہیں۔کئی ممالک میں مرکزی سطح پر جمع ہونے والا ٹیکس بہ شمول انکم ٹیکس سے ان مقامی حکومتوں کو مناسب شئیر قانونی طور پر فراہم ہوتا ہے۔ہر جگہ وفاقی حکومتیں منتخب مئیرز اور منتخب کونسلوں کی نگرانی میں کام کرتی ہیں۔پاکستان میں بھی 1959ءسے ایسا ہوتا آیا ہے۔ما سوائے 2001 ءتا2010 ءکا عرصہ جب ضلعی حکومتوں کا ایک مکمل درجہ جاتی حکومت قائم کی گئی ہے۔ان دس سالوں کے علاوہ پاکستان بھر میں مقامی حکومتوں کا تنظیمی ڈھانچہ یکساں رہا ہے۔استثنا صرف خیبر پختوخواہ میں2013ءکا ماڈل رہا ہے۔جو مشرف حکومت سے ملتا جلتا رہا ہے۔وگرنہ دیہی اور شہری علاقوں میں الگ الگ نوعیت کی مقامی حکومتیں چلی آ رہی ہیں۔اور ابتدائی سطح پر یونین کونسلیں ہوتی ہیں۔جن کا تصور ایوب خان نے بنیادی جمہوریتوں کے حوالہ سے متعارف کرایا تھا۔اب تک نام اور تصور وہی ملتا آیا ہے۔
اب آ کر 2026ءمیں پنجاب حکومت اور وفاقی حکومت نے اس روائتی تصور کو تبدیل کر دیا ہے۔جزوی طور پر اب پنجاب کے میٹروپولیٹن میگا شہروں میں ٹاﺅن کارپوریشنیں ہوں گی۔کوئی میٹروپولیٹن نہیں ہو گا ،جبکہ ضلع کا ایڈمنسٹریٹر بد ستورزڈپٹی کمشنر صاحب بہادر ہونگے۔جو ضلع بھر کی بالائی سطح کی مقامی حکومتوں کے لئے پرنسپل اکاﺅنٹنگ آفیسر بھی ہو گاےاور پھر دس صوبائی محکمے ضلع بھر میں اتھارٹیوں کے ذریعہ فنکشنل ہوں گے۔جن کے چیف ایگزیکٹو سرکاری ملازم ہوں گے۔جن کا بجٹ صوبے سے آئے گا۔اور اتھارٹیوں کے ملازم بھی لوکل گورنمنٹ کیڈر سے نہیں ہوں گے۔البتہ ان کے سربراہ ضلع کی سب سے بڑی مقامی حکومت(آبادی کے لحاظ سے) کے مئیر تین تین ماہ کے لئے باری باری ان اتھارٹیوں کے سربراہ ہوں گے۔جبکہ ضلع کا انتظامی سربراہ ڈپٹی کیشنر ،پولیس آفیسر،تعلیم اور صحت ،لیبر،سوشل ویلفئیر،ٹورازم،ٹرانسپورٹ کے محکمے سبھی پر آپریشنل ہوں گے۔تو پھر ٹاﺅن میں منقسم کرنے کا خلاصہ کیا ہے۔یہ کام نہیں کر سکے گا۔دنیا بھر میں میٹروپولیٹن شہروں کے لئے مربوط نظام اور قیادت ہوتی ہے۔یہاں یہ انوکھا تجربہ کرنے کے پیچھے صرف ایک سوچ ہے کہ سارے ٹاﺅن اور ضلعی اتھارٹیاں صوبہ کی حکومت اور افسروں کے زیر نگرانی ہی کام کر سکیں۔






